ریاستی سازش

وادی لاسپور و غذر ضلع گلگت اور چیترال کے باشعور اور غیرت مند عوام کو وفاقی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی آئین کے منافی، سازشی و خودساختہ نیشنل پارک کے فیصلے کا اعلامیہ نامنظور نامنظور اور نامنظور- وفاقی حکومت لاسپور اور غذر کے بھائیوں کے درمیان انتشار پیدا کرکے ُطاقت کے زور پر شندور کے  قدرتی وسائل پر قبضہ جمانے کی ناکام کوششش کر رہا ہے۔
 
آج دونوں اطراف کے عوام کی مشترکہ روزی و روزگار کا واحد زریعہ چراہ گاہ ُشندور اور لنگر ہے جہان لوگ ہزاروں کی تعداد مین مال مویشی رکھتے ہیں اور ان کی پورے سال کی ٪70 روزگار کا دارومدار اسی چراہ گاہ سے ہے۔ وفاقی حکومت اسلام آباد میں بیٹھ کرکس قانون اور آئین کے تحت، لاسپور کے عوام کی 800 سالوں پرانی آباؤ اجداد  کی چراگاہ کو اپنی مرضی سے “ہندارب -ُشندور نیشنل پارک “ تسليم کرسکتا ہے۔ یہ محز خواب اور ناممکن ہے لاسپور اور غذر کے عوام کو اپنے جائیداد کيلے کسی سے اجازت  لينے کی ضرورت نہیں ۔ ُشندور جیسا ہے ویسا رہے۔ ُ
 
شندور ہماری چراگاہ ہے، چراگاہ رہے گا اور دونوں اطراف کے عوام ایک دوسرے کے بھائ بھائ ہیں۔ 2020ء کے بعد لاسپور اور غذر کے سول سوساٹیز ملکر ضلعی حکومتوں کے مشورے سے سالانہ “شندور فسٹیول“ کا انعقاد کا انتظام بھی خود کرينگے۔ عوامُ لاسپور کسی بھی ریاستی مشینری کو ُشندور پر قابض نہ ہونے دینگے اور لاسپور کے عوام اپنے آباؤ اجداد کے دیکھئے ہوئے زمین کے ٹکڑے کے لئے بچے بچے کا خون شہادت کيلے دریغ نہ کر ینگے
 
ریاستی مشینری دونونُ اطراف کے سادہ عوام کو ایک دوسرے سے بدظن اور فساد پیدا کرکے ُشندور کی قدرتی وسائل پر ہمشہ کے لئے قابض ہونا چاہتے ہے۔ یہ  ہم ہر گز نہیں ہونے دينگے ۔ ہم وزیر اعظم پاکستان کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ ہوائ فیصلے پر فوری نظر ثانی کرائی جائے تاکہ دونوں اطراف کے عوام کی دل شکنی نہ ہو۔
 
شہزادہ ابراھیم

Leave a Reply

Your email address will not be published.