یہ چترال ھے

جس کھیت سے دھقان کو میسر نہیں روزی ۔ ۔ ۔ اس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلادو

رحمت کریم بیگ 

یہ صوبہ خیبر پختونخوا کے انتہائی شمال میں واقع ہے اور رقبہ کے لحاظ سے صوبے میں سب سے بڑ ا ضلع ہے، اس کا کل رقبہ چودہ ہزار آٹھ سو پچاس مربع کلو میٹر ہے اور اب بد قسمتی سے اس کو کاٹ کر دو ضلعے بنادئے گئے ہیں ،نئے ضلع میں ایک ڈپٹی کمشنر اور ایک ڈی،پی،او خدمات انجام دے رہے ہیں ، اکثر محکمے مثلا پبلک ھیلتھ انجینیر نگ، وءالڈ لاءف، عدالتیں اور کئی اور ابھی تک نہیں آئی ہیں ۔ لوگ گو مگو کا شکار ہیں ھیڈ کوارٹر کی جگہ ہے بھی اور نہیں بھی ۔ رسہ کشی میں حکومت خاموش ہے پی ۔ ٹی ۔ آئی کے کرتا دھرتا خاموش ہیں ضلع مانگتے وقت چیخیں نکال رہے تھے اب چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے صوبائی حکومت بوکھلایا ہوا لگتا ہے ۔ نہ سکول ، نہ ھسپتال،نہ کالج، نہ اور کوئی ادارہ بنانے کی فکر ۔

یہ چترال ہے یہاں کل ملا کر ۵۳۱ کلو میٹر نام نہاد پکی سڑک ہے جس میں سے سو کلو میٹر لوئر چترال میں اور ۵۳ کلو میٹر بالائی چترال میں بنائی گئی ہیں جو پاکستان بنننے کے بعد زبردست کارنامہ ہے ۔ شاباش ! یہی آپ کا کارنامہ ہے، یہی نچوڑ ہے ستر سال کی پلاننگ کا ۔ یہاں کوئی کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ یہ لوگ پشتو بولنے والے نہیں ہیں  ان کی زبان الگ ہے، کلچر الگ ہے،رہن سہن الگ ہے، سوچ الگ ہے،جغرافیہ الگ ہے ۔ سوشیالوجی الگ ہے ،انتھروپالوجی الگ ہے، نسلی جڑیں الگ ہیں ، عمران خان، پرویز خٹک، بلاول، زرداری، نواز شریف، مینگل، بگٹی سے نہیں ملتیں اس لئے چترال کو ہمیشہ الگ سمجھ کر محروم رکھا گیا ۔ سڑک نہیں دی گئی، زنانہ سکول نہیں دئے گئے، ہسپتال نہیں دئے گئے، سوشل سروس کے ادارے نہیں دئے گئے ہمیشہ جھوٹے وعدے کہ چترالی کو دلاسہ دینا کافی ہے ۔

پاکستان اگست ۷۴۹۱ میں بنا اور چترال نے اس کے ساتھ الحاق نومبر ۷۴۹۱ میں کیا ،لیاقت علی خان کا اقتدار گیا،خواجہ ناظم الدین کا دور گیا، محمد علی بوگرہ کا گیا، سہروردی کا گیا،سکندر مرزا کا گیا، ایوب خان کا گیا ، یحی خان کا گیا بھٹو خان کا گیا ضیا خان کا گیا، بینظیر خان کا گیا، پھر آیا پھر گیا، نواز خان کا تین بار آیا اور گیا زرداری خان کا آ یا اور گیا ، عمران خان کا آیا ۔ صوبے کی بات الگ ۔ انے جانے والے درجنوں سے زیادہ کس کس خان کا نام لیں لیکن یہ سارے خان چترال کے لئے نہیں آئے اپنی جیبیں بھرنے کے لئے آئے اور گئے خدا کرے عمران جیب نہ بھرے مگر مافیاز کو لگام دے ۔ لینڈ مافیا کو ۔ ٹمبر مافیا کو ۔ ڈرگ مافیا کو ۔ شوگر مافیا کو ۔ آٹا مافیا کو ۔ گندم مافیا کو ۔ دال مافیا کو ۔ شکار مافیا کو ۔ اغواکار مافیا کو ۔ کار چور مافیا کو ۔ اپنے پارٹی کے اندر کے مافیا کو ۔

یہ چترال ہے یہاں پانی کی بہتات ہے،

معد نیات کی بہتات ہے، گلیشئیر ز کی بہتات ہے، ماربل کی بہتات ہے ، گرینائیٹ کی بہتات ہے، جنگل بھی ہے، لوہے کی کان بھی ہے، ابرق کی کان بھی ہے، انٹی منی کی کان بھی ہے، سونے کی بھی ہے، کاپر کی بھی ہے، ایسباسٹوس کی بھی ہے، نیفراءٹ کی بھی ہے، سوپ سٹون بھی ہے،تریچ میر کی چوٹی کے علاوہ پچاس اور بھی چوٹیاں ہیں جن کی اونچائی سات ہزار میٹر سے اوپر ہے، کوہ پیماوءں کا ائیڈیل ہے، سیاح تڑپتے ہیں لیکن ہمارے دوستوں کی سمجھ میں بات نہیں آتی، وہ بنوں مردان اور نوشہرہ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں جہاں اغوا کار ، قاتل اور دیگر بیشمار مافیازبستے ہیں او ر ہمارے خان صاحب : واہ واہ ! خان صاحب کے نورتن اور خو د ان کو پتہ نہیں کہ شندور ہمیشہ سے چترال کا حصہ رہا ہے اور چترال کے ۔ پی ۔ کے کے اضلاع میں سے ہے ۔

چترال میں شدید حد تک بیروزگاری ہے،روزگار کے مواقع نہیں ہیں ،انڈسٹری نہیں ہے، زیر کاشت رقبہ بہت قلیل ہے،گیس کی شدید مہنگائی ہے،بجلی این ۔ جی ۔ اوز نے بنائی ہے، سیاحت کی بہت گنجائیش ہے مگر اس سیکٹر کو پس پشت ڈالا گیا ہے، شدید سردی کا مقابلہ کرنے کے لئے وسائل نہیں ہیں ، عوام حکومت کو کوس رہے ہیں قومی نمائیندے منہ چھپائے پھر رہے ہیں ،ملے ہوئے فنڈز کو اپنی اپنی پارٹی کے کارکنوں میں بانٹ رہے ہیں اور کا رکن آپس میں گتھم گتھا ہیں ، غریب کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، قومی نمائیندے اپنا فرض ادا نہیں کر رہے ہیں ساری غلطیوں کو خان کے کاندھے پر ڈالا جارہا ہے ۔

ایک اندھیر نگری ہے، غریب کی حالت دیگر گوں ہے،سڑکوں کی مرمت کھبی دو تین سال میں بھی ہوتی تھی اب کہیں کام نہیں ہورہا ، ٹھیکیدار ایک کام کو سینتالیس فیصد بیلو پر لیتا ہے اور دوسرے کو سبلٹ کرتا ہے جو آگے تیسرے کو سبلٹ کرتا ہے اور بیچ میں ہوتے ہوتے یہ منصوبہ غائب ہوجاتی ہے اور کاغذ پر تمام فار میلیٹیز کے ساتھ مکمل قرار پاتا ہے، صرف کاغذ پر بنا زمین پر کچھ نہ بنا ۔ کدھر بنا;238; کیسا بنا;238; یہ پوچھنے والا کوئی نہیں ۔ لوگ اپنی اپنی قسمت کو رو رہے ہیں سیاسی لیڈر صاحبان بولتے نہیں ، حرکت نہیں کرتے، پارٹی کے کارکنوں کا خیال نہیں کرتے، اپنے بارے میں ہی سوچتے ہیں اور کارکنوں کو دھتکارتے ہیں ، ان کی قربانیوں کو یاد نہیں کرتے ۔ یہ چترال ہے ۔ یہ مملکت خدادا د پاکستان ہے،یہ انسانی معاشرہ ہے یہ شہر ناپرسان ہے یہاں لوٹ کھسوٹ ہے، استحصال ہے،جھوٹ ہے، فریب ہے، غریب صرف ووٹ کے لئے ہے، اس کے کوئی حقوق نہیں ہیں ، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو جوانو: اب اٹھنے اور اواز بلند کرنے کا وقت ہے اپنے حقوق چھیننے کا وقت ہے مانگنے سے نہیں ملتے، ہم نے ستر سال میں کوئی حق حقدار کو ملتے نہیں دیکھا صرف چھین کر لیتے دیکھا ہے یہی ہمارا تجربہ ہے ، تنگ آمد بجنگ آمد کا مرحلہ ہے ۔ زرا سوچو اور حرکت میں آءو، اپنے حقوق کے لئے جد و جہد کرو، قربانی دو ، اپنی شناخت کو نمایاں کرو اس کے بغیر اس خطے میں جینا مشکل ہی رہے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.