نوشتہ دیوار سے دیوار مہربان تک

0

قسط نمبر 2

تحریر پروفیسراسرار الدین

ویسے شہروں کی صفائی اپنے شہریوں کے حقوق میں شامل ہے ان کو صاف شفاف ماحول ملنا ان کا حق بنتا ہے اور سیوک انتظامیہ کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا بدرجہ اتم اہتمام کرے نیز شہریوں کے لئے خو د بھی لازم ہے کہ اپنے شہر کی صفائی کی حفاظت کریں لیکن ہمارے ہاں آوا کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ ہر ایک حتی الامکان شہرکی گند گی کا خوب حصہ دار ہے۔

بد قسمتی سے آج کل کے زمانے میں پو لیتھین کے شا پر، جوس کین اور ایسی چیزوں کی بھر مار ہو گئی ہے ہر کوئی استعمال کر کے جہاں جی چاہے پھینک دیتا ہے۔ نہ کوئی پو چھنے والا ہے نہ سمجھانے۔ والا میرے ایک دوست نے ملیشیاء کے ایک شہر کا بتایا اس نے انجانے میں سگریٹ کی ڈبی پارک میں ایک جگہ پھینکدی اسی وقت پارک کا اٹنڈنٹ آیا اوراسکو پا نج ڈالر جر ما نہ کردیا۔ اس نے ہزار حجت کی مگر کسی نے نہ ما نا۔ صفا ئی کی تر تیب ہمارے سکو لوں سے ہونی ضروری ہے۔ جب میں سکول میں تھا۔ سکول کے اساتذہ صاحبان اس زما نے میں اس بات کا بہت خیال رکھتے تھے کوئی بچہ غلط جگہ تھوک نہیں سکتا تھا۔ نہ کا غذ کے ٹکڑے پھینک سکتا تھا۔ اس زما نے میں (یہ میں 60سال پہلے کی بات کررہا ہوں)۔ سکول کے ابتدائی کلاسوں میں ایک مضمون مطالعہ قدرت پڑھایا جا تا تھا جس صحت صفائی کے اہم اصول بتائے جا تے تھے۔ ساتھ ساتھ اساتذہ کرام خو د بھی بچوں کو ضروری باتیں بتا تے تھے۔ جس سے بچوں میں صفا ئی ستھرائی کا شعور پیدا ہو تا تھا۔ اب بھی کسی حدتک یہ ہو تا ہو گا۔ لیکن یہ معاملہ ایسا ہے کہ سب سے پہلے گھر وں میں بچوں کی اس سلسلے میں صحیح تربیت کی جا نی ضروری ہے۔ پھر جا کے عمو می طور پر معا شرے میں اقوام کی تعمیر وجود میں آسکیں ۔ میں نے باہر ممالک میں دیکھا کہ والدین بچوں کو خاص طور پر ٹوائلٹ صحیح استعمال اور اسکو صاف رکھنے کی تاکید کرتے تھے ان کے ذہنوں میں یہ بات مستحکم کرتے تھے کہ جسطرح تم سے پہلے استعمال کرنے والے نے غسلخا نہ صاف شفاف چھوڑا اسی طرح تم نے بھی اسکو استعمال کے بعد صاف شفاف چھو ڑنا ہے تاکہ تمہارے بعد آنے والا تکلیف محسوس نہ کرے۔ بد قسمتی سے صفا ئی بحیثیت قوم ہماری مزاج نہیں بن رہی ہے۔ صفائی چھوٹی چھوٹی چیز سے شروع کرنے کی اگر ہم عادت ڈالیں کہ آگے آسانی ہو گی میرے ایک دوست پروفیسر بتار ہے تھے کہ ایک دفعہ ایک مہمان انگریز پروفیسر کے ساتھ کسی پہا ڑی علا قے میں سفر کررہا تھا کہ راستے میں کھا نے کے لئے کیلے لئے ہوئے تھے جاتے جا تے کیلے اس نے کھا ئے اور مہمان کو کھلائے کھانے کے بعد اس نے کیلے کے چھلکے گاڑی سے باہر پھینکدیئے اور پھر دیکھا کہ مہمان اپنے والے چھلکے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے بیٹھا ہے اس نے اس سے چھلکے لے لئے اور گا ڑی سے با ہر پھینک د یئے۔ انگریز مہمان نے ان کو ایسا کر تے دیکھ کر کہا کہ ایسا تو میں بھی کر سکتا تھا۔ لیکن میں ان کے لئے کوئی مخصوص جگہ کی تلا ش میں تھا کہ وہاں ان کو ٹھکانے لگادوں۔ میرا دوست پر وفیسر ان کی بات سے پا نی پا نی ہو گیا تھا اور کہتا تھا کہ ہم لو گ تعلیم یا فتہ ہو کے بھی صفائی مزاج نہیں بن سکے تو یہ مزاج کب بنے گا۔ بچپن سے بنا نا ہو گا۔

تھوک کا مرض تو کیا کہے۔ ایک فارنر نے کہا کہ تم لو گ کس قدر تھو کتے رہتے ہوں۔ تمہار ی آدہی ڈی ھا ئیڈریشن تو تھوک سے ہوتی ہو گی اور پھر تھوکنے کے لئے کسی بھی خا ص مقام کی ضرورت نہیں ہو تی۔ دوسرے لو گوں کو ہم نے دیکھا کہ ایک تو جتنا ہوسکتا تھو کنے سے پر ہیز اور اگر بہت ضرورت پڑ تی ہے تو جیب میں رومال یا ٹشو پیپر پر تھوک کے اپنے پاس سنبھال کے رکتھے اور بعد میں کہیں تھو کدان یا ڈسٹ بن میں ڈالتے۔

