Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

Recreational activities and women mental health

The writer is PhD student at The University of Adelaide, Australia.]]>

You might also like
2 Comments
  1. Murad Akbar says

    جب تاتاری مسلمان سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجارہے تھے تو ہمارے کرتا دھرتا اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ سوئی کے سوراخ میں سے کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔ اج بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ بحیثیت معاشرہ ہمارا سفر ایک ایسی منزل کی طرف جاری ہے جہاں استدلال، بحث و مباحثہ اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کی جگنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ چترال کا معاشرہ روایتی طور پر خواتین کے معاملہ میں کافی نرم رہا ہے۔ لیکن آخر ہم نے بھی اپنے ارد گرد کے ماحول سے اثر لینا شروع کیا۔ رہی سہی کسر ہماری سیاسی نا پختگی نے پوری کردی۔ ہمارے قائدین کیلیے دین اور اس کے احکامات عورت سے شروع ہوکر عورت پر ختم ہوتے ہیں۔ جشن قاقلشٹ کے دوران صفائی کے انتہائی ناقص انتظام اور گندگی کے ڈھیر دیکھ کر
    مجھے لگا کہ ایمان کا ادھا حصہ تو ہم ویسے بھی کھو چکے ہیں۔ ادھا عورتوں کی شرکت(صرف دیکھنے کی حد تک) پر پابندی لگاکر بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
    ہم تعلیم یافتہ تو ہیں، لیکن تعلیم بغیر شعور کے ایسی ہی ہے جیسے بغیر بریک کے گاڑی جو اپ کو کسی گہری کھائی میں تو گراسکتی ہے لیکن منزل کی طرف کبھی لے نہیں جاسکتی۔ یہ وقت ہے ہم سوچیں کہ ہمارا اصل مسلئہ ہے کیا اور
    اس کے حل کا تعین کریں۔ ورنہ نہ ہم دین کے رہیں گے نہ دنیا کے۔

  2. Zain Muluk says

    ممتاز کائے!بو شئیلی وا منطقی لُو نیویشی اسوس۔
    اپسوز ہیہ کی اسپہ تان نان گینیان، اسپسار گینیان وا ژورگینیان انسان تان نو جاشوسیان۔ وا ہاش سیق سیق خوشانیان ہاتیتان بچے حرام قرار دیتی اسوسی۔
    ہاروش جاہل لیڈرانن منتخب کوریک ہے نان گینیان اوچے ژورگینیان بو لوٹ غلطی ثابت ہوئے۔ وا ہے برائے نام لیڈرانن سوم لُو دیک ’’کھانجتو بیرموغ اُولیئک‘‘۔
    خدائے انصاف دیار

Leave a comment

error: Content is protected!!