خُورو پیالان گانی کیہ ہوٹل والی

تحریر: طارق اقبال

ایک عام چترالی کی حیثیت میرے لئے کسی پارٹی اور کسی شخصیت کی کوئی اہمیت نہیں۔میرے لئے ہر وہ انسان اہم ہے جس نے سرزمین چترال اور اس میں بسنے والے سادہ لوح عوام کے لئے ایک روپے کا بھی کام کیا ہو۔میرے لئے وہ پارٹی اہم ہے جس کی حکومت میں چترال کے اندر ترقیاتی کام ہوئے ہوں۔مجھے اس پارٹی اور اس شحصیت سے کوئی سروکار نہیں جس کا صرف نام اور باتیں بڑی ہوں۔جو صرف عیر ضروری چیزوں کو اچھالتا ہو اور عوام کو جھوٹ کے زریعے بے وقوف بناتا ہو۔ایک عیر جانبدار چترالی کی حیثیت سے مجھے گراونڈ میں حقائق کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔مجھے کس نئے پروجیکٹ سے فائدہ ہوا ہے۔کس روڈ سے مجھے سفر میں آسانی ہوئی ہے۔کونسی نئی پروجیکٹس کا چترال میں اجرا ہوا ہے۔کتنے فنڈز چترال میں لائے اور استعمال کئے گئے۔کس کس شعبے میں کونسے کونسے کام ہوئے ان سب چیزوں کو دیکھنا ہے۔

چترال کے سابق ایم این اے جناب شھزادہ افتخارالدین صاحب کے اوپر سب نے کھلے دل سے تنقید کیےاور اس تنقید میں بذات خود میں بھی شامل رہا۔ ان کے کام کو فیس بلی انکے کوششوں کو جعلی اور ان کی محنت کو ڈرامہ قرار دیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ متعصب لوگوں نے انکے خاندان کو بھی ٹارگٹ کیا-

اگر پچھلے پانچ سالوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو جتنا کام شھزادہ افتخار الدین صاحب (سابق ایم این اے) نے کیا ہے آج تک کسی نے نہیں کیا۔اس کی زندہ مثال لواری ٹنل پروجیکٹ کو فنڈز کی فراوانی، گولین گول پروجیکٹ کی تکمیل اور اس سے بائی پاس گرڈ اسٹیشن کے زریعے چترال کو بجلی کی فراہمی، زلزلہ زدگان اور سیلاب زدگان کی بروقت امداد، ایک منتخب وزیر اعظم کے چترال کے کئی دورے، چترال کے لئے گیس پلانٹس وعیرہ ایسے کام ہیں جو حقیقت بھی ہیں اور عیان بھی

اب آتے ہیں ان سارے پروجیکٹس کی حقیقت کی طرف۔ان سارے پروجیکٹس اور فنڈز کی ڈیٹیل نیچے دئے گئے لنک میں موجود ہیں

Link to PML-N budget (PSDP) presented in May 2018 

چترال کے لئے ٹوٹل ترقیاتی پیکج 173.14 بلین روپے تھا۔اس میں سے 2013 سے 2018 تک مندرجہ زیل پروجیکٹس پر کل 61 بلین روپے خرچ ہوئے

گولین گول ہائڈرل پاور پروجیکٹ 28.5 بلین

لواری ٹنل پروجیکٹ 27 بلین

زلزلہ زدگان کی مالی معاونت پر کل 2.22 بلین

سیلاب زدگان کی مالی امداد پر 1 بلین (ایک مکان ایک لاکھ)

چترال میں موبائل ٹاور اور تھری جی فور جی سروس پر 1.9 بلین

تورکہو روڈ جس کی ٹوٹل تحمینہ لاگت 1.11 بلین تھا اور سالانہ ایلوکیش 30 کروڑ تھا جو کم کرکے صرف 6 کروڑ کر دیا گیا

تین گیس پلانٹ (دروش، چترال، ایون) کے لئے 2 بلین جو الگ سے منظور ہوئے ہیں۔یہ سارے پلانٹس امریکہ سے برآمد کرکے لاہور میں موجود ہیں اور انکے لئے زمین کی خریداری کی قیمت تقریباً 23 کروڑ ڈی سی چترال کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کیے جا چکے تھے۔

اب آتے ہیں ان 49بلین روپوں کے منصوبوں کی طرف جن کے لئے 2018کے پی ایم ایل این کے بجٹ میں فنڈز الوکیشن ہو گئی تھی۔

چترال۔بونی، مستوج۔شندور 145 کلومیٹر ایکنیک سے 7 مارچ 2018 کو اپرو ہوا تھا اسکا سالانہ الوکیشن 1.5 بلین سے کم کرکے 1 بلین کردیا گیا ہے

شندور گلگت روڈ جس کی لاگت 25 ارب تھی مکمل طور پر ہٹایا گیا تھا لیکن ابھی دوبارہ شامل کیا گیا ہے لیکن اسکی تحمینہ کم کرکے صرف 16.7 بلین رکھا گیا ہے یعنی 9 بلین کی کٹوتی کی گئی ہے

