Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

خادمین اسلام کی نافھمیاں‎

ڈاکٹر خلیل جغورو

اسلام کی تاریخ پر اگر سرسری نظر دوڑائی جائے تو محسوس ھوتا ھے کہ اسلام کی تاریخ کو جس نے کریدا اس کی نیت ھی میں فطور یا تو پہلے سے موجود تھا یا مطالعہ کرتے کرتے ان کو یہ لگا کہ اس موضوع پر پہلے جس نے جو لکھا ھے ان سب میں کوئی نہ کوئی کمی خامی ضرور ہے۔ اب اس نے اپنے مطالعے کی بنیاد پر ان نا سمجھیوں کا ازالہ کرنے کے بجائے اپنی ایک الگ کہانی ترتیب دینی شروع کی۔ ان کے اپنے تحقیقی مقالے  لکھنے کا مقصد  کہیں بہتری لانا نہیں بلکہ اپنا ایک الگ مکتبہ فکر تشکیل دینا ہی رہا۔ یوں طرح طرح کے فرقے وجود میں آتے گئے اور دین کا حلیہ بگڑتا گیا۔

ابتدائی زمانے کے معمولی ناخوشگوار واقعات بعد میں اقتدار کی ھولناک جنگوں کی صورتوں میں سامنے آئے۔ معمولی غلط فہمیوں کو مل بیٹھ کر طے کیا جاسکتا تھا، لیکن  ان  کو انا کا مسئلہ بنایا گیا۔ یوں بات قتل وغارت تک جا پہنچی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ایسے واقعات سے کچھ سیکھنے کے بجائے انہیں بنیاد بناکر مزید دراڑیں پیدا کی گیں۔ پھر آئمہ نے رہی سہی کسر بھی پوری کرتے ھوئے امت محمدی کو جعفری،  اسماعیلی،  حنفی، مالکی،  شافعی وغیرہ فرقوں میں تقسیم کیا۔ وقت اور زمانے کے حساب سے دیکھا جائے تو ان فرقوں کے بننے میں کوئی بہت زیادہ وقفہ بھی نظر نہیں آتا۔ گروہ بندی کرنے والوں کے دلوں میں اگر اسلام کی خدمت کا جذبہ موجود ہو نہ ہو، لیکن دور اندیشی کا فقدان ضرور رہا۔

کبھی گمان بھی نہیں کیا گیا کہ ان کی تحقیقات کا نتیجہ بعد میں کیا نکلے گا۔ آنے والے زمانوں میں اسلام کو پھیلانے کے نام پر جو جنگیں لڑی گیں، ان کا بظاہر مقصد صرف سلطنتوں کو پھیلانا ہی لگتا ہے۔  فتوحات در فتوحات اور ان کے جشن منائے جاتے رہے۔ گھمبیر مسائل اسلام کے اندر پروان چڑھتی رہیں اور مسلمان بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتے رہے۔ اسلام کو نظریات کی بنیادوں پر پھیلانے کے بجائے فاتحین بزور شمشیر سب کچھ کروانے پر تل گئے۔ نتیجے میں جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ھے۔

کشتیاں اگر اللہ کی رضا کی نیت سے جلائی جاتیں تو قرطبہ آج عجائب گھر نہ بن چکا ھوتا۔ شاہی قلعے اگر اسلام کو تحفظ دینے کی نیت سے بنے ھوتے تو آج وہ سیر گاہوں کی شکل اختیار نہ کرتے۔ ہندوستان پر یکے بعد دیگرے حملوں کی نیت صرف اور صرف اللہ کی رضا ھوتی تو آج ھندوستان میں آئے روز مسلمانوں پر مصیبتوں کے پہاڑ نہ ٹوٹتے۔  تاج محل، مقبرہ نور جہاں اور مقبرہ جہانگیر کی جگہ اگر اسلامی درسگاہیں بنتیں تو آج اسلام لوگوں کے اعصاب پر سوار ہونے کے بجائے ان کے ذہنوں میں بیٹھ جاتا۔ شاھی قلعے کے اندر “بخدا” کہہ کر اگر دھمکیاں نہ دی جاتیں اور شام ڈھلتے لونڈیاں نہ نچائی جاتیں تو ھیرا منڈیاں وجود میں نہ آتیں ۔۔ ان خرابات کے بجائے درس و تدریس اور تحقیق کے مراکز کھولے جاتے تو یہ آج اسلام کے قلعے اور اعلی تعلیمی اور تحقیقی مراکز بنے ھوتے۔

نتیجے میں مغلوں کو انگریزوں سے اپنی ہی سلطنت کے اندر اپنی  قبرکیلیے دو گز زمین کی بھیک نہ مانگنی پڑتی۔ غور کیا جائے مسلمانوں میں اقتدار کی ہوس آج سب کچھ کھونے کے بعد بھی زندہ اور تابندہ ھے۔ آج اسی شوق کو پورا کرنے کے لیے اسلام کے نام پر ھم سیاست پر اتر آئے ھیں۔ نعرہ وہی ہے جو آج سے سینکڑوں سال پہلے کے فاتحین نے لگایا تھا ۔ البتہ نیتں ان سے بد تر ھو چکی ھیں۔ وہ شاید غیروں کو زیر کرنا چاھتے تھے، آج اپنوں ہی کو زیر کرکے اسلام کی بد ترین تاریخ رقم کرنے کی کوشیشں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر زوروں سے جاری ھیں۔ آج امام جعفر صادق کے مرید ایران میں، امام شافعی کے پیروکار عربوں میں، امام ابوحنیفہ کے پیروکار پاکستان اور انڈیا میں ایک دوسرے کو نیست نابود کرنے کیلیے غیر مسلموں اور اسلام کے سب سے بڑے دشمنوں امریکہ اور کارل مارکس جیسے کمیونزم کے بانیوں کے ملک روس سے مدد کیلیے دامن پھیلائے نظر آتے ھیں۔

بات یہیں رکتی کہاں ہے۔  پھر فرقوں کے اندر فرقے۔ اسماعیلی، شیعہ، بوہری، دیوبندی،  بریلوی،  وھابی، اھل حدیث اور پتہ نہیں اور کیا کیا کچھ۔  اللہ جانے ھم کس منزل کی طرف رواں ھیں۔ امت کو جوڑنے یا کم از کم اس کا دعویٰ  کرنے والے چند لاعلموں، عامیوں اور ناسمجھوں کا ایک ھی ٹولہ رہ چکا ھے اس میں بھی 85% کو معلوم ھی نہیں کہ وہ کہہ کیا رھے ھیں۔

  اللہ تبارک و تعالی خود ھمیں اور ھمارے دینی قایدین کو حکمرانی کے نشے سے آزاد کرکے اسلام کو صحیح معنوں میں یکجا کرنے اور اسکو فروع دینے کیلیے عقل سلیم عطا فرمائے۔۔

ڈاکٹر خلیل جغورو

You might also like
1 Comment
  1. Ss fatimi says

    EXCELLANT way forward..

Leave a comment

error: Content is protected!!