کیا انصاف ملنا مشکل ہے؟

کیا انصاف ملنا مشکل ہے؟


محمد الیاس خواجہ

 انصاف کیا ہے؟ کیا اسکے لئے بیسیوں کتاب حفظ کرنے پڑتے ہیں یا پھر قانون کی سینکڑوں شقیں جانچنی ہوتی ہیں؟  بالکل نہیں۔ اسلام کا وہی قانون ہے جو قدیم رومی سلطنت کا قانون تھا۔ آنکھ کے بدلے آنکھ کان کے بدلے کان۔ اسلام کے اسی قانون اور انصاف کو دیکھ کر ہی مجوسی، رومی، ترک، بودھا کے پیروکار اور ھندوستانی مسلمان ہوگئے تھے۔ اب یہ حالت ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ ہماری نا انصافیوں سے عبرت حاصل کر رہے ہیں۔ میں چند واقعات بیان کرتا ہوں۔

حضرت ابوبکر صدّیق رض کے پاس صحابہ رض ایک چور پکڑ کر لائے اور سزا کا پوچھنے لگے تو ابوبکر صدیق رض نے کہا کہ چوری ثابت ہوئی ہے تو اسکا ہاتھ کاٹو میرے پاس لانے کی کیا ضرورت ہے۔ معلوم ہوا مختلف اعضاء پچھلی چوریوں میں کاٹے جاچکے ہیں اور یہ پانچویں ہے تو اب کیا کریں؟ حضرت صدیق رض نے فرمایا پھر اسکو مار ڈالو۔ سنن ابن نسائی 4977قصّہ ہے کہ چترال میں سنگور  کے آس پاس کسی جگہ ایک مکان میں بوڑھا آدمی اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا جنکا کوئی بیٹا نہ تھا۔ انکے گھر میں پھلدار درخت تھے جنکا میوہ جوان لوگ گھر میں گھس کر زبردستی کھا جاتے اور اسکے کہنے پر منع نہ ہوتے تھے۔ بوڑھے میں جسمانی طاقت نہ تھی کہ ان کو بھگاتا، مجبوراً چترال کے مہتر کے پاس شکایت لے کر گیا۔ مہتر نے ماجرا سن کر کہا کہ صحن میں اترنے والے کو مار دو، کیا تمہارے پاس بندوق ہے؟ بوڑھے نے نفی میں جواب دیا تو مہتر نے اسکو بندوق جاری کرکے رخصت کر دیا۔ اگلی صبح بوڑھے کو آوازیں آئیں تو صحن میں نکل کر دیکھا کہ کئی جوان درختوں پر چڑھ کر خوبانی کھارہے ہیں۔ بوڑھے نے انکو اپنی بیچارہ گی اور انکی زبردستی کا احساس دلایا کہ یہ سراسر ظلم ہے مگر وہ باز نہ آئےاور اپنے کام میں مصروف رہے۔ اب بوڑھے نے دھمکی دی جس پر وہ مذاق اڑانے لگے تو بوڑھے نے مہتری بندوق نکالی اور سب سے اونچے چڑھے ہوئے جوان پر گولی داغی تو وہ نیچے آرہا۔ فوراً تمام چھلانگیں مارتے کودے اور درخت آئیندہ کیلئے ان سے خالی ہوگئے۔عثمانی ترکوں کا ایک سلطان جنگی مہم پر تھا۔ ایک بڑھیا آئی اور شکایت کی کہ میری بکری کا دودھ تمہارے سپاہی نے زبردستی پیا ہے جو میرا کل اثاثہ ہے۔ سلطان نے بڑھیا کو سپاہی پہچاننے کو کہا تو اس نے ایک سپاہی کی طرف اشارہ کیا۔ سلطان نے سپاہی سے پوچھا تو وہ منکر ہو گیا۔ اب سلطان نے بڑھیا سے کہا کہ اپنی بات پر غور کرے کہیں اسکو پچھتانا نہ پڑے۔ بڑھیا اپنی بات پر قائم رہی تو سلطان نے سپاہی کو پکڑوا کر اسکا پیٹ کھولنے کا حکم دیا۔ پیٹ میں دودھ کے نشانات موجود تھے۔ اس پر سلطان نے بڑھیا سے معذرت کی اور دودھ کی قیمت ادا کی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *