مولانا اکتوبر ہی میں مارچ پر بضد کیوں

تحریر: تقد یرہ اجمل

یہ ہے ایک بڑے دانشور کالم نگار کے کالم کا عنوان۔ پہلے تو یہ رواج تھا کہ ہر اخبار میں قارئین کی آراکے لیے ایک حصہ اخباروں میں مختص ہوتا تھا۔جہاں قارئین کے تنقید ی اور تفریفی خطوط تر تیب وار شائع ہوتے تھے۔ایڈیٹر کی ڈاک کا حصہ اب بھی ہے مگر یہاں خطوط کی جگہ چھوٹے اور مختصر کالم شائع ہوتے ہیں۔تنقید ی خط شائع نہ کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ اوّل اپنے لگے بندے ملازم کالم نگاروں کی خوشنودی یاپھر قارئین کی بے اہمتی۔ یہی سوال ایک کالم نگار قانون سے پوچھا تو فرمانے لگیں کہ اب اس کی ضرورت ہی نہیں رہی چونکہ ہر اخبارآئن لائن ہے اور پڑھنے والے تنقیدی یا پھر تفریفی پیغام ٹو یٹر پر بھیجوا دیتے ہیں۔عرض کیایہ تو یکطرفہ ٹریفک ہے۔ ہراخبار بین کے ہاں یہ سہولت میسر نہیں تو اسے کیا پتہ کہ کس نے کس انداز سے تنقید کی تو فرمایا یہ فضول بحث ہے۔ کالم نگار جو کچھ لکھتا ہے اسکا ایک پہلو بر حال تعمیری ہی ہوتا ہے۔
ایک ریٹائرڈ جج صاحب سے ملاقات ہوئی تو ان کے ٹیبل پر ملک میں شائع ہونے والے سبھی اخبار موجود تھےجو پڑھ چکے تھے وہ ایک طرف تھے اور جو ابھی نظر سے نہ گزرے تھے وہ سامنے رکھے تھے۔ میں نے دانشور جج صاحب سے پوچھا کہ سارے ججوں کے دفتر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کہنے لگے نہیں۔ کچھ لوگوں کا خیا ل ہے کہ ججوں کو اخبار نہیں پڑھنا چاہیے۔ اخباروں میں کچھ مقدمات پر مختلف نوعیت کے تبصر ے لکھے ہوتے ہیں جس سے جج ایک رائے قائم کرکے انصاف سے روگردانی کر سکتا ہے۔ میں نے امام غزالی ؒ کا قول دہرایا تو فرمانے لگے کہ میں اس سے متفق ہوں۔ جج کی رائے قانون کے دائرے سے باہر نہیں ہونی چاہیے البتہ معلومات کیے لیے اخبارات کا مطالعہ ضروری ہے۔ کچھ کالموں، خبروں اور تبصروں میں ایسا مواد بھی ہوتا ہے جس سے انصاف میں مدد مل سکتی ہے۔ جج اگر صحیح معلومات کی بناء پر مروجہ قانون سے ہٹ کر بھی فیصلہ کر ے تو وہ قانون بن جاتا ہے۔ جج صاحب نے قائد اعظم ؒ کے مختلف نوعیت کے مقدمات میں دلائل کا حوالہ دیا کہ کس طرح آپ نے علمی قوت سے مروجہ قوانین کوچیلنج کیا اور قانون میں ترمیم کا باعث بنے۔ آپ نے سرینگر کے مشہور مقدمہ حنیفہ بیگم بنام نیاز علی تھانیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1940میں قائد اعظم ؒ نے اسلامی کیلنڈر کے حوالے سے نہ صرف مقدمہ جیت لیا بلکہ ریاست جموں وکشمیر کے قانون میں تبدیلی کا باعث بھی بنے۔
مولانا کے اکتوبر مارچ پر بات کی تو فرمایا ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام ہند کی شاخ ہے جسے آپ پاکستان و نگ کہہ سکتے ہیں۔ اگر کانگرس کی کوئی شاخ یا پاکستان ونگ نہیں تو ایک بھارتی مذہبی سیاسی جماعت جو پاکستان کے وجود کوہی تسلیم نہیں کرتی کو محض مدارس اور مذہب کی آڑ میں ملک کی قسمت سے کھیلنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کھیل آخر مذہب کی آڑ میں ہی کیوں کھیلا جارہا ہے۔وہ مذہبی جماعتیں جن کے مراکز بھارت میں ہیں اور جنہیں بھارت کی طرف سے سیاسی حمایت حاصل ہے انہیں پاکستانی سیاسی نظام میں حصہ دینے کا مقصد پاکستان دشمنی، ملک میں بد امنی اور غیر ملکی پاکستان مخالف ایجنڈ ے کی پذیرائی ہے۔فضل الرحمن کا آزادی مارچ در حقیقت تباہی اور بدامنی مارچ ہے۔ اس مارچ میں بھارت سمیت پاکستان مخالف تنظیموں اور حکومتوں نے پیسہ لگا رکھا ہے۔ اس بات کا واضح ثبوت انصار اسلام نامی تنظیم ہے جسے سالوں پہلے حکومت امریکی دباؤ میں آخر کالعدم قرار دے چکی ہے مگر اب مولانا فضل الرحمن اس تنظیم کے دستوں سے سلامی لے رہے ہیں اور پاکستان پر حملے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
سارا پاکستانی میڈیا کشمیر اور کشمیریوں کو بھول کر فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے پر بحث میں مشغول ہوگیا ہے جوکہ بھارت اور فضل الرحمن کی پہلی کامیابی ہے۔ عمران خان جس شدت سے کشمیر کا مقدمہ لڑرہا تھااس میں ٹھہراؤ آگیا ہے اور کالم نگاروں کی توجہ مولانا مارچ کی طرف چلی گئی ہے۔ بھارت،افغانستان،امریکہ اور کئی دوسرے ملک اور خفیہ تنظیمیں اس مارچ کی آڑ میں پرپاکستان پر حملہ آور ہونگی۔ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے ہڑتال کروا دی گئی ہے جو کہ مولانا مارچ کا حصہ ہے۔غیر ملکی اخبار مولانا مارچ کو عر ب بہار سے منسلک کررہے ہیں اور اسے پاکستان میں آزادی بہار کا نام دیکر پاکستان میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔
ٓٓآخر کوئی تووجہ ہے کہ امریکہ انصار اسلام کو اہمیت دے رہا ہے اور امریکی اخبار اور دنیا بھر کا میڈیا اسے پوری توجہ دے رہا ہے۔اٹھار ویں آئینی ترمیم کا ہتھیاربھی اپنی جگہ موجود ہے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ اس آئینی ترمیم کی آڑ میں کسی بھی وقت مکمل خود مختار ی کا بھی اعلان کر سکتی ہیں جبکہ صوبہ پختونخوا میں اے این پی،مولانا پارٹی،پی ٹی ایم،شیر پاؤ او ردیگر سیاسی گروپ افغانستان،بھارت،امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے ایک بڑا المیہ بر پا کر سکتی ہیں۔ تقریبا ً یہی حالات بلوچستان کے بھی ہیں جہاں مولانا پارٹی کے علاوہ بلوچ لبریشن آرمی، اچکزئی، بزنجو اور ٹی ٹی پی پہلے ہی پاکستان مخالف رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
مشہور اور دانشور کالم نگار خود بھی جانتے ہیں کہ آخر مولانا اکتوبر میں ہی مارچ پر بضد کیوں ہیں۔ مولانا ساری دنیا کے پاکستان مخالف اداروں اور قوتوں کی ترجمانی کر رہے ہیں اور بھارت کو کشمیر کے مسئلے پر بیل آؤ ٹ کرنے کا بھر پور معاوضہ لے چکے ہیں ورنہ امریکی میڈیا اسے آزادی بہار اور پاکستان میں خانہ جنگی کے نقطہ آغاز سے تشبیع نہ دیتا۔پاکستانی تاجروں،صنعت کاروں، طلباء تنظیموں اور سرکاری اہلکاروں کو کہا ں سے شہہ مل رہی ہے اور وہ کون ہے جو دن رات مولانا سے رابطے میں ہے۔

