مرد کی قربانی

نوائے سُرود

 
شہزادی کوثر
بچوں کی خواہشات اور گھر کی ضروریات پوری کرتے کرتے داڑھی میں چاندی کے تار چمکنے لگتے ہیں اور سر بالوں سے خالی ہو جاتا ہے لیکن باپ کو کوئی فکر نہیں ہوتی جس کی پوری کائنات چھوٹے سے گھر پر مشتمل  ہوتی ہے۔ ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور بہنوں کا شہزادہ حالات کی بھٹی میں سلگتا سلگتا جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے اپنا آپ مختلف نظر آتا ہے۔  وہ جو اپنی ناک پہ مکھی بیٹھنے نہ دیتا تھا اپنے کھانے پینے اور لباس کے معاملے میں انتہائی حساس ہوا کرتا تھا، کہاں چلا گیا؟ جس کی الماری میں ہر موسم اورتہوار کے لیے طرح طرح کا لباس ہوتا تھا  آج عید پہ بھی اپنے لئے کچھ نہیں لیتا کیونکہ اس کی جیپ اگر اجازت دیتی بھی ہے تو صرف بیوی اور بچوں کی فرمائش پوری کرنے کی۔۔
اپنے لیے کچھ لیتا بھی ہے تو صرف جرابیں اور رومال، اس سے زیادہ کی اسے ضرورت نہیں ہوتی بقول اس کے پچھلے سال عید پہ جو کپڑے بنوائے تھے وہ بالکل نئے ہیں ۔ جوتے بھی ٹھیک ٹھاک حالت میں ہیں چمار نے ان کی مرمت عمدہ طریقے سے کی ہے کہ مزید دو تین سال چل جائیں گے۔   کبھی کسی نے سوچا ہے کہ مرد حضرات کو کیا واقعی کسی چیز کی خواہش نہیں ہوتی ؟ ان کے جوتے اتنے سالوں کے مسلسل استعمال سے بھی نئے ہی رہتے ہیں؟ کیا عمدہ اور نفیس ملبوسات کا انہیں شوق نہیں ہوتا؟   یہ ممکن ہی نہیں ۔ وہ بھی انسان ہیں انہیں بھی اچھا دکھنے کا شوق ہوتا ہے بہترین کپڑوں میں ملبوس رہنے کی خواہش ہوتی ہے لیکن وہ اپنی آرزوں کو قربان کرنا سیکھ جاتے ہیں۔
اپنے پیاروں کی خوشی کے سامنے اپنی خواہشات کو بھول جانے کا فن انہیں بخوبی  آتا ہے۔ انہیں اگر کوئی آرزو ہے بھی تو بس اتنی کہ میرے گھر والے خوش رہیں ۔میرے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہو ،وہ کسی کے سامنے احساس محرومی کا شکار نہ ہوں ۔میری شریک حیات مطمعن رہے۔ میرے والدین اور بہن بھائی خوشحال زندگی گزاریں  انہیں کسی کے سامنے جھولی پھیلانے کی ضرورت نہ پڑے۔ ان سوچوں میں ان کی راتوں کی نیند بھی اڑ جاتی ہے کیونکہ آنے والے دنوں کا مقابلہ کرنے کےلیے کچھ جمع پونجی بھی ضروری ہے  جو بہنوں کی شادی ،بچون کی تعلیم یا بوڑھے والدین پر خرچ کیا جا سکے۔ موسم کے گرم وسرد سہتے ہوئے ان کے ہاتھوں کی جلد کھردری ہو جاتی ہے ۔چہرے پر ترو تازگی باقی نہیں رہتی، آنکھوں کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ ان کے گھر والوں کی آنکھیں سدا چمکتی رہیں۔ سارا دن محنت مزدوری کر کے شام کو گھرلوٹتے ہوئے سوچتے ہین کہ آج کیا چیز لے کے جاوں جس سے گھر والے خوش ہوں۔خود سوکھی روٹی بھی کھا لیں گے لیکن بیوی بچوں کےلیے من و سلوی کی آرزو کریں گے۔ گھرہستی کے اخراجات پورے نہ ہوں تو پردیس جا کر گھر والوں سے جدائی کی اذیت برداشت کرتے ہیں ،وہاں انہیں در در کی کتنی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں اس سے سوائے اللہ کے کوئی واقف نہیں ہوتا۔ اپنے بچوں کی توتلی زبان میں ہونے والی شہد بھری گفتگو، اس کی معصوم شرارتیں اور اس کا اٹھنے والا پہلا قدم انہیں دیکھنا نصیب نہیں ہوتا کیونکہ بچوں کے کل کےلیے وہ اپنا آج قربان کرتے ہیں۔اس بیتتے سمے کے ساتھ بیوی کی اٹھتی جوانی ڈھل جاتی ہے ،اور نوجوان سہاگن کی جگہ ایک ادھیڑ عمر کی خاتون کو اپنا منتظر پاتا ہے ۔والدین کی آنکھیں بیٹے کی راہ تکتے تکتے پتھرا جاتی ہیں انہیں کندھا دینا تک بیٹے کو نصیب نہیں ہوتا۔ ہمارے گھروں کے یہ ہیروز، اور معاشرے کے یہ بے لوث کردار خود کو روز حالات کی بھینٹ چڑھاتے ہیں لیکن ان کی قربانی کسی کو نظر نہیں اتی .معاشرے میں انہیں ظالم،بے حس ،ماں کا چیلا،بیوی کا غلام ،بے غیرت اور پتہ نہیں کیا کیا القابات سے نوازا جاتا ہے۔ اگر ماں کی فرمانبرداری کرے تو بیوی جینا حرام کرتی ہے اور اگر بیوی کو اہمیت دے تو ماں کے روٹھ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
اس غریب کے سر پہ ہمیشہ دو ننگی تلواریں لٹکتی ہیں جنہیں ایک ہی نیام میں رکھنا اس کی سب سے بری ذمہ داری ہے ،جس سے عہدہ برآہ ہوتے ہوئے اگر کوئی کوتاہی ہو جائے تو معاف کر دینا چاہیئے۔ مرد کی قربانیوں کی داستان طویل ہے ،باپ ،بھائی ،شوہر اور بیٹے کے روپ میں ہمارا حوصلہ ہیں۔ ہمارے سروں پر چھت ان کی وجہ سے ہے ۔ ہمیں نام انہی سے ملا ہے ۔یہی ہمارا اعتماد اور طاقت ہیں۔ زندگی کی رونقیں انہی کے دم قدم سے ہیں ۔یہی ہماری عزتوں کے محافظ ہیں ۔اللہ زندگی کی سختیوں اور آزمائشوں سے انہیں اپنی امان میں رکھے۔۔۔۔      آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *