!احتساب ضمیر کا

فاروق احمد فاطمی
 
نگاہ عیب گیری سے جو دیکھا اہل عالم کو
کوئی کافر کوئی فاسق کوئی زندیق اکبر تھا
مگر جب ہو گیا دل احتساب نفس پر مائل
ہوا ثابت کہ ہر فرزند آدم مجھ سے بہتر تھا
 
علامہ محمد اقبال (رحمۃ اللہ علیہِ) کا یہ شعر ہمارے معاشرے پر فٹ آتا ہے بحیثیت فرد ہم دوسروں کی محاسبہ کے بات تو ہمیشہ کرتے رہتے ہیں ہمیں وزیر،مشیر عرض ہر ایک کی خامیاں نظر آتی ہیں مگر بدقسمتی سے کھبی ہمیں اپنے خامیوں پر نظر ڈالنے کی نوبت نہیں آئی
اس حوالےسے ایک قصہ اپکی زیر نظر کرتا ہوں کہا جاتا ہے کہ ایک گاؤں میں ایک بزرگ(صاحب علم) رہتا تھا ہزار خوبیوں کے باوجود اس میں ایک خامی تھی وہ اکثرلوگوں کو گالیاں دیتا تھا لوگوں نے اسکی شکایت بادشاہ کے ایک وزیر سے کی وزیر اس بزرگ کے ہاں گیا اور حال و احوال پوچھا اوراسے بتایا کہ لوگ آپکی شکایت کر رہے ہیں کہ بزرگ ہو کر گالیاں دیتے ہو-تو بزرگ نے اپنے مخصوص انداز سے جواب دیا۔ یہ بات کس نہ میرے خلاف کی ہے مجھے بتاؤ میں اسکی۔۔۔۔ (یعنی دوبارہ گالی دی) اور وزیر کو سمجھ آیاکہ واقعی بزرگ گالیاں دیتا ہے مگر پھر بھی اُسنے بزرگ سے کہا مجھے آپ کے گفتگو سے پتہ چلا ہے کہ لوگ آپکی غلط شکایت کر رہے تھے اور وہاں سے نکل گیا۔
یہی حال ھمارے معاشرے کا ہے ہم بطور فرد آپنے محاسبے کےلۓ کھبی تیار نہیں ہوتے یا ہم اپنے محاسبے کو محاسبہ نہیں سمجھتے جبکہ دوسروں کے محاسبے کو اپنا فرض عین سمجھتے ہیں- اسیلۓ مجھے ایک قول یاد آتا ہے کہ ہم اپنے لۓ وکیل اور دوسروں کے لۓ جج بن جاتے ہیں۔ اور ہمیں ہمیشہ دوسروں کی آخرت اور اپنی دنیا کی فکر رہتی ہے۔
ساری قوم کا اس بات سے اتفاق ہے کہ امیرشھر کا احتساب ہونا چاھۓ مگر ایک احتساب اور ہونا چاھۓ جوکہ ضمیر کا ھواور اسکا جج بھی کوئی اور نہیں ھم خود ہوں۔ ابھی وقت ہے اگر ہم احتساب اپنے آپ سے شروغ کریں تو ہمارے آنے والے نسلوں کا مستقبل روشن ہوگا ورنہ خدا نہ کرے کہ آنے والے نسل کا مستقبل تاریک ہو۔
 
یقیں آفراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

7 Replies to “!احتساب ضمیر کا”

  1. کلیم بھائ معزرت کے ساتھ تعلیم یافتہ لوگوں کا ضمیر پہلے ہی مر چکا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.