قرنطینہ کا خاتمہ

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

مزدوروں، غریبوں اور نا داروں کے پر زور مطالبے پر حکومت نے لاک ڈاون تقریباً ختم کر دیا ہے اگر مگر کی شرائط کے ساتھ با زار اور ٹرانسپور ٹ کے تمام اڈے کھول دیئے گئے ہیں انگریزی میں سٹینڈرڈ اوپر یٹینگ پرو سیجراور اردو میں قوا عدو ضوا بط کی پا بندی کے ساتھ زندگی کا سارا کاروبار بحال کر دیا گیا ہے انگریزی اصطلاح لاک ڈاون، پھر لا ک ڈاون کی جگہ سمارٹ لا ک ڈاون ہوا پھر سما رٹ لاک ڈاون میں سختی کی گئی اس وقت یہی چلن ہے آگے خدا جانے کیا ہوگا

صحافیوں کے ایک گروپ نے سوات سے چترال تک سفر کیا اور پریس میں جو کچھ رپورٹ ہوئی وہ مختصر سی کہانی ہے کہانی میں کرب ہے کرب میں بے حسی ہے بے حسی کے اندر حکام بالا کا غیرذمہ دارانہ بر تاو نظر آتا ہے 13مارچ اور 31مئی کے درمیانی عر صے میں کورونا وبا کی ایمرجنسی لگادی گئی تھی ہسپتالوں کو ریڈ الرٹ کا حکم جا ری ہوا تھا سکو لوں، کالجوں اور ہوٹلوں میں قرنطینہ کے مراکز قائم کئے گئے تھے دوسرے اضلا ع سے کسی بھی ضلع میں دا خل ہونے والوں کو 15دنوں تک قرنطینہ میں رکھ کر کھا نا کھلا یا جا تا تھا سرکاری عمارتوں میں قائم قرنطینہ کے ماہانہ اخراجات 5لاکھ روپے سے لیکر 8لاکھ روپے تک آتے تھے ہوٹلوں کے کرایے ملا کر 18لاکھ سے 25لاکھ ما ہا نہ تک ہر ہو ٹل کا خرچہ تھا31مئی اور 4جون کے درمیان 5دنوں میں اوپر کے احکامات کے تحت قرنطینہ بند کر دیئے گئے جہاں قرنطینہ تھا وہاں نہ سپرے ہوا، نہ صفائی ہوئی نہ بِل ادا کئے گئے

مثال ایسی ہے جیسے حملہ آوروں نے خود قبضہ چھوڑ دیا لو گوں نے کہا ’’جان بچی لا کھوں پا یے‘‘ انگریزی اصطلاح میں بنیا دی سطح کو گراس روٹس لیول کہا جاتا ہے یعنی گاوں، ٹاون، ضلع اور تحصیل کی سطح پر مسا ئل معلوم کر کے ان کو حل کرنا گراس روٹس لیول کا تقاضا ہے تین مہینے پہلے قرنطینہ کے نام پر جس عما رت کو قبضے میں لیا گیا تھا 90دنوں کے بعد اس عما رت کو خا لی کرنے کے کچھ طریقے اور آداب ہوا کرتے ہیں چا ہے سر کاری عما رت ہو یا نجی عما رت ہو حکومت نے 13مارچ کے دن ڈاکٹروں کے ساتھ میڈیکل کے شعبے میں کام کرنے والے نر سوں، ڈسپنسروں، ٹیکنشنز اور دیگر عملے کو فرنٹ لائن کا سپا ہی قرار دیا تھا ڈھا ئی ما ہ گذر گئے

قرنطینہ ختم ہو اکورونا باقی ہے اب پتہ لگ رہا ہے کہ حکومت نے دوسرے دفتروں کے غیر متعلقہ عملے کو تنخواہ کا خصو صی بو نس ادا کر دیا ہے ، ہسپتال کے ڈاکٹروں اور نر سوں سمیت طبّی عملے کو کہا گیا کہ بجٹ بھی دستیاب نہیں اور حکومت کی طرف سے کوئی حکمنا مہ بھی مو صول نہیں ہوا بڑے بڑے ایم ٹی آئی وا لوں نے بہت سے ڈاکٹروں کو ما ہا نہ تنخوا بھی نہیں دیا مرد ڈاکٹر زور زبر دستی کر کے ما ہا نہ تنخوا لے لیتے ہیں لیڈی ڈاکٹر وں کا اتنا بھی بس نہیں چلتا ان کو ٹکا سا جواب ملتا ہے اضلا ع کی سطح پر پہا ڑی علا قوں کے ہسپتا لوں میں اسی سال طبی عملے کو جلا نے کی لکڑی کا پیسہ بھی نہیں ملا وجہ یہ ہے کہ ’’بجٹ نِشتہ‘‘ خیر سے خیبر پختونخوا میں خزا نہ اور صحت کے دونوں قملدان ایک ہی وزیر کے پا س ہیں مگر اس میں سہو لت نہیں رکا وٹ کا پہلوآ گیا ہے بات سیدھی سی ہے صو بائی حکومت کے علم میں یہ بات ہونی چاہئیے کہ کسی بھی مقصد کے لئے کسی کی عما رت آپ لے لیتے ہیں تو عما رت کو واپس کر تے وقت کم از کم فرش کی صفا ئی تو آپ کے ذمے ہو گی خصو صاً کورونا کی وباء کا معا ملہ ہو تو سٹینڈرڈ اوپر یٹنگ پرو سیجرکے تحت عمارت میں انٹی وائرس کا معیاری سپرے کرا نا بھی آپ کی ذمہ داریوں میں شا مل ہے

اگر یہ عما رت کسی ہو ٹل کی ہے نجی ملکیت کی عما رت ہے تو اس کا کرایہ بھی شاید بنتا ہو گا یہ بنیا دی باتیں ہیں مگر کسی کو ان باتوں پر غور کرنے کی فرصت نہیں ہے ایس او پی یہ ہے کہ مریضوں کو گھر بھیجو، بوریا بستر سمیٹ لو دروازے اور کھڑ کیوں کو کھلا چھوڑ دو، خود بڑی آرام اور بیحد خا موشی کے ساتھ کھسک جاءو نہ شکر یہ نہ مہر بانی نہ سلام نہ کلا م بس شام کو پتہ لگے گا کہ وہ لوگ عما رت کو خا لی کر کے بھا گ گئے اب قرنطینہ کا بل کون دے گا. کسی کو پتہ نہیں ضلعی انتظا میہ کے پاس فنڈنہیں صو بائی حکومت کہتی ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے دروازے پر جا کر دستک دو، این ڈی ایم اے کے اعلیٰ حکام نے سپریم کورٹ کے سامنے جو دستا ویزات رکھ دی ہیں ان میں بتا یا گیا ہے کہ قرنطینہ اور ائسو لیشن پر 6ارب روپے خرچ کئے گئے کہا ں خر چ ہوئے کس پر خرچ ہوئے. ان سوالات کا جواب نہیں آیا بقول شاعر ’’اور کھل جائینگے دوچار ملا قا توں کے بعد‘‘ درمیا نی کڑی میں پراونشیل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھا رٹی کا ذکر بھی آ تا ہے مگر اس کا اتا پتہ اور دفتر کسی کو معلوم نہیں غا لب نے بڑے پتے کی بات کہی تھی

میں تو عدم سے بھی پرے ہوں ور نہ غا فل بارہا
میرے آہ آتشین سے بال عنقا جل گیا

حقیقت یہ ہے کہ کورونا کی وباء ختم نہیں ہوئی بلکہ مزید پھیل رہی ہے چین نے اس وباء کو ایک شہر میں روکا، اُسی شہر میں اس کا خا تمہ کر دیا ووہان سے بیجنگ یا شنگھا ئی جانے نہ دیا تو اس کی وجہ لاک ڈاون میں سختی تھی خلیجی مما لک میں اس وباء پر قا بو پایا گیا تو وجہ یہ تھی کہ اُن ممالک میں کر فیو لگا یا گیا لو گوں کو سودا سلف حکومت نے ا ن کے دروا زوں پر لے جا کر دیدیا اور دام وصول کئے 15دنوں کے بعد کر فیو میں بتدریج ایک گھنٹے، دو گھنٹے اور چار گھنٹے کی نر می کی گئی اس طرح 3مہینو ں میں وباء کا خطرہ ٹل گیا وطن عزیز پا کستان میں میں پہلے دن سے اُلٹے فیصلوں کی ابتداء ہوئی پہلے دن سے یہ اعلا نا ت ہوتے رہے کہ ہماری قوم لا ک ڈاون کی متحمل نہیں ہو سکتی پھر رمضان شریف کے آتے آتے لو گ لاک ڈا ون کے عادی ہوگئے تو بلا وجہ لاک ڈا ون کو ختم کر کے عید کی شا پنگ کے لئے بازارکھول دیئے گئے پھر جب کورونا کی وباء مزید پھیلنے لگی تو قرنطینہ کے مرا کزختم کر دیئے گئے یہ ہما ری حکمت عملی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published.