Meeting vows to resist govt bids to occupy public lands thru vague notification

CHITRAL: People from a cross-section of society have called upon the government to avoid finalizing land settlement in Chitral without removing the reservations of the locals and taking them on board.

Speaking at a meeting held at a hotel here on Sunday, MPA Hidayatur Rehman and district nazim Maghfirat Shah warned that unilateral finalization of the land record by the government would create unrest and differences between the government departments and the residents.

They said the locals had genuine reservations on the government claims of riverbeds and Shamilat land being state property. They contended that 98 per cent territory of Chitral comprised mountains which the local people had been utilizing for centuries. But now the government through the unilateral land settlement is trying to deprive the locals of their right to utilize the hilly and mountainous areas which would be resisted.

They also said the notification of 1975 on the basis of which the government was trying to take over riverbeds and other community lands was vague and had not yet been explained.

They said bids to harass people of Upper Chitral regarding their right on utilizing Qaqlasht and other lands were also being made on the basis of the land settlement.

Also read: A complaint against patwaris in Chitral

The meeting also decided to pass resolutions at the village, tehsil and district council level against the government move to occupy the public land.

It was also decided that a meeting in this regard would be held at the district bar room on March 27.

Molana Jamshed Ahmed, Shahzada Hishamul Mulk, Muhammad Kausar Advocate, Alam Zeb Advocate, Abdul Majeed Qureshi, Engineer Fazle Rabi, Nabeg Advocate and Inayatullah Aseer also attended the meeting.

Reporter: Muhkam Uddin Ayuni

2 Replies to “Meeting vows to resist govt bids to occupy public lands thru vague notification”

  1. بہت اچھا قدم اٹھایا ہے ضلعی سیاسی اور سماجی قیادت نے۔ ہم اس کو سراہتے ہیں اور حکومت سے گزارش ہے کی عوامی شاملات کو سرکاری املاک قرار دینے کےغیر منصفانہ فیصلوں پر نظر ثانی کرے۔ اس میں علاقے کا اجتماعی مفاد ہے۔ حسب روایت عوام اپنی چراگاہوں اور جنگلی حیات کی حفاظت بہتر طور پر کرسکتی ہے۔
    جب سے موہوم نوٹیفکیشن کے ذریعے عوامی چراگاہوں کو سرکاری قرار دے کر محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے حوالے کیا گیا ہے تب سے جنگلی جانوروں کی نسلوں اور درختوں کا زوال شروع ہوا اور نتیجتاً سیلابوں نے تباہی مچادی اور گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ لہذا بہتر ہوگا کہ حکومت عوام کو ہی ان پہاڑوں کی وارث تسلیم کرے اور پھر سے آباد کاری کا موقع دے۔
    جہاں تک ریوربیڈ کا تعلق ہے اس میں بھی انصاف کی ضرورت ہے کیونکہ یہ شوتار لوگوں کی مقبوضہ آباد زمینات کی دریائی کٹاؤ کے سبب سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان پر سرکار کا قبضہ عوام کو بے گھر کرنے کے مترادف ہوگا۔ انصاف کی حکومت سے انصاف کی امید کرتے ہیں۔

    شیر ولی خان اسیر
    لغل آباد یارخون

  2. گزشتہ عشرے سے چترال میں پٹواریوں کے نام اور کام سے سب واقف ہیں لیکن چترال کے اندر زمینات کے حوالے سے نہ ختم ہونے والے تنازغات کو پیدا کرنے والے لوگ بھی یہی ہیں. انہوں نے اپنی من مانی سے اپنے قریبوں اور کھلانے والوں کو بڑے بڑے اراضیات کا مالک و مختار بنائے ہیں جس میں اصل مالکان اور سرکار کو بالکل بے خبر رکھا گیا ہے یہاں تک کہ سرکاری روڈز اور دوسرے املاک کو بھی مہربانی کرنے سے دریع نہیں کیے ہیں
    چترال میں پہلے ہی سے قبضہ مافیا ایک ناگزیر مسلئہ تھا مگر ان کی امد قبضہ مافیا کو مزید مظبوط بنایا
    جس کی وجہ سے عوام میں شدید تشویش پیدا ہوگیا ہے جو لوگ صدیوں جن زمینات اور سڑکوں سے استفادہ کرتے ارہے تھے وہ اپنے زمینات اور سڑکوں سے محروم ہوگئے ہیں
    موجودہ حکومت اگر اس سنگین مسلئے پر توجہ نہ دی تو بد ترین نتائج انے کے امکانات ہو سکتے ہیں. جس کی وجہ سے خاندانی اور قبائیلی تنازغات کے ساتھ ساتھ انفرادی جھگڑے پیدا ہونے کے خدشات ہیں. لہذا حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں

    اختر شاد
    چپاڑی

Leave a Reply

Your email address will not be published.