Lawyers protest massacre of Rohingya Muslims

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی خاموشی اس بات کی عکاسی کرتی ہے ۔ کہ ہمیں اُن مظلوم مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں جن کا صرف اس بنیاد پر خون بہایا جا رہا ہے ۔ کہ وہ ا سلام کے پیرو کار ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ روہنگیا کے مسلمانوں کو شہریت دی جائے ، اور عرب شیوخ عیش و مستی پر وسائل اُڑانے کی بجائے ان بے چارے مسلمانوں کی مالی مدد کریں ۔ مظاہرین نے کہا ۔ کہ فوری طور پر او ٓئی سی کا اجلاس بُلا کر اس قتل عام کو روکنے اور آیندہ ان لو گوں کے جانی تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ بات باعث حیرت ہے ۔ کہ میانمار کی خاتون صدر آنگ سانگ سوچی جسے امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے ۔ کی سرپرستی میں مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ حالانکہ اُسے نوبل انعام کی لاج رکھتے ہوئے مسلمانوں کی جانی اور مالی تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنا چاہیے ۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے وہ اپنی فوج کے ذریعے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ موجودہ حکومت ترکی کے نقش قدم پر چلے ۔ اور روہنگیائی مسلمانوں کو بچانے کیلئے اپنے تمام سفارتی تعلقات اور اثرو رسوخ استعمال کرے ۔ مقررین نے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی طرف سے مظلوم برمی مسلمان مہاجرین کیلئے اپنی سرحد بند کرنے کو شدید تنقید کانشانہ بنایا ۔ اور کہا ۔ کہ یہ کام کسی مسلمان کی نہیں ہو سکتی ۔ شیخ حسینہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھ بیعت کر چکی ہیں ۔ اس لئے اُس کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے ۔ اس موقع پر روہنگیا مسلمانوں کیلئے ہر قسم قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ۔]]>

Leave a Reply

Your email address will not be published.