پی ٹی آئی چترال بمقابلہ کریم اللہ

پولیس میں خواتیں کی فٹنس ٹسٹ پر مذہبی قیادت ناراض کیوں؟

سید اولاد الدین شاہ
پولیس یا فوج یا دوسرے سکیورٹی سے منسلک اداروں کے لئے فٹنس ٹسٹ ضروری ہوتا ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ بندہ اس کام کے لئے میعار پر پورا اُترتا ہے کہ نہیں۔ کیونکہ اس کام کے لئے سب سے ضروری بندے کا فٹنس ہوتا ہے۔
ضلع چترال میں خواتین کے لئے پولیس میں بھرتیوں کے سلسلے میں ایٹا کے تحت خواتین کے جسمانی امتحان کی عرض سے پریڈ گراؤنڈ چترال میں دوڑ نے کا امتحان روان ہفتے رکھا گیا تھا۔ اس پر چترال کی مذہبی قیادت سیخ پا ہیں اور اس فعل کو جرم قرار دے رہے ہیں۔
اس سلسلے میں مولانا جمال عبدالناصر کہتے ہیں ہمیں خواتین کے جسمانی امتحان پر اعتراض نہیں۔ اعتراض اس بات سے ہے۔ کم از کم ٹسٹ لینے کے لئے خواتین اسٹاف کو بیجھنا چاہئے تھا۔ خاتون ڈاکٹر ہوتا اور دوڑ اگر لگاتے ہیں اس کے لئے بھی خاتون اسٹاف ہو۔ کم از کم دوڑ کے لئے جو جگہ مخصوص ہے اس کو تو کورور کرے۔
ایٹا والے خواتین کی دوڑ لگا رہے پورا دنیا دیکھ رہا ہے۔  ہمیں اعتراض خواتین کی دوڑ کے نام سے اُن کی تزلیل کرنے سے ہے۔ ٹسٹ کی آڑ میں چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔
شاہی مسجد چترال کے خطیب مولانا خلیق الزماں کہتے ہیں خواتین کسی ادارے میں کام کرتے ہیں یہ اچھی بات ہے۔ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے یا حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر غلط راستے پر جانے سے بہت بہتر ہے کہ خواتین اپنا کاروبار کرے یا کسی ادارے کے ساتھ منسلک ہو کر با عزت کام کرے۔
لیکن سلیکشن کے نام سر بازار خواتین کی دوڑ لگانا ہمارے ثقافت کے خلاف ہے۔  ہزاروں لوگ تماشہ دیکھ رہے خواتین کو دوڑایا جا رہا ہے۔ یہ ٹسٹ پولیس لائن کے اندر بھی لیا جا سکتا تھا یا کسی اور محفوظ جگہ کا تعین کیا جا سکتا تھا۔ ادارے میں موجود لوگون کو اس بات ک خیال رکھنا چاہئے تھا اور ہم ایٹا والوں کے اس فعل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
قاری شبیر احمد نقشبندی نے بھی اس فعل مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ٹسٹ لینا اتنا ہی ضروری تھا۔ کسی با پردہ جگہے کا انتخاب کیا جا سکتا تھا۔ یہ انتہائی نا مناسب فعل ہے۔
اس سلسلے میں ڈی پی او لوئیر چترال عبدل حئی خان سے رائے لینے کی کوشش کی۔ لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔

One Reply to “پولیس میں خواتیں کی فٹنس ٹسٹ پر مذہبی قیادت ناراض کیوں؟”

  1. پاکستان میں خواتین کی نوکری کا مطلب ہی یہ لیا جاتا رہا ہے کہ اب ان کے پردے کا خیال نہیں رکھا جائے گا۔ اس تصوّر کو ختم کرنا چاہئے اور عورتوں کے حقوق کا تحفظ، عزت نفس اور خودداری کا مکمل لحاظ رکھنا چاہئے۔ اگرچہ وہ نوکری کرنے کیلئے مجبور ہیں مگر وہ باعزت ہیں اور انکا تحفظ سب پر فرض ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *