تُھورُو گولوغ

شیرولی خان اسیرؔ
قاقلشٹ یا کاغلشٹ میں گزشتہ  کئی سالوں سے موسم بہار کا تہوار’ جشن قاقلشت’ کے نام سے منایا جاتا رہا ہے۔ کھوار میں ‘قاق’ زیادہ سوکھا یا خشک کو کہتے ہیں۔ در اصل یہ ترکی لفظ ہے۔ لشٹ کے معنی میدان کے ہے۔ لہذا قاق لشٹ کا مرکب لفظ خشک میدان بنتا ہے جو درست لگتا ہے۔ اگر قاق کی بجائے کاغ پڑھا جائے تو اس کے معنی ‘کوے کا میدان’ ہوگاجو صحح نہیں لگتا ہے۔  قدیم زمانے میں اس قسم کا جشن نوروز کے موقع پر خندان جنالی میں منعقد ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ شاہ نادر رئیس نے جب بیار اور چترال پر قبضہ کیا تو اس وقت مؤڑکھو پر سومالک ثانی کی اولاد میں یاری بیگ  کی حکومت تھی۔ یہ حکومت کوئی پنتیس چالیس سال تک چلتی رہی۔ جب بزور طاقت رئیس حکمران موڑ کھو پر قبضہ نہ کرسکے تو انہوں نے یاری بیگ کے بیٹے شیر بیگ کے دور میں ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ پھر ایک جشن نوروز کے موقع پر شیر بیگ کو خندان جنالی میں پولو میچ کی دعوت دی۔ کھیل کے اختتام کے بعد جب یاری بیگ اپنی ٹیم کے ساتھ واپس جارہا تھا تو قاقلشٹ کے وسط میں گھات میں بیٹھے رئیسے فوج  نےان پر اچانک حملہ کردیا۔ شیر بیگ مارا گیا ار رئیسوں  نے موڑ کھو پر بھی قبضہ جمالیا۔
خندان جنالی میں جشن نوروز منانے کی روایت برقرار رہی۔ چارن، جنالی کوچ اور  بونی  کے کھلاڑی یہاں یک روزہ جشن مناتے رہے ہیں۔جب ہماری جوانی تھی اور بونی میں ملازمت تھی تو مجھے بھی خندان جنالی میں پولومیچ  کھیلنے کے مواقع ملے تھے۔ خندان میں جب کالج بنا تو شاید یہاں جشن منانے کے لیے جگہہ کم پڑ گئی تو بونی اور موڑکھو کے کھلاڑی لوگ اور ثقافت کے دلدادہ بڑے بوڑھوں نے قاقلشٹ میں جشن بہاراں بنانے کا فیصلہ کیا جو ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس جشن میں سوائے کوڑا کرکٹ کے انبارکے یہاں کوئی ناخوش گوار واقع پیش نہیں آیا ہے۔ اس مرتبہ جشن کمیٹی نے اشتہار کے ذریعے خواتین کو شریک ہونے سے روکا تو بات میڈیا تک چلی گئی اور اسے سوشل میڈیا پر ایسا اچھالا گیا گویا  ہیومن رائیٹس کی ایسی خلاف ورزی کبھی نہیں ہوئی تھی۔ یہاں تک عاصمہ جہانگیر صاحبہ نے بھی مذمتی بیان داغ دیا اور معلومات کی کمی کے باعث اس واقعے کو گلگت بلتستان سے جوڑ دیا۔ ان کو کسی نے نہیں بتایا ہوگا کہ قاقلشٹ چترال میں ہے۔
 جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ یہ در حقیقت ایک مقامی ثقافتی جشن ہے جس میں چترال کے دوسرے حصوں سے بہت کم لوگ شرکت کرتے ہیں۔ خواتین تماشائیوں کا اس میں شریک ہونے یا نہ ہونے کا مجےعلم نہیں، البتہ خاندان میں پولو میچ دیکھنے آیا کرتی تھیں اور مغربی ٹیلے پر بیٹھ کر تماشا دیکھا کرتی تھیں۔ اخباری معلومات کے مطابق پہلے سے خواتین کی شرکت ممنوع تھی۔ اس موقع پر جشن کمیٹی کا اشتہار لگاکر خواتین پر پابندی لگانا درست قدم نہیں تھا تاہم مقامی لوگوں کو کسی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے  کا کوئی خطرہ محسوس ہوا ہوگا جس کی روک تھام کے لیے انہوں پیش بندی کی ہوگی۔ اس کے بجائے خواتین کے لیے ایک قریبی ٹیلے کے اوپر نشست کا اہتمام کیا ہوتا تو بہتر تھا۔
میڈیا پر اسے اچھالنے سے چترالی ماں بہنوں کی عزت پر حرف آیا ہے۔ جس کی میں شدید مذمت کرتا ہوں۔ ہماری ثقافت میں خواتین کو اپنی علٰحیدہ نشستوں میں کھیل تماشہ دیکھنے کی آزادی ہے البتہ وہ مردوں میں گل مل جانے اور مردوں کے  سامنے کھیلنے اور گیت گانے کا تصور نہیں کرسکتیں۔ چترال خاص کے پولوگرؤنڈ میں خواتین تماش بینوں پر جب پابندی نہیں ہے تو قاقلشٹ میں یہ پابندی چہ معنی دارد؟ اس قسم کے واقعات کو کھوار زبان میں ‘تھوروگولوغ’ کہا جاتا ہے جس کالفظی معنی تھوک کی ندی بہانا ہے ۔اردو میں بات کا بتنگڑ بنانا، رائی کا پہاڑ بنانا ہے ۔ اس قسم کی باتوں کا ڈھنڈورہ پیٹ کر ہمارے حقوق نسوان کے علمبردارں نے اچھا نہیں کیا۔ میں جشن قاقلشٹ کمیٹی کے اس اقدام اور اس کے خلاف میڈیا میں شور مچانے والوں دونوں کو اچھا خیال نہیں کرتا۔ اس کے بجائے یہ معاملہ اندرونی طور پر زیر بحث لاکر حل کیا جاتا تو بہت بہتر تھا۔
چترال میں خواتین کو بعض بنیادی اسلامی حقوق سے محروم رکھنے کا رواج آج بھی موجود ہے۔ خواتین کو حق وراثت سے محروم رکھنا، شادی میں بچیوں کی مرضی کا نہ پوچھنا اور تعلیم وتربیت اور ملازمت میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک عام سی بات ہے۔ اس قسم کی غیر اسلامی رسم و رواج کے بارے میں آواز آٹھائی جائے تو عین مناسب ہے۔ قاقلشٹ جانے پر اگر آج پابندی ہے تو کل کون روک سکتا ہے۔ خواتین جاکر پکنک منا سکتی ہیں۔  جشن قاقلشٹ کمیٹی تحصیل کونسل اور انتظامیہ بچیوں کے لیے بھی علٰحیدہ جشن کا اہتمام کرسکتے ہیں۔ کل خبر آئی کہ سکیورٹی حدشے کے پیش نظر قاقلشٹ جشن منسوخ کرنا پڑا۔ شاید خواتین کی بد دعا لگی جشن قاقلشٹ کوجو نامراد رہا۔

2 Replies to “تُھورُو گولوغ”

  1. exactly, I agree with you sir that Khwateen ki baddua lagi hai. now there needs to arrange a purely women festival and men should be barred from even looking at it from far off areas.

Comments are closed.