 اپنے ملک کو صاف رکھو اپنے ملک کو سبزو شاداب رکھو صفائی نصف ایمان اس قسم کی تختیاں لگا نے سے صفائی تھو ڑی آئیگی۔ سر سبزی تھو ڑی آئے گی ۔ چائیے کہ اس سب کچھ کے لئے قوم میں احساس ذمہ داری کا شعور ڈویلپ کرنا ہوتا۔ یہ اسوقت ہو گا کہ جب بچے کی اولین تر بیت گاہ یعنی گھر میں صحیح تر بیت دی جائے۔ جہاں پھر بھی کمی آئے تو کسی مر حلے میں سختی بھی جائز ہو گی۔ جسطرح ملیشیاء میں اس ٹورسٹ کو جرما نہ کیا گیا تھا۔ چترال گول جو شہر کے درمیان سے گزرتا ہے یہاں سے سال بھرصاف پا نی بہتا تھا۔ اب سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ اب اس کی بواور سڑانڈ سے اسکے نزدیک لو گ بے زار ہیں۔ ایک دفعہ ایک جگہ بیٹھے تھے ہم کچھ پرو فیسر وں اور دوسرے حضرات کا ٹور تھا۔ درمیان میں ایک صاحب اٹھنے لگے اور کہا ’’ اگر اجا زت ہو میں وضو توڑ کے آ جا وں‘‘ ۔ ہمارے ساتھ ڈاکٹر نسیم صدیقی صاحب (زولوجی کے چیر مین ) بھی بیٹھے ہوئے تھے وہ بڑے ظرافت پسند شخصیت تھے کہنے لگے بھائی! کما ل کرتے ہولو گوں نے مشرقی پا کستان بغیر اجا زت توڑ دیا اور آپ وضو توڑ نے کے اجا زت لے رہے ہیں۔

ٹوٹی دیوار کے بارے میں ایک شعر سے اکتفاکرتا ہو ں۔ عموماً ٹو ٹی دیواریں ہمارے شاعروں کی ہو تی ہیں ۔ ان بچاروں کو ایسی دیواروں کی مر مت کا مو قع نہیں ملتا اس لئے ان کو یہ مسئلہ ہو جا تا ہے۔ 

دیوار کیا گری میرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے گھر سے راستہ بنا دیا

روزن دیوار ہمارے ایک بزرگ صحا فی عطاء الحق قاسمی (جو بزرگ کہنے پر نا راض ہو جا تے ہیں) تقریباً 50سالوں سے زیا دہ عرصے سے اپنے پا س رکھا ہوا ہے اس روزن میں سے دنیا کو دیکھتے رہتے ہیں ۔ کبھی کبھی دھند میں اسے مسئلہ ضرور ہوتا ہوگا کہ کیا دیکھے اور کسطرح دیکھے بہر حال اسی سے اسکا کام بھی ہو تا رہا ہے اور نام بھی ۔ 77سال میں جا رہے ہیں واقعی جوان ہی ہیں۔

دیوار سے لگا نے والی بات سیا ستدانوں کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پسندیدہ مقولہ ہے اور اب ہم آتے ہیں دیوار مہر بان کی طرف۔

حال میں پشاور کے حوالے سے ایک اور دیوار یعنی ’’دیوار مہربان ‘‘ کا اضافہ ہو گیا ہے جو کہ نہا یت دل خو ش کن ہے۔ اس لئے اس تحریر کو ختم کرنے سے پہلے اس پر کچھ لکھنا دلچسپی سے خا لی نہ ہو گا۔

کچھ عرصے سے حیات اباد پشاور میں کچھ مخیر لو گوں نے دیوار مہربان کے نام سے دیوار یں مخصوص کی ہیں جہاں دوسرے مخیر حضرات کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ کم از کم اپنے استعمال سے زائد اشیاء مثلاً کپڑے بر تن کھانا پیک کی صورت میں، یا اور چیزیں ان جگہوں میں رکھدیں تاکہ ضرورت مند لو گ بغیرقیمت اداکئیے کسی وقت اپنی ضرورت کی چیزیں لے جاسکیں اور رکھنے والے کو فی سبیل اللہ صد قے کا ثواب ملیگا ۔ اب تک یہ پرو گرام بہت ہی کا میاب جارہی ہے ۔ بہتر ہو گا کہ یہ سلسلہ جاری رہے اور زیا دہ سے زیا دہ جگہوں اور مقا مات میں پھیل جائے۔ اس لئے چا ہئیے ایسے نیک کا موں کی ہر طرح سے سرپرستی کی جائے۔ ضروری ہے کہ ایک کا بھی اضا فہ کیا جائے۔ اسکو جدار نا م بھی دے سکتے ہیں۔ یہ شہروں کے گلیوں میں مختلف مقا ما ت پر جا بہ جا دیواروں کے بعض حصوں پر مخصوص جگے سر کاری طور پر متعین کئے جا تے ہیں تاکہ لو گ محلے کے بڑے محلہ دار کی اجازت سے وہاں کوئی اشتہار یا کوئی اطلا ع عام نصب کر سکے۔ اس طرح ہر جگے اشتہاروں اور دیوار نویسی کی صنعت سے چھٹکارا مل سکے۔ مزید یہ فحش قسم کی باتوں کی تشہیر سے لو گ بچ سکیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!