Unchecked flow of water destroying Chitral's roads

چترال(گل حماد فاروقی) ویسے تو چترال کی تمام سڑکوں کی حالت نہایت حراب ہے جس کی وجہ سے آئے روز سڑک حادثات پیش آتے ہیں جن میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ۔ مگر چترال کے سڑکوں کی تباہی کا ایک اور بنیادی وجہ سڑک پر بہتا ہوا پانی ہے جو تارکول کو قلیل عرصے میں حتم کرکے سڑک کو ویران بنادیتی ہے۔ چترال ٹاؤن میں گرم چشمہ روڈ پر سینگور کے مقام پر کئی عرصے سے پانی سڑک پر بہہ رہا ہے جس سے اگر ایک طرف سڑک تباہ ہورہی ہے تو دوسری طرف اس سڑک پر گزرنے والے راہگیروں کیلئے بھی نہایت تکلیف کا باعث ہے۔ اس سڑک پر گزرنے والے محمد شفیع کا کہنا ہے کہ یہاں پانی کا تالاب بنا ہوا ہے مگر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو (کمیونیکیشن اینڈ ورکس) کے روڈ کولی جو اس کام پر معمور ہیں وہ گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں اور کام نہیں کرتے۔ ڈاکٹر نثا ر کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی اس سڑک پر گزرتا ہے تو یہاں آکر نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ سڑک پر کھلے عام پانی بہہ رہا ہے جس کی وجہ سے سڑک میں کھڈے بن چکے ہیں اور یہاں ہر وقت پانی بہنے اور کھڑا ہونے سے پتہ نہیں چلتا کہ کونسی جگہہ ہموار ہے اور کہاں کھڈا ہے جس سے گاڑی کو بچایا جاسکے۔ طاہر حسین بھی اسی راستے سے اکثر گزرتا ہے انہوں نے محکمے کے اہلکاروں کو مشورہ دیا کہ یہاں ایک کشی بھی رکھ لے تا کہ لوگ آسانی سے یہاں سے گزرسکے۔کیونکہ اس پانی میں سے گزرنا نہایت تکلیف دہ ہے۔ ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ وہ جب سکول جاتا ہے تو صبح سویرے اس پانی کی وجہ سے اکثر ان کا یونیفارم گندا ہوجاتا ہے مگر محکمے کے اہلکاروں کو ذرا بھی عوام کی مشکلات کا اور سڑک کی بربادی کا احساس ہی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ مواصلات (سی اینڈ ڈبلیو) کے ایگزیکٹیو انجنئیر سے اس بابت ان کی موقف لینے کی عرض سے بارہا ان کے دفتر کا چکر لگائے مگر صاحب موجود نہیں تھے۔ ان سے جب فون پر بات ہوئی تو وہ پشاور میں تھے اور کہنے لگا کہ وہ چترال آرہے ہیں پھر اس کے بارے میں کچھ بتاسکے گا۔ اس کو جب یہ بتایا گیا کہ عوام شکایت کررہے ہیں کہ اس سڑک پر جس روڈ کولی کی ڈیوٹی ہے وہ کئی سالوں سے گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اسے فارغ کیا گیا ہے مگر جب تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ کسی روڈ کولی کو بھی فارغ نہیں کیا گیا ہے اور سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ چترال کے عوام نے یہ بھی شکایت کیا کہ یہ ایم پی اے سلیم خان کے گاؤں کا روڈ ہے جس سے وہ ہمیشہ گزرتا ہے مگر اس کی ناکامی کا یہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ بھی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو پابند نہ کرسکا کہ وہ روڈ کولی کو کام پر لگائے اور ان کو گھر بیٹھے تنخواہیں نہ دے۔ سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے انصاف کے دعویدار حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائے کہ اس محکمے میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں یا ڈیوٹی نہیں کرتے کیونکہ چترال کے اکثر علاقوں میں سڑکوں پر پانی بہہ رہا ہے مگر محکمے کے اہلکاروں نے ان کی تدارک کیلئے کچھ بھی نہیں کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈیوٹی ہی نہیں کرتے یا ان کی مٹی کو گرم کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ سڑک ایک سال پہلے تعمیر ہوا تھا اور ایک سال کے اندر اندر پانی بہنے کی وجہ سے تباہ ہوا۔ جس پر محکمے کے اہلکار دوبارہ فنڈ کا مطالبہ کرے گا اور اپنا کمیشن لیکر ٹھیکداروں کو ایک بار پھر کھلی چھٹی دے گی تاکہ پھر ناقص کام کرکے ان کے آمدنی کا ذریعہ بن سکے۔
]]>