ڈاکٹرز اب بھی مسیحٰا ھیں

تحریر: محمد حکیم

میں دنیا کے طویل ترین سفر کا مسافر ھوں۔میری منزل اتنی دور ھے۔اور منزل کی طرف سفر کی ابتدا بھی بڑی تاخیر سے ھوئی۔ھوا کچھ یوں کہ پہلے میں نے ڈاکٹر اور انجینئر بنانے میں اپنا وقت صرف کیا۔ جب میری شاگردوں کی تعداد اتنی بڑھیں۔ کہ وہ ملک کے اعلٰی عہدوں میں  ھر شعبہ میں برجمان ھوئے۔تو میں نے سوچا کہ میرے شاگرد سارے کامیاب  ڈاکٹر اور انجیئر  بن سکتے ھیں۔تو کیوں نہ میں استاد ھوکر ایک مصمم ارادہ کرتے ھوئے اس منزل کی طرف نکلو جس کی ابتدا ھو اور انتہا کی طلب اورتڑپ مجھے ایسے ھستیوں سے ملانے کا سبب بننے۔جس کی ھر انسان کو طلب اورآرزو ھوتی ھے  ۔اسی طرح میں اپنے لئے وہ منزل تعین کیا۔جس کی ابتدا 9 نومبر سنہ 2011 کو مستوج کے قدیمی اڈہ سے ھوتی ھوئی6000 کلومیٹر تک گئی اور تا حال مسلسل میں اس راہ منزل کی طرف گامزن ھوں۔اور منزل تو  دور ھے۔مجھے اس منزل تک پہنچنے کے انجام کا کچھ پتہ نہیں۔مگر رب کائنات مجھے زندگی میں دو زبردست سعادتیں دیں۔ایک یہ کہ میں اپنے شہر کے باکمال طلباء طلبات جو کہ آج بہت بڑے عہدوں پر فائز ھیں کااستاد رہا۔میں ان کو ریاضی کی مشکل سبجیکٹ اور فزکس پڑھایا۔میرا ہر ایک شاگرد اپنے معیار میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ھیں۔

میں کس کس کا نام لے لوں کہ قارئیں کو پتہ لگے۔مگر پھر بھی اس مضمون کو پڑھ کر مجھے امید ھے۔وہ شاگرد خود بتائیں گے۔کہ کس کس کو میں نے پڑھایا تھا۔اور اب وہ کن کن عہدوں میں فائز ھیں۔

یہ رہا میرے استاد رہنے کا واقعہ میرے شاگرد بھی باکمال رھے۔ اور دوسری سعادت یہ ھےکہ میں اپنے صوبےکے اعلٰی ترین طبی ماھرین کا  شاگرد رہااورمیرے استاتزہ کرام سب سے باکمال ھیں۔میں یہ مضمون اس لئے لکھ رہا ھوں ۔کیونکہ آجکل ڈاکٹروں کی عوام بہت بدنامی کرتے ھیں۔لیکن کوئی بھی ڈاکٹروں کی طرف سے ان کو جواب اس لئے نہیں دیتا۔کیونکہ وہ معاشرے کے سب سے مقدس پیشے سے تعلق رکھتے ھیں۔اس لئے وہ سمجھتے ھیں۔کہ یہ مناسب نہیں ھے۔کہ ہر ناسمجھ کو اس کے معیار اور پیمانے سے لبریز جواب دیا جائے۔چونکہ وہ اپنے پیشہ کو عبادت سمجھتے ھیں۔اور معافی کو اللّٰہ کی طرف سےعطیہ۔یہی وجہ ھے وہ کسی بات کا بھی جواب اس انداز سے نہیں دیتے جسطرح ساری قوم ان پر ھمیشہ ناقدبنی ھوئی ھے۔لیکن میری محبت  اورخلوص میرے اساتزہ کرام سے اتنی لبریز ھے۔کہ اس لئےاس مضمون کو لکھنا اپنے لئے باعث فخر سمجھا۔

میں جب سے طب کے شعبہ سے منسلک ھوا ھوں۔اور اپنے طبی علوم سے وابستگی کے دوران ایسے اساتزہ کرام کے شاگرد رہا کہ وہ اپنے شہر کے سب سے قابل ترین اور عظیم ھستیان تھے ھیں اور ان شاءاللّٰہ رھیں گے۔ان کے دلوں کو دکھ دینا۔اور غم دینا گناہ کبیرہ سے کم نہیں۔

