حلقہ بندیوں میں ردّوبدل

 داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضیؔ

انتخابات2018ء کے لئے حلقہ بندیوں کو تبدیل کرنے کا بل قومی اسمبلی میں ایک گھنٹے کے اندر پاس ہوا سینیٹ میں یہ بل دو مہینے تک تعطل کا شکار رہا آخر مک مکا کرکے سینیٹ نے بھی حلقہ بندیوں میں ردّو بدل کا قانون منظور کیا پارلمینٹ کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں میں ردّوبدل کیلئے ہر صوبے اور ہر ضلع کے ووٹروں کی تعداد کے حساب سے خیبر پختونخواکے اضلاع صوابی، چارسدہ،ہری پور اور چترال کی 4سیٹوں کو کم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تو شور شرابہ شروع ہوا ہے کوئی کہتا ہے کہ میں بائیکاٹ کروں گاکوئی کہتا ہے میں دھرنا دوں گا

عوامی دباؤ کے ذریعے احتجاج کروں گا قومی اسمبلی نے اس سے پہلے آئینی ترمیم کے ذریعے ختم نبوت کے مسلّمہ قانون کو ختم کرنے کا قانون منظور کیا تو اس کے خلاف آواز اُٹھائی گئی آواز اُٹھانے والوں نے اصل مسئلے کو سامنے رکھا یہ قانون کس نے ڈرافٹ کیا کس نے پیش کیا کس نے منظور کیا ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے 22دنوں کے پر تشدد ہنگاموں اور کسی بھی لغت سے ماوراگالیوں کے بعد حکومت نے ترمیم واپس لے لی اور وزیر قانون کے چہرے پر کالک مل دیا اس کو گھر بھیج دیا حلقہ بندیوں میں ردّوبدل کا قانون بھی ختم نبوت کے قانون کی طرح پاس کیاگیا ہے

اگر درست طریقے سے مسئلے کو اٹھایا گیا تو نہ صرف صوبائی اسمبلی کے پرانے حلقے بحال ہونگے بلکہ صوبائی اسمبلی کی سیٹوں میں کم از کم 8سیٹوں کا اضافہ بھی متوقع ہے مسئلے کی جڑ یااصل مسئلہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کسی بل یا قانون کا مسودہ نہیں پڑھتے وہ اپنے پارٹی قائد کے اوٹ پٹانگ یاس الٹے سیدھے بیان کو پڑھ کسی بل کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں ان کے لیڈر کو قانون کی الف ب نہیں آتی وہ بھی قانون یا بل کو پڑھ کر بیان نہیں دیتا اندھیرے میں تیر چلاتا ہے رنجیت سنگھ کی طرح ’’منجور‘‘ یا ’’نا منجور‘‘ کہتا ہے ختم نبوت کے قانون کو ختم کرنے کا بل کسی نے نہیں پڑھاتھا یہاں تک کہ زاہد حامد نے بھی نہیں پڑھا تھا، بیرسٹر ظفر اللہ خان اورراجہ ظفر الحق نے بھی نہیں پڑھا تھا احسن اقبال نے حلفیہ بیان دیا کہ اس نے یہ بل نہیں پڑھا تھا حلقہ بندیوں میں ردّو بدل کا بل اور مردم شماری کا بل بھی نہیں پڑھا مردم شماری کے فارم میں اگر دو مزید خانے رکھے جاتے تو مسئلہ حل ہوجاتا گھر کے افراد کا خانہ موجود تھا کنبے کے کتنے لوگ پاکستان کے اندر شہروں میں مزدوری یا نوکری یاکاروبار کرتے ہیں؟ کنبے کے کتنے لوگ ملک سے باہر روزگار کی تلاش میں گئے ہیں؟اس طرح کسی کنبے کی اصل آبادی ڈومیسائل اور نادرا کارڈ کے حساب سے آجاتی شہروں کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد الگ خانہ میں آتی بیرون ملک آبادی کی تعداد الگ خانہ میں آجاتی اگر قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیوں میں سے کسی کمیٹی کا رکن ہی مسودہ قانون کو پڑھ لیتا تو مسئلہ حل ہوجاتا مردم شماری بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوتی ظاہر ہے سینسس ڈویژن کی اہلیت اور قابلیت مشکوک ہے ان کا تجربہ بھی مشکوک ہے