چترال گرم چشمہ روڈ 85 کلومیٹر تقریباً 8.32بلین

کالاش ویلی روڈ48 کلومیٹر ٹوٹل کاگت 4.64 بلین

کشادگی اور بلیک ٹاپنگ تیریچ، لوٹ اویر روڈ 132 کلومیٹر تقریباً 16 بلین جو 6 پلوں (پرپش،کوراع۔کوشٹ، بنباع۔کوشٹ، دراسن موڑکہو، کندوجال-کشم، نشکوہ-مداک) پر مشتمل ہے۔بجٹ سے نکال دیا گیا ہے

یونورسٹی آف چترال جس کا پی سی ون تقریباً 2.9 بلین پلاننگ کمیش کے پاس موجود ہے۔جو مکمل طور پر اس بجٹ سے نکال دیا گیا ہے

چترال میں بجلی کی ترسیل کے لئے 3.47 بلین 9 مختلف فیڈرز پر جبکہ 1.8 بلین گرڈ اسٹیشنز (قاقلشٹ، مستوج، گرم چشمہ اور گہیریت) اس میں سے 1.8 بلین روپے کم کرکے 1.44 بلین کردیا گیا ہے

اسکے علاوہ بونی مستوج بروعل روڈ پر سروے کا کام مکمل ہوچکا تھا

ان سارے تفصیلات کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سابقہ ایم این اے کے دور میں پبلک سیکٹر دولپمنٹ پروگرام کے تحت 21 نئے پروجیکٹس کا اضافہ کیا گیا تھا جو چترال کی تاریخ میں ایک بڑی سنگ میل ہے۔لیکن چترال یونورسٹی اور تریچ لوٹ اویر روڈ نکال دیے گئے اب ٹوٹل پروجیکٹ کی تعداد 20 رہ گئی ہیں۔

کیا ہم عینی شاہد نہیں ہیں کہ لواری ٹنل پر فنڈز کی فراہمی کس کے دور میں ہوئی۔ہمارے گھروں میں بند پڑے برقی آلات کب سے دوبارہ زیر استعمال آنے لگے۔زلزلہ زدگان کی مالی امداد، سیلاب زدگان کی بحالی، وزیر اعظم کی چترال کے دورے، تھری جی اور فور جی سروس اور چترال کے طول و عرض میں موبائل نیٹورک کی فراہمی، مستوج پل بونی پل سے لیکر تورکہو روڈ پر کام کا اعاز، گرم چشمہ میں نادرا آفس کا قیام یا چترال میں گیس پلانٹس کی تنسیب، یہ سارے کام ہوئے تو ہیں۔پھر ہم کیوں آنکھوں پر پٹی ڈال کر حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کر رہے ہیں

1999 میں چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے چترال کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر شندور میں چترالی عوام سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے چترالی عوام سے وعدہ کہا تھا۔ “لواری ٹنل پروجیکٹ میرا چترالی عوام کے ساتھ وعدہ ہے” انہی کے دور میں ٹنل مکمل ہوا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے اسکا افتتاح کیا۔بعد میں میاں نواز شریف صاحب کے دور میں شھزادہ افتخار کی سرپرستی میں اس پروجیکٹ پر کام مکمل ہوا۔ان سارے پروجیکٹس پر کریڈٹ لینے کی کوشش بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانا کے مترادف ہے۔

بہت سارے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اس بات پر زور دیتے نظر آتے ہیں کہ چترال میں اہلیت کی بنیاد پر ووٹ دینا چاہئے اگر اہلیت ہی بنیاد تھی شھزادہ افتخار سے زیادہ اہل کوئی نہیں تھا۔صرف پانچ سالوں میں 21 نئے پروجیکٹس کا اضافہ کوئی معمولی کارکردگی نہیں ہے۔ چترال میں سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر اگر کام کریں گے تو سب کا بھلا ہوگا اگر سوال کرنا ہے تو سب سے مل کر کرین قرنہ کسی ایک فرد کی ذاتی زندگی کو ٹارگٹ کرکے تنقید کا نشانہ بنانا کہاں کا انصاف ہے۔

چترال میں اگر ترقی چاہئے تو آنکھیں کھولنے پڑے گی اور اس آدمی کو سپورٹ کرنی پڑے گی جو کچھ کرنے کے قابل ہو اور جس کی کوئی نہ کوئی کارکردگی نمایاں ہو۔ورنہ مزہب کارڈ استعمال کرکے بے کار لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیج کر حکومت سے خیر کی توقع کرنا احمقانہ اور عیر فطری اقدام ہے۔