مشہور اور دانشور کالم نگاروں کو اسطرف بھی توجہ دینی ہوگی۔کالم نگار کے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ جو ملکی اور غیر ملکی قوتیں مولانا کو میدان میں لائی ہیں اکتوبر اُن کا پسند ید ہ مہینہ ہے مولانا کا نہیں۔ مولانا کی حیثیت کمرے میں ہاتھی کی سی ہے۔ہاتھی اگر کمرے میں چلا جائے تو وہ گھوم کر باہر نہیں نکل سکتا۔یا تووہ کمرے میں بند مر جاتا ہے یا پھر کمرہ توڑ کر نکلتا ہے۔مولانا کاآزادی مارچ بھر پور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ہاتھی یا کمرہ فیصلہ عوام نے کر نا ہے مگر عوام میں شعور ہی نہیں ہے۔

2 Replies to “مولانا اکتوبر ہی میں مارچ پر بضد کیوں”

  1. تازہ خبروں کے مطابق ڈھائی کروڑ ڈالر میں نواز شریف کے ساتھ ڈیل ہو گئی ہے. اگر یہ خبر درست ہے تو یہ انتہائی افسوس کی بات ہے. جن پر ملک لوٹنے کا الزام لگا کر سیاست کی کیا اسکی قیمت محض ڈھائی کروڑ ڈالر تھی. کیا ملک لوٹنے کی قیمت بس اتنی ہے. یا تو خان صاحب جھوٹ بول رہے تھے کہ نواز شریف نے ملک لوٹا ہے اور وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ میں جب تک زندہ ہوں کوئی بھی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہوگی. پھر یہ سب کیا ہے؟ ہم لوگ آخر کس پر اعتبار کریں؟

  2. کشمیر کے معاملے پر عمران خان کی حکومت نے صرف اور صرف ایک اچھّی تقریر کی ہے اور کچھ نہیں کرسکا ہے اور نہ کرنے جا رہا ہے، اسکے برعکس وہ اپنی قوم کو ہندوستان سے ڈرا رہا ہے۔ مولانا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مولانا ہر حکومت کے ساتھ مل کر حکومتی آسائیشوں اور انعامات کا مزہ لوُٹتا رہا ہے اور مولانا کسی عملی آدمی کا نام نہیں ہے تو اب دیکھیں مولانا بے پردگی، بدعنوانی، بے راہ روی، اور ظلم کے خلاف عملی میدان میں کوُد رہا ہے۔ یقینا” اسکا ساتھ دینے والے سب احمق تو نہیں ہے۔ کُچھ تو غلط ہورہا ہے۔ حکومت کی شاہ خرچی پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے۔ بڑے سرمایہ داروں کو سب کچھ معاف کر کے سارا بوجھ چھوٹے دوکانداروں پر ڈال دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.