مردم شماری کا کام پلڈاٹ یا کسی دوسرے معتبر ادارے کو دے دیا جاتا سرکاری محکموں میں نادرا اس قابل تھا کہ مردم شماری کا کام خوش اسلوبی سے انجام دیتا مردم شماری سے حلقہ بندی تک قوانین میں خامیوں کا سارا قصور ہمارے اراکین پارلمینٹ کا ہے مجھے کسی اور سے گلہ نہیں صاحبزادہ طارق اللہ اور سینیٹر سراج الحق کا تعلق ایک منظم جماعت سے ہے جس کے پاس وکلاء ہیں تھنگ ٹینک ہے انفرادی حیثیت میں سید خورشید شاہ، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، فرحت اللہ بابر، بیرسٹر اعتزاز احسن سے شکوہ ہے یہ لوگ بل کو پڑھ لیتے اور غلط قانون کے سامنے دلائل کے ساتھ ڈٹ جاتے سوشل میڈیا پر جو نوجوان فعال کردار ادا کررہے ہیں انہوں نے نومبر کے مہینے میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں اس مسئلے پر بحث ہوتی تھی مگر پی ٹی آئی نے مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی ’’حماقتوں ‘‘ پر ’’مزید حماقتوں ‘‘ کا بوجھ ڈالنے کے لئے خاموشی کو ترجیح دی اس طرح گریڈ 17 کے سلیکشن آفیسر کا بنایا ہوا قانون کسی ردّوبدل کے ؔ بغیر پارلمینٹ سے تیسری بار منظور ہوا کہتے ہیں کہ گھوڑا سوار کو پہچانتا ہے سوارکمزور ہو تو بدک جاتا ہے اس طرح بیورو کریسی پہلے ایک ماہ کے اندرحکمران کی نالائقی اور ناتجربہ کاری کا پورا جائزہ لیتی ہے اس کے بعد اپنی من مانی کرکے حکمرانوں کے لئے بدنامی مول لیتی ہے اور مسائل کے انبارلگا دیتی ہے اب صوابی ، چارسدہ ، ہری پور اور چترال کے لوگ اگر اپنی چھینی گئی سیٹوں کو واپس لینا چاہتے ہیں تو عدلیہ کے ذریعے انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھاکر قانون کو مسترد کروادیں یا پاکستان پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ن) اور دیگر پارلیمانی پارٹیوں پر دباؤ ڈال کر پارلمینٹ کے ذریعے ناجائز اور ناروا یعنی امتیازی قانون کو واپس لیکر سابقہ حلقہ بندیوں کو بحال کرائیں یہ دوراستے ہیں تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے

4 Replies to “حلقہ بندیوں میں ردّوبدل”

  1. @Dur Wali: This reflects poorly our political understanding. Census was planned for a year, carried out in 6 months and results annonced a year ago but no one in Chitral understood the impact of less population. An estimated 40% population of chitral living outside Chitral was left out but neither our MPA’s, MNA’s nor people like you who are active on SM realized the impact. Even now, when a seat is gone people think this is the biggest effect of less population. We do not even understand what is Census, how does it work in sharing of resouces and how it is used for urban/rural development. We are only fixed at, ‘hamara seat hamay wapas dedo zalimo’.

  2. Thank you Dr faizi sb for highlighting an important issue in a nice and convincing way. Now we have two options to pursue our case in effective and convincing way to make realize our parliamentarians that what act they passed in the house is against the best interest of the general public and is human rights violation. we can request our parliament to make amendment in the said act and restore our PA seat. second option, we should approach to Supreme Court and request for restoration of our PA seat. As our 50% population was out of Chitral during Census in connection of Jobs and business and we were not allowed to enrty their names with families in Chitral, as a result we have to lose our PA seat, which is a human right violation.

Leave a Reply

Your email address will not be published.