2 Replies to “خُورو پیالان گانی کیہ ہوٹل والی”

  1. The problem Mr Shahpar does not lie in our starts but in ourselves that we are underlings. Please have a look at your geography. Its almost 20% of KPK and look at the size of your population its not even one percent of the population of the province. The resources that would come into the area would depend on your population size. If there is any reason for the your backwardness in terms of physical infrastructure its because its impossible for any representative of yours to generate those kind of resources because of the single seat that you have in the national and provincial legislatures. Beyond this its the individual capacity of your representative, their credibility and network and ties that generates you small grants that solve some of your many problems but sadly its a human limitation that this can only be done incrementally and in small numbers. Lets acknowledge the strengths of each of our representative and give credit for the odds against which they have to fight to give us a semblance of development rather than getting into our Chitrali pastime of vilifying everyone because they are better than us. The last MNA gets the credit for putting Chitral into the federal planning process. He fought valiantly for the rights of Chitral, a fact that was acknowledged by the Planning Minister repeatedly and the Prime Minister during two of his visits to Chitral towards the end of his term. Why was Chitral Town made an exception and provided electricity from the national grid when other places in Pakistan did not get that privilege despite the power being generated in their valleys. Similarly he fought to extend electricity to upper Chitral although the lines belonged to PEDO and there was no instances of electricity being supplied to PEDO by PESCO. The upgradation of Chitral town power house and the building up of ties with the French aid agency also goes to him. The main roads in Chitral valley came on the national planning agenda for the first time. They may be delayed and done in small bits and pieces but they are on the national agenda. The supply of gas will solve our energy problems and possibly reduce the pressure for firewood.All this requires hard work and building of relationships and ties to have it acknowledged at the federal level. Lets not belittle this effort in the name of Chitral’s development. In the PPP government Chitral did not get its share of funding on the Lowari project because funds were diverted by no less a person than the Prime Minister to his home constituency in Multan and the PML government had to get international loans to complete the project. The remarks of the nature of personal ties between the former Prime Minister and the former MNA are figment of Mr Shahpars negative mind. Mr Nawaz Sharif had repeatedly asked to visit Shahzada Mohiuddin both during his visit to Chitral and even in Islamabad. His family with gratitude declined the request out of consideration to the illness of Shahzada Mohiuddin. Sadly with his sick mind Mr Shahpar adds his own twist to this simple fact. We as Chitralis must ackowledge that we face an almost impossible situation in seeking funds and developing our district. You have to go across the Shandur Pass to see that even without representatives in the national legislatures GB gets far more government resources than us. This is because of their geo strategic locations.. Chitral unfortunately has none of that and its will be struggle for Chitral to get resouces and develop itself even if itsgets the best representative in the assemblies because its population is too small in the overall scheme of things. Le us not belittle our elected representatives who ever they are and ackowledge their efforts because even if we are divided after elections we have little chance to meet our challenges

  2. ہر بندے کو کسی بھی سیاسی پارٹی اور نمایندے کی حمایت کا مکمل حق حاصل ہے۔ لیکن اوپر جو کام آپنے گنوائے ان میں تورکہو روڈ کے علاوہ کوئی بھی کام نہ افتخار کا ہے نہ اسکو اسکا کوئی کریڈٹ جا سکتا ہے۔ لواری اور گولین بجلی گھر پرانے منصوبے تھے جن پر تیزی سے کام ہورہا تھا اور ان کا مکمل ہونا بنتا تھا۔۔۔پھر دوسری بات یہ ہے کہ افتخار سے پہلے پانج سال انکے والد محترم ایم این اے تھے جن کے دور میں فنڈ بہت کم ریلیز ہوئے تو اگر اس دور کا کریڈٹ افتخار کو دینگے تو پچھلے پانج سال کی ناکامی اور چترال دشمنی کا کریڈٹ انکے والد کو بھی دے رہے ہیں؟؟؟ افتخار پی ایم ایل این سے تعقل نہی رکھتے تھے اور نواز شریف کو ان اور انکے والد سے اتنی نفرت تھی کہ چترال دو دفعہ تشریف لائے لیکن انکی عیادت تک کرنے نہی گئے۔۔ البتہ اپنے کک کے گھر تشریف لے گئے۔۔ اسلئے نواز شریف دور میں جتنا فنڈ ریلیز ہوا وہ انکی اپنی مہربانی تھی اس میں افتخار کو کوئی کارنامہ کوئی محنت شامل حال نہی تھی۔۔ یہ بہت سادہ بات ہے اس میں جھوٹ کی ٓآمیزش کرنا سراسر زیادتی ہے۔۔۔ باقی وہ پانج سال ایم این اے رہے تورکہو روڈ کے علاوہ کوئی بندہ انکا کوئی نیا منصوبہ اور اسکی تکمیل گنوا کر بتائے کہ یہ کام انہوں نے کیا تھا۔۔ آپ لاسپور سے شروع کرکے لواری ٹنل تک چلے جایئں تو ہماری تباہی بربادی اور پتھر کے زمانے میں رہنے کا ستر فیصد کریڈٹ شہزادہ محی الدین اور انکے بیٹے کو جاتا ہے اور باقی کا مولویوں کو۔۔ اب بھی ان ناکام لوگوں کا ڈھول گلے میں لٹکا کر پیٹنے کے بجائے تھوڑا شعور سے کام لیکر مستقبل کیلئے بہتر منصوبہ بندی اور ووٹ کا صیح استعمال کیا جائے تو مستقبل بہتر کر سکتے ہیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *