sher wali khn aseer

5-سیاحت دبئی کی

شیرولی خان اسیر

آج ہمیں جو قابل دید جگہہ دکھائی گئی اسے ہم بہشت بر روئے زمین کہہ سکتے ہیں۔ جنت کی جو تعریف ہمارے علم ہے اس میں جو کمی تھی وہ حورو غلمان اورپھلدار درختوں کی تھی ۔ اگر گوری عورتوں کو حوروں کا نعم البدل سمجھا جائے تو یہ کمی بھی کسی حد تک پوری ہوسکتی ہے۔ ہمارا تو اایمان ہے کہ انسان جتنی بھی کوشش کرے خدا کی تخلیق کا اصل پیدا کرنے سےعاجز ہے۔ عدن کے ملک میں عاد کے بیٹے شداد نے جنت بنائی تھی۔ جب اس میں داخل ہونے کا مرحلہ آیا تو اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہوا اور شداد اپنی جنت سمیت نیست و نابود ہوگیا۔

شداد کی اس بہشت کا نام ارم تھا۔ دبئی والوں نے اپنی اس نقلی بہشت کا نام رکھ لیا ہے۔ عزیزم امیر علی ہمیں اپنی گاڑی میں میں مریکل گارڈن یعنی کرشماتی باغ دکھانے لے گئے۔ ظفرآیاز سرنگ حسب معمول ہمارے ساتھ تھا۔ یہ باغ دبئی خاص سے کافی فاصلے پر ایک ریگستان کے درمیان آباد ہے۔ ۲۰۱۳ میں اس کا افتتاح ہوا تھا۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا گلزار ہے جس میں دس کروڑ سے زیادہ پھول اگائے جاتے ہیں اور پھولوں کی اقسام ساڑھے چار کروڑ ہے۔ یہ ایک گول احاطے اندر قائم ہے جس کی دیوار بھی پودوں اور پھولوں سے بنی ہے۔

جس وقت ہم وہاں پہنچے تو بعد دوپہر تین بجے کا وقت تھا ۔ دبئَی کا موسم ویسے بھی گرم ہوتا ہے۔ پھر سفر کے دوران کئی لمبے ریگستانوں سے گزرے تھے اس لیے جسم مضمحل سا محسوس ہو رہا تھا۔ جب ہم اس باغ کے دروازہٴ کلان سے اندر داخل ہوئے تو اپنی آنکھوں کے سامنے کا دلفریب اور ناقابل یقین منظر دیکھ کر مبہوت سا ہوکر رہ گیا۔ جی چاہ رہا تھا کہ وہیں کھڑے اللہ کی حسین دنیا دیکھتا ہی رہ جاوں۔ مجھ دیوانے کو ہوش دلانے کے لیے ظفر آیاز اور امیر علی موجود تھے ورنہ پتہ نہیں میں کب تک اس طلسم ہوشربا میں کھو کرایک ہی جگہہ گڑھا رہتا۔ یہ باغ بظاہر ایک جادو نگری کا منظر پیش کرتا ہے کیونکہ کسی کو بھی یقین نہیں ہوگا کہ باغ میں کھڑا بھالو قدرتی پھولوں سے بنا ہے یا یہ کہ طوطوں کے بال وپر اصلی پھول ہی ہیں یا یہ کہ یہاں کھڑا الامارات ہوائی سروس کا دیو ہیکل جہاز کا سارا ڈھانچہ قدرتی پھولوں کا چمن ہے۔

پہلی نظرمیں کوئی بھی انسان اس انسانی ہنرمندی کو حقیقت ماننے کو تیار نہیں ہوگا۔ سینکڑوں پرندوں اور جانوروں کو رنگ برنگے پھولوں کے لباس میں ملبوس دیکھ کرکس طرح یقین کرلیا جائے کہ یہ مصنوعی ہر گز نہیں ہیں؟ زمینی کیاریوں اور گملوں میں پھول اگانا ہم بھی جانتے ہیں لیکن ڈھلان اور عمودی دیواروں ، ستونوں اور چھتوں پر پھول اگا نا محیرالعقول کام ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ اس گلستان کا ہیڈ مالی پاکستانی پٹھان ہے جس نے دبئی کے شیخ سے ایک لاکھ درھم انعام پایا تھا۔ ویسے محافظین اور دوسرے نوکروں کی اکثریت اردو اور پشتو بولنے والے ہی ملے۔ اس باغ معجز نما کے اندر مسجد، ریستوارن، جائے ضرورت اور سستانے کے لیے کرسیاں اور بنچیں الغرض ہر سہولت موجود ہے۔ زبان و بیان میں وہ طاقت نہیں کہ اس گلستان رنگ و بو کا احاطہ کرسکیں۔ لہذا تصویریں شئیر کرنا چاہوں گا تاکہ قارئین بچشم خود استحسان کریں۔

One Reply to “5-سیاحت دبئی کی”

  1. Very good sir !We enjoyed trip report.I wish the collection of your Urdu coulumns are published by a good publisher.Stay blessed and keep writing for us.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *