آپ کی ذہنیت خراب ہے، پریاں بکاؤ مال نہیں ہوتیں

سید حیدرعلی شاہ

بیٹیاں تو بہت پیاری ہوتی ہیں، یہ باپ کے اس لئے قریب ہوتی ہیں
کیونکہ یہ ایسے کسی چیز کی ڈیمانڈ نہیں کرتے جس سے باپ ناراض ہو جائے۔ ان کا پیار بھی لالچ سے پاک ہوتا ہے۔ بیٹی رب کی طرف سے انعام ہے، رحمت ہے۔ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ یہ بیٹی ہی تو ہے جو بڑی ہو کر ماں بن جاتی ہے۔

باقی بیٹیوں کی اچھی تعلیم و تربیت والدین  کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے، اُن کے بچوں کی اچھی فیمیلی میں رشتہ ہو لیکن ضروری نہیں جیسا والدین چاہتے ہیں ویسے بچے بھی من عن تسلیم کر لیں۔ شادی کا فلسفہ یہی ہے، لڑکا لڑکی راضی کیا کرے گا قاضی، قاضی کا کام نکاح پڑھانا ہے۔
آج کل سوشل میڈیا پہ چترال کے باہر رشتوں کے حوالے سے حق اور مخالف میں لیکچر دئیے جا رہے ہیں۔ اگر آپ کا بچہ یا بچی پڑھی لکھی ہے، یا یونیورسٹی میں پڑھتی ہے، یا کسی ادارے کے ساتھ یا ادارے کے لئے کام کرتی ہے۔ اگر کوئی اُسے پسند آ جائے، شادی کرنا اس کا حق ہے۔ اس سے ہم منع نہیں کر سکتے۔ ہاں ضرور سمجھا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ چترال میں دلالوں کا کردار کے حوالے سے میرے بھی اعتراضات ہے۔  دلال چترال میں جس آدمی کو خان، نواب یا چودھری بنا کر پیش کرتے ہیں اصل میں وہ کچھ اور ہی نکلتا ہے۔ دلال کا تصور فراڈ آن لائن کاروبار جیسا ہے۔ دیکھاتے کچھ اور ھیں اور اور بیجھتے کچھ اور۔ دلالوں سے بچ کر رہنا ہمارے مفاد میں ہے۔
ارینج میرج کے لئے ذاتی طور پر خاندان سے واقفیت، لڑکے سے جان پہچان، ذرائع آمدن، خاندانی ساکھ جیسے بنیادی مصدقہ معلومات کا دستیاب ہونا ضروری ہے۔ کچھ لوگ اپنے بیٹیوں کی اچھی مستقبل کی خاطر چترال سے باہر  بیاہ دیتے ہیں۔ بدلے میں ان کو زندہ یا مردہ لاش مل جا تی ہے۔ کچھ لوگوں کو پیسے وغیرہ کا لالچ دیا جاتا ہے اور وقتی طور پر بچی سمیت والدین کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں اور بعد میں نتیجہ کچھ اور ہی نکلتا ہے۔
باقی پاکستان میں جہیز کلچر عام ہے۔ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں لڑکی والوں کو بیٹیوں کی شادی کرانے کے لئے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب لڑکے کو لڑکی والوں کے ہاتھوں بیجھا جاتا ہے؟ نہیں ایک گندا کلچر ہے جو چلا آرہا ہے۔ اسی طرح چترال میں رخصتی کا خرچہ لڑکے والے کو کرنا پڑتا ہے جو زیادہ سے زیادہ لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ تک بنتا ہے۔ کیا یہ کسی پری کی قیمت ہے؟ ہر گز نہی۔ یہ ان لوگوں کی گندی سوچ ہے۔ جو ایسا سوچتے ہیں۔ اب تو منگنی کے وقت لڑکی کی رخصتی بھی کر دیتے ہیں اس میں یہ خرچہ بھی نہیں ہوتا۔
خیر ایک صاحب سے سوشل میڈیا میں میرا بھی واسطہ ہوا۔ جو چترال میں ایک لاکھ پچاس ہزار کے عوض چترال میں دوسری شادی کا خواہشمند تھا۔ پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہیں تھا۔ پھر خواہشات میرے بھی ہیں۔ میں نے اُس کی فیمیلی میں تین لاکھ روپے کے عوض شادی کا ارادہ ظاہر کیا۔ پھر اُس دن سے وہ صاحب غائب ہے اور بہت سے خاندانی لوگ بھی ہے جو باتوں کو سمجھتے ہیں پریاں بکاؤ مال نہیں ہوتیں۔ ایسا بے وقوفانہ بات کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں منٹو صاحب کا کہنا ہے۔

کچھ لوگوں کا  غیر دلچسپ ہونا  دلچسپی کا باعث ہوتا ہے۔

کیا انساں عقل سے اتنا عاری ہو سکتا ہے۔

2 Replies to “آپ کی ذہنیت خراب ہے، پریاں بکاؤ مال نہیں ہوتیں”

  1. زبردست تجزیہ لیکن جاہلوں کو کون سمجھاٸے کچھ لوگ پڑھے لکھے جاہل ہیں ۔
    اللہ سبحان وتعالیٰ سب بیٹیوں کی نصیب اچھے کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.