واپسی کا سفر

نوائے سُرود

 
شہزادی کوثر
موجودات میں سے ہر چیز اپنی اصل کی طرف محوِسفر ہے، ذرہِ بے مقدور سے کائنات کی وسعتوں تک قطرہِ  بے حیثیت سے بیکراں سمندروں کی گہرائیوں تک،ہر ذی روح اور ذی شعور سے بے زوح وبے شعور تک تمام اشیائے موجودہ ان دیکھے انجانے رستوں پو عازمِ سفر ہیں۔ اس سفر کا ٓاغاز تب سے ہوا جب ہر چیز اپنے وجود سے بےگانہ اور اپنے مقصدِتخلیق سے نا اشنا تھی۔ ازل سے شروع ہونے والے اس سفر کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ کوئی منزل ہماری منتظر ہے۔ اس جانب چلتے رہنا ہماری مجبوری اور اپنے اچھے برے انجام تک پہنچنے کے لیئے ضروری ہے۔ البتہ ہم سب کے سفر کا طریقہ کار ،انتظامات اور ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس راہ کا سب سے اہم راہی انسان احسن تقویم اور قرآن مجید کا موضوع ہے، ابتدا سے اب تک نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی اور ذہنی ارتقا کا سفر بھی ساتھ ساتھ کر رہا ہے۔جسے تھکا دینے والی مشقت اور کمر توڑنے والی تکلیف کابھی سامنا کرنا پڑا،روحانی طور پر تشنگی کا عذاب سہنا اور جذباتی طور پر ایسی خلش کابھی سامنا کرنا پڑا جو ہڈیوں تک کو پگھلا دینے کے لیئے کافی تھا۔ اس دکھ کا مداوا کبھی تو مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہو کر خودکشی میں ڈھونڈا گیا اور کبھی سجدہِ عبودیت ادا کر کے رحیم وکریم کی پناہ میں ٓاکرحاصل کیا گیا
 
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے ٓادمی کو نجات
 
یہی انسان کا مقصدِ حیات ہے جس کے لیئے اس کی تخلیق ہوئی،اسے مسجودِ ملائک بنایا گیا۔مگر انسان اس مقصد سے غافل ہے،وہ سب کچھ بنتا ہے مگر عبد نہیں بنتا سب کچھ کرتا ہے عبادت نہیں کرتا اسے ہر شے کی طلب ہوتی ہے مگر معبود کی نہیں ۔کتنا نادان ہے سمجھتا نہیں کہ عبد بنیں گے تو معبود ہمارا ہو گا  اگر وہی ہمارا ہوا تو مزید کسی چیز کی طلب باقی نہیں رہتی۔مگر اس بات سے بے خبر ہو کر دنیا کے پیچھے بھاگتے تھک جاتے ہیں لیکن دنیا ہاتھ نہیں ٓاتی۔ دنیا کی مثال سائے کی ہے اس کے پیچھے جاو گے تو بھاگ جائے گی اور اگر منہ موڑ کر جاو گے تو خود پیچھے بھاگے گی۔ ہماری تمام خواہشات کا مرکز  ہمارے سکون اور خوشیوں کی وجہ ہماری پناہ گاہ سب کچھ یہ دنیا ہی ہے ،اس کی ٓاسائشوں کی خاطراپنی جان ضیر اور ایمان تک کو داو پر لگانے لے لیئے تیار ہو جاتے ہیں۔
دنیا کی خیرہ کن روشنی کے پیچھے چھپی بد صورتیاں ہمارے لیئے کوئی معنی نہیں رکھتیں جس کی وجہ سے ہم لا حاصل اور بے سود عمل کر کے اپنی عاقبت خراب کر دیتے ہیں۔ اس بات کا ہمیں علم نہیں ہونے پاتا کہ دنیا کی محبت ہمارے رگ و ریشے میں سرایت کر گئی ہے اپنے مقصد حیات سے غفلت ہماری عاقبت کو برباد کر سکتی ہے،دنیاوی محبت میں پڑ کر اور لذتِ ممنوعہ سے ٓاشنا ہو کر بھی ہم ندامت محسوس نہیں کرتے۔ ہمارے ہاتھوں انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے۔ یتیم کا حق چھینتے اور مجبور کو کچلتے ہیں مسکین اور بے سہاروں کی مدد نہیں کرتے،موقع ہاتھ ٓاتے ہی رشوت لے کر زندگی کو پُر ٓاسائش بنانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔حلال وحرام کے درمیان فرق مدہم ہوتے ہوتے معدوم ہو گیا ہے۔ہماری تمام خواہشوں کی معراج صرف دنیا ہے۔ہماری مثال اس  شخص کی سی ہے جسے بے اختیار راستوں اور بے طلب منزلوں کی طرف سفر پر مجبور کیا جارہا ہے حلانکہ ہم مجبور نہیں ہمیں اختیار حاصل ہے۔ عقل بخشی گئی ہے ہدایت کے راستوں اور گمراہی کی گھاٹیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ پوری زندگی کا نمونہ اور ضابطئہ حیات موجود ہے، واضح نشانیاں کھلی دلیلیں اور جزا وسزا کے مراحل سے واقفیت دی گئی ہے۔۔لیکن ہماری حالت کیا ہے؟ یقین ہوتے ہوئے بھی عمل سے محروم،ایمان رکھتے ہوئے بھی گناہگار اور نافرمان۔۔
ہماری عقل پردہ پوش اور باطنی بصارت ماند پڑگئی۔فہم وشعور کی گواہیاں ختم اور علم وادراک کی کھڑکیاں بند ہو کر رہ گئی ہیں۔ بخشش کی طلب اور ٓارزو تو ہے لیکن دامن کیسے پھیلائیں جس میں ہمارے بد اعمالی کے دھبے جا بہ جا بکھرے پڑے ہیں۔ غفور الرحیم کی زنجیرِعدل ہلانا چاہتے ہیں لیکن اس زنجیر کو پکڑنے والے ہاتھ دنیاوی ٓالائشوں اور گناہوں سے ٓالودہ ہیں۔ پروردگار کو اس کی رحیمی اور کریمی کا واسطہ دے کر اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ زبان ہمارے پاس نہیں جو اس کی یاد اور ذکر سے ہمیشہ تر رہتی ہو۔ اس سے پہلے کہ افلاک کی طرف مراجعت کا وقت ٓان پہنچے اس سے پہلے کہ شہرِ خموشاں کی طرف جانے کی سواری تیار ہو رب سے روابط مضبوط کرنا ہے، اگر جانا ہی اسی کے پاس ہے تو کیوں نہ تعلق کو مستحکم کیا جائے؟ جب انسان سچے دل سے پشیماں ہو کے لوٹتا ہے اپنے خالق کی طرف پلٹتا ہے تو عبد اور معبود کے راز ونیاز میں کوئی بھی حجاب بیچ میں نہیں ٓاتا، معبود اپنے ملکوتی صفات کا عکس عبد پر ڈالتا ہے اور اسے اپنی رحمت کے نور سے ڈھانپ دیتا ہے  قرٓان مجید میں رب فرماتا ہے کہ تو مجھ سے مانگ میں تیری دعا قبول کروں گا۔