تاریخ نویسی میں علماء کا حصہ

صدا بصحرا
ڈاکٹرعنایت اللہ فیضیڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
تاریخ نو یسی میں علماء کا حصہ ہمیشہ نمایاں رہا ہے مولانا محمد یونس خا لد کی تازہ تصنیف ’’ریا ست چترال کی تاریخ اور طرز حکمرانی‘‘ اس علمی سلسلے کی نئی کڑی ہے جس میں پا کستان کے شمال میں افغا نستان، تا جکستان اور چینی صو بہ سنکیانگ کی سر حدات کے سنگم پر وا قع ضلع چترال کی ایک ہزار سالہ ریا ستی تاریخ کا احا طہ کیا گیا ہے
مصنف نے اس مو ضو ع پر شائع ہونے والے مو اد کے جا ئزے کے بعد اس پر اہم مو اد کا اضافہ کیا ہے اور یوں کتاب کی وقعت بڑھ گئی ہے 246صفحات میں چھوٹے تقطیع کی یہ کتاب سابق ریا ست چترال کی ایک ہزار سالہ تاریخ پر ایسی روشنی ڈالتی ہے کہ قاری کی انگلی پکڑ کر اُس کو تاریخ کے کو چہ و بازار میں لئے پھر تی ہے یہ دسویں صدی کا چترال ہے بہمن کھو ستانی نے ریا ست کی بنیاد رکھی اور منظم حکومت کی داغ بیل ڈال دی وہ بدھ مت کا پیرو کار تھا اس کے بعد ریا ست کا اقتدار کا لاش قبیلے کو ملا اس قبیلے نے 300سال حکومت کی گیار ھویں صدی سے چودھویں صدی تک کا لاش کی حکمرانی رہی 23کالاش حکمران گزرے کا لا ش کے آخری دور میں بالائی چترال پر سو ملک کے خاندان کی حکومت قائم ہوئی پھر رئیس قبیلے نے مغزلی تر کستان سے آکر چترال کو زیر نگین کیا یہ پہلا مسلمان خاندان تھا جو 1320ء میں ریا ست کا حکمران بنا شاہ نادر رئیس نے اسلام کی تبلیغ کے لئے مبلغ بلائے اور تنازعات کے حل کے لئے شر عی عدالتیں قائم کر کے قاضی مقر کئے ان کے دستخط اور مہر سے جاری شدہ اسناد ملا آدم اور دیگر قا ضیوں کی اولاد کے پاس محفوظ ہیں
رئیس کے دور میں 1520ء تک چترال کی تین مخصوص وا دیوں میں کا لاش حکمرں راژاوائے کی حکومت رہی 1520میں پورے چترال میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی 75سال بعد 1595ء میں رئیس خاندان سے ریا ست کا اقتدار سنگین علی کی اولاد کو منتقل ہواوہ فر غانہ سے تر ک وطن کرنے والے بابا ایوب کا پوتا تھا بعد میں اس کا خاندان ’’کٹور‘‘ سے نام مشہور ہوا 300سال حکومت کرنے کے بعد 1895ء میں کٹور حکمرانوں نے انگریزوں کی عملداری قبول کی اور اندرونی خود مختاری کی شرط پر ریا ست چترال کو ہندوستان کی برطانوی سرکار کا زیر حفاظت علا قہ قرار دیا گیا 1947ء میں چترال کی ریا ست نے پا کستان کے ساتھ الحا ق کیا اور 1969ء میں ریا ست کو ختم کر کے چترال کو ملاکنڈ ڈویژن کا ضلع بنا یا گیا یہ لمبی کہانی ہے بقول کسے پھیلا ئیے تو ہزار داستان ہے ریا ست چترال کی تاریخ اور طرز حکمرانیسمیٹئے تو ایک جملے میں آجائے گا ’’ریا ستی تاریخ کے بارے میں وثوق سے یہی بات کہی جا سکتی ہے کہ وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا‘‘ ڈاکٹر محمد یو نس خا لد نے ریا ست چترال کی تاریخ اور طرز حکمرانی میں الحاق پا کستان کے بعد ضلع چترال کی سیا سی وسماجی تر قی کا بھی جا ئزہ لیا ہے اور ریا ست کے اندر آزادی کی تحریک میں علماء کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے ریا ستی دور کے کئی مو ضو عات ایسے ہیں جن پر ایک سے زیا دہ اراء ہو سکتی ہیں مثلاً ریا ست کا ما لیاتی نظام ایسا باب ہے جس میں مختلف ٹیکسوں کا ذکر ہے جو جبراً وصول کئے جا تے تھے
اسی طرح ریا ست چترال کے سماجی طبقات کا باب بھی متنازعہ مو ضوعات میں شامل ہے مثال کے طور پر طبقاتی نظام میں ایک گروہ کو ’’ آدم زادہ‘‘ قرار دے کر ’’بر ہمن‘‘ کا درجہ دیا گیا تھا دیگر طبقوں کو چھیر موژ، خا نہ زاد، اور رایت کا نام دے کر اچھوت قرار دیا جا تا تھا اس حساس مو ضوع کو چھیڑ تے ہوئے مصنف نے مختلف طبقوں کی حساسیت کا خیال رکھا ہے مثال کے طور پر یُفت کے لئے ارباب زادہ کی اصطلاح استعمال کر کے اس طبقے کو آدم زادہ کے پہلومیں جگہ دی ہے آزادی کی تحریکو ں میں ایک خا مو ش تحریک کا بھی ذکر کیا ہے مصنف کی تحقیق کے مطا بق علی گڑ ھ میں چترال کے پہلے طا لب علم غلا م مصطفے ٰ 1910ء میں تعلیم مکمل کر کے چترال واپس آئے تو انہیں متہر چترال کا سکرٹری اور شہزادوں کا استاد مقرر کیا گیا غلام مصطفےٰ نے ولی عہد شہزادہ نا صر الملک کو بغاوت پر اکسایا، اُن کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ ریا ست بھی نہیں رہے گی، انگریز بھی ملک چھوڑ کر چلا جائے گا عوام پر ظلم نہیں کر نا چا ہئیے انہوں نے علی گڑھ سے جو تحریکی ذہن پا یا تھا وہ تحریکی ذہن 1924ء میں سفرحج کے دوران ارض مقدس میں ان کی وفات تک بے قراری سے مچلتا رہا انہوں نے ریا ستی جبر اور انگریزوں سے آزادی کے خلاف باغیوں کا ایک خا مو ش گروہ تیا ر کیا تھا یہ خا مو ش گروہ 1969ء تک منظم اور فعال رہا
اگر ڈاکٹر محمد یو نس خالد کی تحقیقی کا وش کو تاریخ کے تنا ظر میں دیکھا جائے تو فن تاریخ نویسی میں طبری، ابن جریر اور مسعودی سے لیکر مولانا شبلی نغمانی تک علمائے دین کی لمبی فہرست سامنے آجا تی ہے ریا ست چترال کی تاریخ پر جو مستند ما خذات ملتے ہیں وہ بھی دو جیّد علماء محمد سیر اور محمد غفران کی لکھی ہوئی کتا بیں ہیں عالم دین محمد سیر نے 1840ء تک کے وا قعات اور جنگوں کو شاہنامہ چترال کے نام سے فارسی نظم میں قلمبند کیا محمد غفران نے 1926ء تک کے وا قعات اور حالات کو فارسی نثر میں لکھا یوں چترال کی تاریخ کے دواہم ما خذات علمائے دین کے قلم سے لکھے ہوئے شہکار ہیں اس حوالے سے ڈاکٹر محمد یونس خالد تیسرے عا لم دین ہیں جنہوں نے تاریخ چترال کے کئی پو شیدہ گو شوں سے پردہ اُٹھا یا ہے
کتاب کا وہ حصہ بہت دلچسپ ہے جس میں اگست 1982ء کی بدامنی اور مولانا عبید اللہ شہید کی تحریک کے اسباب، وا قعات اور اثرات و نتائج پر بحث کی گئی ہے نیز 1956ء سے 2018ء تک قومی انتخابات میں کامیاب اُمید واروں کی پوری فہرستیں دی گئی ہیں اور بتایا ہے کہ پا کستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، جما عت اسلامی اور جمیعتہ العلمائے اسلام نے کتنی بار چترال سے قومی اور صو بائی اسمبلی کی نشستیں حا صل کیں خوبصورت گر دپوش کے ساتھ مجلد کتاب کی قیمت 400روپے رکھی گئی ہے کام کے مقا بلے میں دام زیادہ نہیں بسام رسیرچ پبلی کیشنز کراچی سے جنوری 2019ء میں شائع ہو نے والی کتاب ما رکیٹ میں دستیاب ہے عام قاری سے لیکر امتحا نات کی تیاری کرنے والوں تک سب کے لئے مفید ہے خاص کر محقق کے لئے بنیادی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے

8 Replies to “تاریخ نویسی میں علماء کا حصہ”

  1. It is however correct that the Raees period was peaceful and welfare based. Perhaps it was a newly formed Muslim rule here so it was a tributary state to the Amir of Kashghar.

  2. And our historian has written foreword on this book, thus defending himself and the book. At the same time he has been part of same tacit movement in which he supports the idea of moralizing and justifying the position of Yuft as a group had something different to others. And they are the real respectful by then and now.

  3. First that is to be pointed out that there is a recorded history as documents of Chitral since 1740s when the rulers of Chitral were Called Raees. Then there is some document of Khyrullah Mehtar of later 1790’s. Before Raees the rulers were called Sumaleks who were probably all over Kafir period rulers. The capital of Chitral was shifted to present day Chitral town from Kosht either in last Sumalek era or in Raees period. Raees rulers also practiced some un-islamic rites like storing the dead in shelves in the Gunbad e Raeesan mound which is present time Goldoor Dok. Katoor family came to power and ruled as Mehtars after 1760s. Chitralis, Dangerik, Khuzareis, Kohistanis, Bashqerik, Bashgalis, Kalashas all were different tribes of Kafirs. Even Diris. In 1560-70s when Mughal Army of Akbar made a campaign against Yusufzais, they chased them upto upper Dir where they have written that they captured some villages of Dir from the Kafirs ahead. The main Kafir tribe was Chitralis and the Drasan fort of Kosht was the historic fort of Chitral and all Kafiristan. The ruler of Chitral was respected and obeyed by all. Kalasha tribe lived in Drosh and Ayun who started merging into main Chitrali tribe after Islamization of the area. Tribewise first Chitralis, then Dangeriks and Kohistanis and then Kalasha converted to Islam. Bashgalis were in gradual conversion when Amir Abdurrahman after winning over the area from English made them converted as a whole by giving them ultimatum. Writing a history is not writing a gossip or a story telling.

    1. Did you read the book and commenting on that or you are commenting on this article? The things you mentioned are known to every kid in Chitral so I am not sure what you actually want to say.

      1. It’s a casual statement that every kid knows that. Least may know that and for your own self, if you know that much what I have commented then I bet you are a historian.
        One wearing 3 piece suit and taken bar b que cannot even imagine the days only a century back in Chitral when sleeping with a filled belly was the highest degree of luxury for a countryman. Then think of bringing ulamas or scholars from Bukhara etc here to serve….???

        1. Again, I must say you make no sense. I am at a loss to see what you actually want to say! and the things you mentioned are known to everyone, even college kids.

    2. Beta,the Raises’ burying their dead in vaults in underground burial rooms accorded to the grave culture of those days.It might not be un-Islamic per se,as the religious rites of burying the dead,giving them bathing,saying their prayers and preserving them in the manner stated seem not to be derogatory to what in essence the Islamic teachings in this regard are.The Raises were harbingers of peace,development and enlightenment in the area as detailed in ‘Nayi Tarikh e Chitral’.Their characteristic almost ‘unworldliness’ for not amassing land tracts for the ruler tribe and their progeny besides their seeming monogamous practice testifies to my assertion.Their propagation of Islam by building the first ever university in the area,managing learned resource persons for the same,fighting holy wars with the pagans, subduing and consolidating Chitral Territory,constructing big channels are some of the traits not or little known in monarchy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *