چترال میں کینسر کے بڑھتے مریض اور چترالی رضاکار

میں زندگی سے ہار مان چکا تھا جب ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ میں کینسر کی موذی مرض میں مبتلا ہو گیا ہوں جس کی علاج میں کم و بیش چار ملین روپے خرچ آتے ہیں۔
یہ سن کر میرے قدموں تلے سے زمین کھینچ گیا اور خیالات میں مایوسی کے بادل چھا گئے کیونکہ اتنا مہنگا علاج میرے بس میں نہیں تھا۔ ایک روز شام کو کراچی میں واقع اسماعیلی کونسل جانا ہوا جہاں میری ملاقات گلبدین نامی چترالی بھائی سے ہوا جو چترال کے پسماندہ علاقہ گبور سے تعلق رکھتے ہیں۔ مایوسی کے اس عالم میں انہوں نے مجھے ایسا حوصلہ دیا کہ زندگی کی رونقیں پھر سے میرے ذہن میں آنے لگیں اور ایک امید پھر سے جنم لی۔ آج یہ گلبدین ہی کی محنت اور خلوص کی بدولت ہے کہ میری علاج آغا خان ہسپتال میں چل رہی ہے اور صحت بحالی کی طرف رواں ہے۔
جی ہاں یہ جذبات بھری باتیں گرم چشمہ کے گاوں اغوتی سے تعلق رکھنے والے ابراہیم خان کے ہیں جو کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا آغا خان ہسپتال کراچی میں زیر علاج ہیں۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ چترال میں آئے روز کینسر کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے اور 16 سے 30 سال تک کے نوجوان زیادہ متاثر ہو رہے ہیں مگر انتظامیہ خواب خرگوش میں گم اور روایتی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
مریض موصوف کی باتیں سننے کے بعد دہرانا مناسب ہے کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا گیا ہے انسان کو۔
اس وقت چترال کے جتنے بھی مریض علاج کے واسطے کراچی جاتے ہیں ان میں سے 95 فیصد کا گلبدین سے واسطہ پڑتا ہے اور گل اپنے بساط کے مطابق کسی بھی مریض کو مایوس نہیں کرتے اور انہیں ساتھ لیکر ڈونرز اور دوسرے چیرٹی کے اداروں کا دورہ کرتے ہیں اورعلاج معالجے کے لئے درکار اخراجات کو ممکن بناتے ہیں جو صحت یاب ہوتے ہیں انہیں ادویات کے ساتھ روانہ کرتے ہیں اور اگر کسی کی انتقال ہوجائے تو کفن دفن کے تمام معاملات کا انتظام کرکے لاش چترال روانہ کرتے ہیں۔
گلبدین آغا خان کونسل کے ساتھ منسلک ہیں اور جہاں اپنے فرض کے ساتھ ساتھ چترالی مریضوں کے خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کراچی سے واپس جاتا ہوا ہر مریض اور ان کے لواحقین گلبدین کو فرزند چترال قرار دیتے ہیں اور کئی بار چترال جا کر پریس کانفرنس کرکے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
خدمت ہی بہترین عبادت ہے جو گلبدین چترال جیسے پسماندہ علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کی خدمت کرکے کرتے ہیں اور اب یہ چترال کے صاحب حیثیت لوگوں کو دعوت فکر دیتی ہے کہ وہ مستحق مریضوں اور دیگر ایمرجنسیز کے لئے مستقل بنیادوں پر کسی ادارے کا بندوبست کریں تاکہ خدمت کے سلسلے کو احسان طریقے سے جاری رکھا جاسکے اور ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری ہوں اور نفسانفسی کے اس عالم میں انفرادی حیثیت میں ان رضاکاروں کی خدمات سے درست استفادہ ممکن نہیں رہے گا اور تجربات کو اگلی نسل میں منتقل کرنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام انسانوں کو صحت کی دولت سے مالامال کریں آمین

3 Replies to “چترال میں کینسر کے بڑھتے مریض اور چترالی رضاکار”

  1. Darr Ayat drust Ayat .its great to see first time that Mr Sher Jahan sahib writes up with a positive way and tells truthfully regarding any Ismaili Institutions or Individuals. Before we witnessed , his alot of baseless allegations and Namnihad articles about Ismaili Institutions and individuals that working in different positions in that Institutions .some how he took pictures of the private properties and pray sides and uploaded in to media, try to tell the people that some individuals are involved to get the funds of these Institutions. “Shameful “its the greatness of the people of the areas they didn’t bother to takec notice, otherwise its against the exiting law of the country to bring pictures and information of private properties to the media without their consent. But now finally he spoke with good faith and courage about AKU and some one affiliated with AKU ,but remember AKU is an international recognized and fabulous Institution doesn’t need some ones opinion and yes we all appreciate gulbadeen for his great job as an excellent human being. He should continue this great work .One more thing I am going to mention that this Patient Walfare Dept is available in evary Aga Khan hospitals even in BMC too .so we have to thankful to those Doctors,nurses and others staffs make possible those services to the eligible people of the area according to the criteria of the hospital.

  2. Thanks to Jamati and AKDN institutions for serving the Jamat. And thanks to Mr. Gulbuddin and thousands’ of other selfless volunteers who have been silently supporting the vision of Imam and his institutions.

  3. Our sincere appreciations to Mr. Gulbuddin for his selfless services to the people needing help while visiting Karachi for treatment. Keep up the good work and I am sure there are many others who have always been rendering such voluntarily services in Karachi and other cities. Well done Gulbuddin for the good work! May Allah bless you and your family!.

Leave a Reply

Your email address will not be published.