موڑکھوتاریخ کے آئینے میں

نوجوان شاعر، ادیب اور اب مورخ، شہزادہ تنویر الملک تنویرؔ کی خوبصورت تصنیف “موڑکھو (تاریخ کے آئینے میں) میرے ہاتھ میں ہے جسے ڈائریکٹریٹ آف کلچر خیبر پختون خوا نے زینت طبع سے اراستہ کیا ہے۔ اس قابل قدر کاوش پر مصنف اوراس کی تخلیقی اور تحقیقی کام  کو چند الفاظ کا نذرانہ پیش کرنے کی خواہش کافی عرصے سے تھی لیکن شاید اس وجہ سے تاخیر ہوگئی کہ ہمت نہیں ہورہی تھی۔ ڈر رہا تھا کہ ان کی محنت کا حق ادا نہ کر پاؤں گا کیونکہ “موڑکھو ( تاریخ کے آئینے میں)” پر جناب ڈاکٹرگوہر نوشاہی کے پیش لفظ اور جناب محمد پرویش شاہینؔ کے مقدمہ کی موجودگی میں ہم جیسے کم مایہ لوگوں کی تحریر کی کیا وقعت ہوسکتی ہے۔ ان باتوں سے ہٹ کر یہ خیال بھی رہا کہ اس نمایاں تحریری کام  کو پھرکنے کی اہلیت کے حامل حضرات میں یاران من جناب مکرم شاہ، جناب گل مراد خان حسرتؔ ، جناب عنایت اللہ فیضیؔ اور مولا نگاہ نگاہؔ جیسے اہل علم قلم اٹھائیں گے۔ ممکن ہے ان حضرات نے شہزادہ تنویرؔ کی اس لاجواب تصنیف کوالفاظ کا خراج پیش کیے ہوں اور جو میرے گوشہ عافیت تک نہ پہنچے ہوں۔ تاہم کافی وقت ظائع کرنے کے بعد آج میں نے ہمت باندھ ہی لی کہ جیسا بھی ہو چند الفاظ پیش ہی کرلوں کیونکہ ایک قومی سطح کا معیاری کام کوئی انجام دے اور اسکا اعتراف نہ ہو تو یہ بخل اور ناقدری کے زمرے میں آتا ہے۔ میرے تصور میں یہ بات تھی کہ شعبہ طب اور قانون سے منسلک خواتین و حضرات ادیب یا مورخ نہیں ہوسکتے کیونکہ دونوں کو اپنے اپنے پیشوں کے تقاضوں سے فرصت نہیں ملتی۔ جب ایڈوکیٹ شہزادہ تنویرؔالملک  کی کتاب پڑھی تو میرا مفروضہ نہ صرف غلط ثابت ہوا بلکہ مجھے یہ یقین بھی ہو گیا کہ ادب وراثت میں مل سکتا ہے۔ چترال کے مایہ ناز شاعر اور ادیب ،ہمارے اچھے دوست اور قدر دان مرحوم شہزادہ فخرالملک فخرؔ کی وفات کے بعد مجھے ادبی دنیا میں ان کی کمی کا شدید  افسوس تھا۔ یہ غم کھائے جارہی تھی کہ شہزادہ فخرؔ کی ادبی وارثت کوئی سنبھالے گا بھی کہ نہیں؟ کیونکہ سن 2000ء سے میں چترال خاص سے دور رہا ہوں۔ اس لئے فخرؔ کے فرزندان ارجمند کے ساتھ میری وقفیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ شہزادہ تنویرؔ کی اس تصنیف   نے میرا یہ غم بھی دور کردیا۔ دل خوش ہوگیا کہ شہزادہ فخرؔ کا قابل فخر وارث موجود ہے۔ زیر نظر کتاب اپنے اندر سب تحصیل موڑکھو کی تاریخ، جغرافیہ، تہذیب و تمدن، بشریات،شخصیات، زبان وادب،فنون لطیفہ، توہمات، عقائد، نباتیات،معدنیات، صنعت و حرفت، دستکاری، آثار قدیمہ،جنگلی حیات، شکاریات، الغرض زندگی کےہر شعبہ کا مفصل اور مستند  بیان سموئی ہوئی ہے۔ مصنف نے جس عرق ریزی اور محنت شاقہ سے معلومات کا ذخیرہ جمع کیا ہے  اس کی نظیر پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ڈاکٹر گوہرنوشاہی لکھتے ہیں “یہ کتاب چترال کی تاریخ، تہذیب و تمدن اور یہاں کی ادبی زندگی کی ایک ایسی زندہ تصویر کی حامل ہے جو اس خطے کے ماضی، حال اور مستقبل دونوں کے حوالے وسیع امکانات کا احاطہ کرتی ہے”۔   محمد پرویش شاہینؔ نے اپنے تفصیلی مقدمے میں ان الفاظ میں مصنف کو خراج تحسین پیش کیا ہے ” میں شہزادہ تنویرؔ کی کتاب کو پڑھنے لگا جس کے ہر صفحے پر بے اختیار شہزادہ صاحب کے لیے واہ، واہ، آفرین اور شاباش کے کلمات نکلتے رہے” آگے جاکر لکھتے ہیں، “انہوں نے اپنے وسیع مطالعےکی روشنی میں بہت بڑا مواد کھنگال ڈالا ہے جن کی وجہ سےان کے اس تحریری کام نے ایک مستند حوالہ جاتی ماخذ اور مواد کا درجہ پایا ہے۔۔۔۔۔شہزادہ صاحب اپنے اس پر خلوص کام میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے ‘موڑکھو” کی تاریخ، تہذیب،ادب، سماجی زندگی کے دیگر عام اور آہم کاموں کو ایک ویڈیو کیمرے کی طرح اپنی آنکھوں میں سمادیا ہے۔ اس قسم کے دقیق کام صرف انگریز لوگ ہی کیا کرتے ہیں” ہر پڑھنے والے کو اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ تنویرؔ کا یہ کام  چترال پر کئے گئیے تحقیقی  کاموں میں قابل فخر اضافہ ہے اور اس کیلیے مصنف دادو تحسین کا حقدار ہے۔ میں پرویش شاہینؔ صاحب کی اس رائے کے ساتھ بھی سو فیصد متفق ہوں “اب شہزادہ تنویرؔ کی صورت میں انگریز محققین کو ایک اور حسام لملک، ایک اور اتھارٹی مل رہی ہے۔ اہل وطن اور اہل علاقہ شہزادہ تنویر کی اس کاوش کو کس نظر سے دیکھیں گے، وہ تو میں پہلے سے  جانتا ہوں لیکن اہالیاں یورپ و آمریکہ اس کو موتیوں کے مول اپنائینگے”۔ کتب بینی کے لحاظ سے شاہینؔ صاحب کی رائے حرف بہ حرف درست ہے  البتہ اپنی تاریخ ، جغرافیہ اورثقافت  کے ساتھ دلچسپی رکھنے والے  مقامی اہل علم اورمحققین شہزادہ تنویرؔ کی اس تصنیف کو بڑی قدر کی نظر سے دیکھیں گے۔ اس کتاب کوایک بار نہیں بلکہ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے ۔ یہ اپنے اندر صرف نایاب  معلومات کا بڑا ذخیرہ ہی نہیں رکھتی بلکہ قاری کے علم میں حیران کن حد تک اضافہ بھی کرتی ہے۔ میرے اپنے علم میں بہت بڑا  اضافہ ہوا۔ خاص کرکے ادب و ثقافت کے حوالے سے جن ادباء و شعرا سے ہم ناوقف تھے اورجن کا ادبی کام ہماری نظروں سے پوشیدہ رہا تھا شہزادہ موصوف نے ہمارے سامنے لاکر رکھدیا ہے ۔ ان کی جزیات نگاری کا یہ عالم ہے کہ  سب سے حقیر پرندہ چیلینگی (پدی) نے بھی ان کے قلم کی نوک سے عزت پائی ہے۔ یہ کتاب رہتی دنیا تک شہزادہ تنویر کی اپنی زمین سے محبت کی گواہی دیتی رہے گی۔ جس کے لیے میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ مصنف  اپنے ابتدائی کلمات میں رقمطراز ہیں، “اگرچہ میری زندگی کےبیشتر ماہ و سال موڑکھو سے باہر گزرے ہیں لیکن دل ہمیشہ موڑکھو ہی میں اٹکا رہا ہے۔اس لیے اس موضوع پر لکھتے ہوئے میں نے  اس بات کی سعی کی ہے کہ یہاں کی زندگی کا کوئی گوشہ تشنہ نہ رہ جائے تاہم اس حوالے سے قارئین کو کوئی کمی نظر آئے تو اس کی نشاندہی اور رہنمائی فرمائیں”۔ ان کے اس اجازت نامے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور کچھ اپنی دلچسپی کے ہاتھوں مجبور “کھو تہذیب و ثقافت” کے ذیل میں چند جملے شامل مضمون کرنا چاہوں گا۔ در اصل موڑکھو (تاریخ کے آئینے میں ) میں ایک ایسی کتاب ہے جو موڑکھو کی تاریخ اور  شخصیات  پر تفصیلی بحث کے علاوہ پوری کھو ثقافت اور تہذیب و تمدن کا احاطہ کرتی ہے۔ اگر اس کے اندر مستوج اور تور کھو کی تاریخ ،جغرافیہ اور شخصیات کا تذکرہ شامل کیا جائے تو بالائی چترال کی مکمل تاریخ بن جائے گی۔ اس لیے کہ جومقامی روایتی لباس موڑکھو میں رائج تھا وہ بالائی چترال کے سب تحصیل تور کھو اور مستوج میں میں اسی طرح انہی ناموں کے ساتھ رائج تھا۔ لہذا اس لباس کو صرف موڑ کھو تک محدود نہ سمجھا جائے۔ اس طرح ثقافت کے جملہ ذیلی شعبوں کے خدوخال اور  روایتی طرز تعمیر بھی یکسان تھے۔ اس لیے غیر چترالی قاری کو یہ خیال نہ رہے کہ تورکھو اور مستوج شاید مختلف ہو۔ طرز تعمیر کے تحت مصنف نے مہمان خانے کا ذکر کرتے ہوئے  کھوار ختان کے علاوہ “انگوٹی”تعمیر کرنے کا ذکرکیا ہے۔ میرے خیال میں “انگوٹی”  یا “قوش خانہ” بھی بہت بعد کا اضافہ ہے۔ قدیم کھو مکان کے اندر غریب طبقہ کا صرف ایک ہی “کھوار ختان” یا زیادہ سے زیادہ اس کے ساتھ “دہلینز” ہوا کرتا تھا۔ مہمانوں کے لیے کوئی الگ سا کمرہ نہیں ہوتا تھا۔ اشرافیہ کے ہاں “بائی بش” بطور مہمان خانہ اور مردوں کی نشستگاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ دوسرے سادہ ختان کو “رتھینی” کہا جاتا تھا جو زنان خانہ اور باورچی خانہ بھی تھا۔ دونوں کو ختان ہی بولا جاتا تھا اور اب بھی جگہہ جگہہ موجود ہیں۔ یعنی “بائی پش” یا” بائی پش ختان”،” رتھینی” یا” رتھینی ختان” کہلاتے تھے اور ہیں۔ کھوار ختان کے “پھیرانلشٹ” کو “شوم” سے جدا کرنے والی “بیتیڑی”کے نیچے شہتیر جتنی موٹی لکڑی ( عام طور پر صنوبر کی) لگائی جاتی تھی جسے”سانج” کہا جاتا تھا۔ “شونگ” اور “نخ کے درمیان چنی گئی دیوار بیار میں “شارداغیز” کہلاتی ہے جو موڑ کھو میں “چاردغیز” ہوسکتی ہے۔ مردانہ نشست گاہ کی طرف چھوٹا نخ “نمیژینی نخ” ہی کہلاتا ہے۔ اسی طرح “ڈانگو ٹیک” “ڈانگ کے دونوں اطراف میں ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ کی رسوم کے ذیل میں موڑکھو اور بیار میں چند ناموں کا  فرق پاتا ہوں۔ ممکن ہے میں غلطی پر ہوں یا فرق موجود ہے۔ تنویرؔ صاحب نے لکھا ہے کہ “لڑکی والوں کی رائے  معلوم کرنے کے لیے پہلے کسی مرد رشتے دار کو  بھیجا جاتا ہے اس ابتدائی  رابطے کو کھوار زبان میں “ناناوتی” کہا جاتا ہے”۔  بیار یعنی سب تحصیل مستوج میں اسے “پورنیک” کہتے ہیں۔ “ناناوتی” اس وقت بھیجتے ہیں جب لڑکی کے والدیں راضی نہ ہوں اور ان کو ہر صورت راضی کرنے کے لیے کسی ایسے رشتے دار کو یا رشتے داروں کے وفد کو بھیجا جاتا ہے جس کی بات لڑکی والے ماننے پر مجبور ہوجائیں۔ “ناناوتی یا نناوتی” کے لفظی معنی منت سماجت کے ہے۔ شہزادہ صاحب نے کھو ثقافت کی ایک آہم اور منفرد خاصیت کا ذکر کیا ہے وہ ہے سگے تایا یا چچا کی بیٹی سے شادی کے تصور کا نہ ہونا۔ یہ بالائی چترال بلکہ کھو ثقافت کی نمایان خاصیت ہےجہاں  تایاؤں، چچاؤں اور تائیوں، چچیوں اور چچازاد بہن بھائیوں  کو سگے ماں باپ اور بہن بھائیوں  کا مقام حاصل رہا ہے۔ شادی بیاہ اور بیٹوں کی ولادت پر ہوائی فائرنگ کو “ڈازی” کہا جاتا ہے اور نشانہ بازی (شیت دِک) کے بڑے ھدف کو ہم  بیار والے”پلہہ زار” بولتے ہیں جب کہ موڑ کھو میں “فلک زار” بولنا میرے علم میں آیا۔ دلہن کے ساتھ  جانے والا اس کا کوئی محرم رشتے دارکو تنویر صاحب نے “پورنیک” لکھا ہے۔ میرے خیال میں اسے بھی “توخمیران” ہی کہتے ہیں۔ جس طرح مصنف نے “توخمیران بسی”  کا ذکر کیا ہے۔ بچوں کی پیدائش پر اڑوس پڑوس کی خواتین کی زچہ کی خدمت کے لیے کئی راتیں اس کے ساتھ گزارنے کو “شونگو نیشک” کہا جاتا ہے۔ پھر ہفتے بعد زچہ کو “شونگ” سے باہر لاکر معمول کی زندگی میں شامل کرنے کو “ٹیکا انگِگ” بھی بولتے ہیں۔ گلہ بانی کی ذیلی شہ سرخی کے تحت مصنف نے بھیڑ بکریوں کے دودھ کا استعمال نہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اس پر مجھے تھوڑی حیرانگی ہوئی کیونکہ ہمارے ہاں بکری کے دودھ کو چائے بنانے کے لیے زیادہ بہتر خیال جاتا ہے کیونکہ یہ گائے کے دودھ سے زیادہ گاڑھا ہوتا ہے۔ البتہ بھیڑ کا دودھ لوگ اس لیے استعمال نہیں کرتے کہ اسے زیادہ گرم اور بادی کہا کیا جاتا ہے۔ پکوانوں کے ذکر میں “شِشار/شِشاڑ” اور “کلچہ” کا تذکرہ رہ گیا ہے۔ غاری جاتے ہوئے یا بڑے شکار کے لیے شکار گاہ میں داخل ہوتے ہی “شاوانان” کے لیے جو روٹی یا اس کے ٹکڑے کسی صاف پتھر رکھے جاتے ہیں اس عمل کو “اِشٹَرئیک” کہا جاتا ہے اور اس مخصوص  روٹی کو “اشٹرانوک” کہتے ہیں جو گھی میں پکائی ہوئی موٹی سی روٹی بھی ہوسکتی ہے اور کلچہ ششار بھی۔۔ ان چند اضافیات اگر درست ہیں تو زہے نصیب اور اگر میری کم علمی کا نتیجہ ہیں تو نظر انداز کیا جائے۔ جس طرح محمد پرویش شاہین  صاحب نے اس کتاب کو موڑکھو کا انسائکلوپیڈیا قرار دیا ہے میں بھی اسے اسی مقام پر  خیال کرتا ہوں اور شہزادہ تنویرالملک سے گزارش کروں گا کہ چترال کی تاریخ کے تاریک گوشوں پر روشنی ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھیےگا۔ اپنے معزز قارئین کو یہ مفت مشورہ دوںگا کہ “موڑکھو (تاریخ کے آئینے مٰ)” کو ضرور پڑھیں اور بھر پور لطف اٹھائیں۔]]>

Leave a Reply

Your email address will not be published.