مملکت خداداد کے شریف قصائی

سید اولاد الدین شاہ
ارد شیر کاؤس جی کا وہ مشہور جملہ مجھے یاد آ رہا ہے۔  ریت میں سیمنٹ  نہیں ملاتے۔ بلڈنگ کے اوپر ما شا اللہ لکھ لیتے ہیں۔ دو تین دن سے جب انٹر نیشنل اور نیشنل نیوز پر ڈیکسامیتھازون کی افادیت کے بارے میں نیوز چلی پاکستان کی مارکیٹ سے دوا ہی غائب ہو گئی ما شا اللہ۔ کل بی بی سی میں اس دوا کی افادیت کے بارے میں رپورٹ پڑھا تھا کہ ڈیکسا میتھازون کورونا کے مریضوں کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ جن کو سانس لینے میں مشکلات ہو اور وینٹی لیٹر پر ہو۔
اب یہ ہماری اخلاقی گراوٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لوگ مر رہے ہیں ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں،  اور ہم لوگ منافع خوری اور زخیرہ اندوزی میں لگے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں  ہم کب سدھریں گے۔ ہم لوگوں کو شہید ہونے کا بہت شوق ہے۔ ہمیں اسرائیل کو ختم کرنا ہے۔ ہمیں کشمیر فتح کرنا ہے اور ہمیں خان صاحب سے مدینے کی ریاست چاہئے اور اس کے علاوہ پتہ نہیں ہمارے کیا کیا خواہشات ہیں۔
چائنیز  ہمارے بارے میں صیحیح کہتے ہیں کہ پاکستانی وہ واحد قوم ہیں، جو اپنے پیسے خود چوری کرتے ہیں۔
دوسرے اسلامی ممالک میں ایسی مثال نہیں ملتی۔  یہاں ہر سرگرمی پر حکومت کا کنٹرول ہوتا ہے۔ اور لوگ حکومت کا کہنا مانتے ہیں، اگر حکومت لاک ڈاؤن کا بول دے کوئی حکم عدولی نہیں کر سکتا۔ منافع خوری اور زخیرہ اندوزی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
اس لئے ہم جیسے  لوگ پہاڑ جیسے جذبہ اور خواہشات لئے ان لوگوں کی مزدوری کرتے ہیں۔ یہ لوگ دیانت دار ہیں۔ ہم سارا ملبہ حکومت پر ڈالتے ہیں، حکمران بھی تو ہم میں سے ہی ہیں۔ ہم جتنے خوش اخلاق، با کردار ہیں، پھر حکمران بھی ایسا ہی ملیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.