کوشٹ کے مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں: عمائدین

کوشٹ کے مسائل میں بتدریج اظافہ ھورھا ھے، حکومت توجہ دے: عمائیدین

چترال (محکم الدین) اپر چترال کا معروف علاقہ کوشٹ کے عمائدین نے کہا ہے کہ مسائل کی طویل فہرست اور حکومتی عدم توجہ کی بنا پرمشکلات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں اور زندگی روز بروز تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ اپر چترال کے نام پر بننے والی نئی ڈسٹرکٹ نے کوشٹ جیسے پسماندہ علاقوں کو لاوارث بنا دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ فی الحال صرف نام پر چل رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈ تو دور کی بات خود انتظامی اداروں کو چلانے کیلئے مناسب فنڈ دستیاب نہیں۔
گذشتہ روز منعقدہ پریس فورم میں علاقے کے عمائدین سابق ممبر تحصیل کونسل انعام اللہ، محمد یعقوب مصروف، وی سی ممبر حکیم محمد، شجاع احمد، ریٹائرڈ ٹیچر محمد شریف خان، عبداللہ، اعجازالرحمن نے مسائل کے انبار لگا دیے۔ انہوں نے کہا کہ 2015 کے سیلاب میں گاون کوشٹ اور ملحقہ ایریا گہت لشٹ، موردیر، شوگرام وغیرہ کے تمام پل اور سڑکیں سیلاب برد ہو چکے ہیں اور پانچ سال گزرنے کے ان پلوں اور سڑکوں کی بحالی ممکن نہ ہو سکی ہے اور لوگ سفری مشکلات سے دوچار ہیں۔ خصوصا سکول و کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو اپنے اداروں تک پہنچنا ایک مشکل مسئلہ بنا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ناقص موبائل سروس کی وجہ سے لوگوں خصوصا کالج و یونیورسٹی میں آن لائن کلاسیں لینے والے طلبہ کو انتہائی پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ میلوں سفر کرکے نیٹ کی رینج میں رات 12بجے تک آن لائن کلاسیں لیتے ہیں ۔ اور راتوں کو پُر خطر راستوں سے ہوتے ہوئے گھروں کو واپس لوٹتے ہیں ۔ عمائدین نے کہا ۔ کہ بجلی کی ڈسٹری بیوشن لائن کو دور دراز کے پہاڑوں اور سلاءڈنگ ایریا سے گزار کر کوشٹ تک لایا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے بارش اور برفباری کے دوران لائن متاثر ہوتی ہے ۔ اس لئے مطالبہ کیا گیا ۔ کہ کوشٹ کو کوراغ سے گزرنے والی مین ٹرانسمیشن لائن سے بمباغ کے راستے بجلی فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ کوشٹ کا وسیع ایریا سیلابی کٹاءو کی وجہ سے سلاءڈنگ ایریا میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ جس کو مزید سلاءڈنگ سے روکنے کیلئے 900فٹ حفاظتی بند تعمیر کیا جائے ۔ عمائدین نے کوشٹ روڈ کی حالت زار بیان کرتے ہوئے کہا ۔ کہ گاءوں سے گزرنے والی کچی سڑک ماحولیاتی آلودگی کا کارخانہ بن گیا ہے ۔ گاڑیوں کے گزرنے سے اُڑتی دھول اور گردو غبار کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سڑک میں استعمال شدہ زمین اور درختوں کے مالکان کو معاوضہ ادا کیا جائے اور سڑک کو پختہ کرکے ماحولیاتی آلودگی سے نجات دلائی جائے۔ انہوں نے کوشٹ میں پینے کا پانی منصفانہ تقسیم کرنے، ضلعی انتظامیہ اپر اور لوئر چترال سے مختلف این جی اوز کو یہاں کام کر نے پر آمادہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
عمائدین نے لینڈ سٹلمنٹ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے کئی نئے مسائل پیدا کئے ہیں۔ لوگ پہلے ہی سے پریشان ہیں ۔ اب مزید تنازعات پیدا کرکے لوگوں کو الجھایا جا رہا ہے جو کہ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے موجودہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی میں سہولیات کی عدم دستیابی پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ، کہ مریض پرائیوٹ ہسپتال میں علاج کرنے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے گرلزہائی سکول کوشٹ میں غیر مقامی اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے، سکول میں سائنس ٹیچر کے تقرر اور ہائیر ایجوکیشن سے کالج کے طلباء و طالبات کی آمدو رفت کیلئے کوشٹ پل تک کالج بسوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ۔ پریس فورم میں تمام حاضرین نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ۔ کہ تحصیل کونسل موڑکہو کے دفاتر بمباغ میں قائم کئے جائیں۔
سوشل ایکٹی وسٹ اعجاز الرحمن نے مقامی پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ کوشٹ کا علاقہ منشیات کا اڈہ بن گیا ہے۔ کوئی پُرسان حال نہیں ۔ نوجوان منشیات میں دھنستے جارہے ہیں۔ پولیس کے پاس وسائل نہیں یا وہ منشیات فروشوں کی پُشت پناہی کر رہا ہے۔ انہوں نے کوشٹ بوائز ہائی سکول میں 350طلبہ کیلئے صرف دو واش رومز کی دستیابی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور فوری طور پر مزید واش رومز تعمیر کر نے، گرلز پرائمری سکول موڑ کوشٹ کو اپگریڈ کرنے کا مطالبہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.