جب جولائی 2016 کو مجھے  ایک سالہ ٹریننگ کے لئے باہر ملک سے پاکستان بیجھا گیا۔تو مجھے ایل آر ایچ میں ایک سال چوٹی کے صوبائی ماھرین پروفیسروں کے زیر سایہ کام کرنے کا موقع ملا۔

باھر کے سلیبس کے مطابق مجھے ایل آر ایچ کے تمام شعبوں میں انٹرن شپ کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران مجھے صوبہ کے نامور ڈاکٹروں کی شاگردی کا شرف حاصل ھوا۔

میری ٹریننگ ایل آر ایچ کے یورالوجی یونٹ سے شروع ھوئی۔وہاں صوبہ کے مایہ ناز پروفیسر میر عالم جان صاحب جنرل سرجن اور یورولوجسٹ کے زیر سایہ نہ صرف طبی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا بلکہ اس کی سر تا پا ایک مثالی انسانیت نےھمیں اسلامی اداب طب سے بھی اشنائی عطاء  کی اور اس کی  وہ بات بھی دوران اپریشن یاد رھی جو ٹی ایم اوز کو نصیحت کے طور پر کہا کرتے تھے۔کہ بیٹا آپ کسی بھی عمر رسیدہ مریض اور مریضہ کو اپنے باب اور  ماہ کی طرح سمجھنا۔انسان مجبوری کی حالت میں آتے ھیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ  میں بھی آپ کے پاس کسی بھی وقت مریض بن کے آسکتا ھوں۔اس لئے آپ ہر ایک مریض کو خوب پروٹوکول دے دیں۔چاھیں جو بھی ھوں۔پھر بعض مریض یوں گویا ھوتے تھے۔کہ بچائے احترامًا ڈاکٹر صاحب کہنے کے ۔کچھ دور دراز پسماندہ علاقے کے لوگ دفتر کے دروازے میں آکر کہتے کہ ماما میں اندر آسکتا ھوں۔تو میں جب سر کے پاس ھوتا تو مجھے تھوڑی سی ھنسی آجاتی تھی۔کیونکہ بہت بڑے ھستی کو ماما کہہ کر باربار پکارا جاتا تھا۔ وہ بھی اس وقت جب وہ کوئی دس میجر آپریشن کرنے کے بعد اوٹی سے  آکر  اپنے افس میں بیٹھا کرتا تھا۔اور کاموں اور ڈیوٹی کرنے والے ٹیم کے امور نمٹایا کرتا تھا۔یہی ھے انسانیت اور عروج انسایت اور نیکی کہ کبھی بھی  غرور نہیں کیا۔اور اپنی ساٹھ سال کی زندگی  شعبہ طب کو دے دی۔اور آنے والے ڈاکٹروں کے لئے ایک  زندہ مثال بننے۔اس کے وہ اوصاف میرے لئے اور میرے سنئر کے لئے مشعل راہ ھیں۔

پھر ہر شعبہ میں میں نے ھر ماھر کے ساتھ  کام کیا۔میں نے وہ صفات جو اخباروں میں اور معاشرے کے اندر کسی کو چھاپتے ھوئے اور بتاتے ھوئے کہیں نہیں دیکھا۔جو میں نے ایک شاھد کے طور پر مشاہدہ کیا۔یہ صرف ھماری بدقسمتی ھے۔کہ ھمیشہ ھمیں ڈاکٹروں کے وہ پہلو یاد آتے ھیں۔جو آٹے میں نمک کے براربر ھوتے ھیں۔کبھی بھی انکی ھم اچھے پہلؤں کو یاد نہیں کرتے ھیں۔جو قابل داد اور قابل دید ھوتے ھیں۔

بحرحال پھر مجھے اپنے اس سفر کو جاری رکھتے ھوئے کارڈیالوجی یونٹ کے سربراہ  پروفیسر  عدنان گل، پروفیسر شیر بہادر  صاحب، پروفیسر عبدا لجبار صاحب کے زیر سایہ اس نازک ادارے میں کم عرصے میں بہت کچھ ان  سے سکھنے کو ملا۔ وہاں بھی ایسی کوئی بات میں نے نہیں دیکھی جو ان کی اور ادارے کی بے عزتی کا سبب بننے۔

یوں چلتے چلتے آرتھوپیڈک یونٹ میں میں نے پروفیسر امجد علی اور میاں امجد کے زیر سایہ کام سیکھا اور یہ بھی بہت مخلص اور عظیم ھستیاں ھیں۔

بہت سے اوریونٹس ھیں اور  میں نے وہاں بھی کام کیا مگر مضمون کی طوالت مجھے ان کی کچھ مفید باتیں سپرد قلم کرنے نہیں دیتی۔ان شاء اللّٰہ پھر کبھی میں ان کے بہترین اوصاف پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔

چنانچہ جب ایل آر ایچ کا ایک سال انٹرنشپ ختم ھوا تو میں چترال واپس آکر اپنے شہر کے مایہ ناز ڈاکٹرز رکن ا لدین صاحب، ڈاکٹر زاھد فیزیشن، ڈاکٹر محمد فاروق فیزیشن کے ساتھ کام کیا اور میں انکے طبی علوم سے کافی استفادہ حاصل کیا۔ان کے تجربوں سے مجھے بہت کچھ سکھنے  کا موقع ملا۔ میں نے طبی علوم کے ساتھ ان کی برداشت اور انسان دوست اوصاف سے کافی متاثر ھوا۔

اسی طرح چلڈرن یونٹ میں ڈاکٹر گلزار چیف چلڈرن سپیشئلسٹ اور سنئر چلڈرن سپیشئلسٹ سمیع ا للّٰہ صاحب کی  زیر نگرانی بھی مجھے سکھنے کا موقع ملا۔ وہ بھی اراندو سے لیکر یارخون تک سب سے ھمدردانہ سلوک کرتے ھیں۔لیکن قوم بس لگی ھوئی ھے کہ ڈاکٹر ڈاکو ھیں۔قصاب ھیں۔ایسا ھر گز نہیں ھے۔

میں جب سے ان کے ساتھ رہا۔ان کے دوران تشخیص بیماری اور علاج سے لیکر  مریض کے صحت مند ھونے تک کے دورانیہ میں ھمیشہ ان کو اپنے کام سے دلچسپی رکھنے والے اور اپنے رزق کو حلال کرنے والا پایا۔

مگر آجکل میں جب سے  ایک خبر کو  گردش کرتا ھوا دیکھتا ھوں۔جس میں کچھ لوگ آجکل کے حالات سے متاثر ھونے کی بجائے ڈاکٹروں کے خلاف زھر اگلنے کو اپنا مشغلہ بنایا ھوا ھے۔یہ ان کی سوچ و نیت اور شیطانی  سوچ کی کلی عکاسی کرتا ھے۔ایسا کچھ بھی نہیں ھے جو لوگوں کی رائے میں ھے۔

ھمارے ہاں ڈاکٹرز اب بھی مسیحٰی ھیں۔لوگ جو ھمیشہ ڈاکٹروں کی مخالفت کرتے ھیں۔کہ کمیشن لیتے ھیں۔ اتنے پیسے لیبارٹری سے اتنےپیسے ایکسرے اور الٹراساؤنڈ سے ان کو کبھی یہ معلوم نہیں ھوسکا کہ یہ تو کافی تنخواہ بھی لیتے ھیں۔اور کلینک بھی کرتے ھیں۔مگر وہ لوگ جو 7اور 10  تک سکیل میں کام کرتےھیں۔ان کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں کہاں سے آتی ھیں جن کا مجموعی تنخواہ 40 ھزار سے بھی کم ھیں۔بڑے بڑے گھروں کے مالک بن چکے ھیں۔

اور سرکاری گاڑیوں میں خزانے کے پیسوں سے دن میں دس مرتبہ دفتری کام کے بیغیر پیکنک منانے والےاور دوسرے اداروں کے آفیسرز ان کو کبھی نظر نہیں آتے ھیں۔

ھمارے شہر چترال میں ڈسٹرکٹ ھیڈکوارٹر ھسپتال میں سنئرز ڈاکٹرز اور جملہ سٹاف قوم کی خدمت کرتے ھوئے کورونا کے شکار ھوئے کچھ وینٹیلیٹرز میں پڑے ھیں۔ کچھ الگ تھلگ اپنے خاندان سے بھی اکیلا زندگی گزار رھے ھیں۔ آج تک ان کی یکجھتی میں میڈیا بھی خاموش اور قوم بھی یہ اسی چیز کا منہ بولتا ثبوت ھے۔ کہ ڈاکٹر کسی کے دشمن نہیں بلکہ مسیحٰی ھی ھیں۔ خدا پاک اس قوم کی نیتوں اور احساسات  کے دماغی حصے کو کھول لیں تاکہ ان کو حقیقت نظر آئیں۔اور متاثرین ڈاکٹرز ،نرسنگ سٹاف اور پیرامیڈکس سٹاف کو صحت کاملہ نصیب فرمائیں۔ آمین۔

دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور  نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.