طاقت کا سر چشمہ

طاقت کا سرچشمہ

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
اخبارات میں شہ سرخی آئی کہ حکومت نے پڑو سی ملک سے چینی اور کپاس در آمد کرنے کے لئے اکنا مک کوارڈینشن کو نسل کی سفا رشات حا صل کرلئے دو دن بعد اخبارات میں شہ سرخی آئی کہ کا بینہ نے چینی اور کپا س درآمد کرنے کی منظور ی نہیں دی دونوں بڑی خبریں تھیں اور شہ سرخی میں جگہ پا نے کے قابل تھیں عوامی مقا مات پر دو یا دو سے زیا دہ شہری ملتے ہیں تو اس خبر کے دونوں پہلووں پر بحث ہو تی ہے بحث کا لب لباب یہ ہے کہ ای سی سی نے کیوں سفارش کی اور کابینہ نے سفارش کو کس بنیا د پر مسترد کیا 

اس بحث میں بڑی بات یہ ہے کہ ای سی سی نے وسیع تر قومی مفاد میں چینی اور کپاس کی نئی کھیپ ہمسایہ ملک سے درآمد کرنے کی سفارش کی تھی لیکن طاقت کا سرچشمہ اس طرح کی سفارش سے خوش نہیں تھا اور طاقت کاسر چشمہ کوئی اور نہیں صرف میڈیا ہے جس کے لئے اردو میں ذراءع ابلاغ کی ترکیب استعمال ہوتی ہے آج کل کے ذراءع ابلاغ میں اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن چینلوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا یعنی فیس بک، ٹو ئیٹر، انسٹا گرام وغیرہ کا بھی بڑا حصہ ہے اور میڈیا کا یہ جن بوتل کے اندر بند نہ ہو تو حکومت اپنی صوابدید سے کچھ نہیں کر سکتی

ایک زما نہ تھا جب عوام کو طا قت کا سر چشمہ کہا جاتا تھا یہ 1970کا عشرہ تھا پھر وہ دور آیا جب علماء، مدارس اور مسا جد یعنی محراب و منبر نے طاقت کے سر چشمے کا منصب سنبھا لا یہ 1980ء کا عشرہ تھا پھر ایسا دور آیا جب ’’نا دیدہ ہاتھا ‘‘کو طاقت کا سر چشمہ قرار دیا گیا یہ 1990کا عشرہ تھا اس کے بعد حالات نے پلٹا کھا یا اور سب کچھ بدل گیا طاقت کا سر چشمہ بھی ’’نا دیدہ ہاتھ‘‘ کے ہا تھوں میں نہیں رہا بلکہ طاقت میڈیا کے ہا تھوں میں آگئی پہلے ذہن سازی کرو پھر قدم اُٹھا ءو اور جب قدم اُٹھا ءو تو تمہارے حق میں کوئی بولنے اور لکھنے والا ضرور ہونا چا ہئیے تمہاری پُشت پر میڈیا کی طا قت نہیں ہوگی تو تُم قدم آگے نہیں بڑھا سکو گے

یہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی حقیقت ہے پڑو سی ملک سے چینی اور کپا س در آمد کرنے کی سفارش چار بنیا دوں پر کی گئی تھی پہلی وجہ یہ تھی کہ پڑو سی ملک سے در آمد ی سودا ہ میں دیگر مما لک کے مقا بلے میں سستا پڑتا ہے دوسری وجہ یہ تھی کہ در آمدی سودا معیار کے لحا ظ سے بھی دیگر ملکوں کے ما ل سے بہتر ہے تیسری وجہ یہ تھی کہ پڑو سی ملک سے تعلقات کی بہتری اور بحا لی کا یہ پیش خیمہ ہو سکتا تھا چو تھی وجہ یہ تھی کہ ہمسا یہ ملک کے ساتھ تعلقات کی بحا لی کے بعد پا کستان کی ساکھ عالمی سطح پر بہتر ہو سکتی تھی بڑی طاقتوں کے سامنے پا کستان کی وقعت میں اضا فہ ہو سکتا تھا یہ ایسے نکا ت ہیں جن پر مختلف شعبوں کے پیشہ ور لو گ ہی سوچ بچار کر سکتے ہیں اس کام میں وزارت خزانہ کا بھی حصہ ہے وزارت تجا رت کا بھی ہا تھ ہے اور وزارت خا رجہ بھی پوری طرح فیصلے میں شریک ہو سکتی ہے تینوں وزارتوں کے ما ہرین مل بیٹھ کر ہی کسی بہتر نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں شا ید اقتصا دی رابطہ کو نسل کی سفارشات میں ایسے کئی امور کو زیر غور لایا گیا ہوگا ما ہرین نے معا ملے کے مختلف پہلووں کا جا ئزہ لیا ہوگا لیکن میڈیا کا مسئلہ بالکل الگ ہے قیامت کے دن کا ایک منظر قرآن پا ک کی سورہ یٰسن میں آیا ہے منظر یوں ہے کہ اُس وقت آپ کے ہاتھ پاوں آپ کے خلاف گوا ہی دینگے میڈیا میں ہاتھ پاوں بھی آپ کے خلا ف گواہی دیتے ہیں آپ کی زبان بھی آپ کے خلاف گواہ بن کر میدان میں آجا تی ہے گذشتہ کل حزب اختلا ف میں بیٹھ کر جو لو گ حزب اقتدار کو ’’ مو دی کا یار‘‘ کہا کر تے تھے آج وہی رویہ اُن کے پاوں کی زنجیر بن گیا ہے ہر سیاسی جماعت اور ہر سیا سی لیڈر کو اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا ہو تا ہے کہ آج کی حزب اختلا ف کل حکومتی پارٹی کے روپ میں آسکتی ہے

آج حزب اختلا ف حکومتی پارٹی کے خلا ف جو زبان استعمال کرتی ہے وہی زبان آئندہ کل حکومت میں آنے کے بعد اس کے گلے پڑسکتی ہے میڈیا ایسا منہ زور گھوڑا ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے نہ حزب اختلا ف کو بخشتا ہے نہ حزب اقتدار کو اضا فی نمبر دے دیتا ہے اس لئے جس نے بھی کہا سچ کہا کہ طاقت کا سر چشمہ میڈیا ہے۔

One Reply to “طاقت کا سرچشمہ”

  1. For decades people of Pakistan have been fooled that they are the source of power but actually power always vests with people who have nothing to do with democracy, elections or parliament. Saying that source of power has been shifting is naive and thinking that media is the source of power is childish.
    In the recent case, it was not media that forced Imran Khan to change his decision of resuming trade with India rather it was the military that put sense into his head that such a decision can never be taken by any civilian govt without clearance from the military.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *