آدم زادہ

شیرولی خان اسیرؔ یہ مرکب لفظ عربی فارسی کا مرکب ہے جس کے لغوی معنی آدم کی اولاد ہے۔ چترال کے اوپر لکھی گئی کتابوں میں  ‘آدمزادہ’ کا یہ مرکب لفظ چند قومیتوں کے گروہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ گروہوں کی یہ تقسیم اس دور کی حکومتوں کی ساخت اور طرز حکمرانی کو سامنے رکھ کر کی گئی تھی۔ مہتر سے تعلق اور ریاستی عہدوں کے لحاظ  سے مراعات یافتہ قومیتوں کو آدم زادہ شمار کرکے ان سے نیچے کے طبقے کو فقیر مسکین کہا گیا تھا۔ پھر ان مراعات یافتہ  اور مہتری سندیافتہ آدم زادہ گروہ نے ان خدمتگزار قومیتوں کے لیے ایک دوسرا نام تخلیق کیا جو ہر لحاظ سے کڑوا تھا اور ہے۔ یوں آدم زادہ کا ضد دوسرا مرکب لفظ ‘بدذات’ پیدا ہوا۔ یہ لفظ بھی فارسی سے مستعار ہے۔ آدمزادہ گروہ اس لفظ کو غریبوں کو’ نیچ ذات’ مشہور کرنے کے لیے بے دھڑک استعمال کرنے لگے یہاں تک کہ ان غریب لوگوں نے  یہ نام  قسمت کا لکھا جان کرقبول کیا۔ ان کو بدذات پکارنے پر خاموش رہے۔  ظلم کے ہاتھوں پیسی  ہوئی  یہ پسماندہ عوام شاید مدافعت نہ کرسکے اس لیے چپ سادھے یہ ‘گلی’ سنتے اور برداشت کرتے رہے۔  وہ دور گزر گیا لیکن یہ کڑوا لفظ اور اس کا اثر ہنوز قائم ہے۔ موجودہ دور میں بھی بہت سے افراد اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں اور مطلق لعنان  شاہی دورکے ستم زدہ لوگوں کی اولاد پر اس کی گولہ باری کرتے رہتے ہیں البتہ پہلے کی طرح برسر بازار اس کا استعمال شاذونادر ہی سننے میں آتا ہے۔ کھوار  کے ایک مشہور گیت جو گل اعظم خان گل سے منسموب ہے کے ایک بند میں شاعر نے آدم زادہ لفظ کو کوئی اور معنی دیدیا ہے ؎ آدمو کیہ ذات شیر کھل خدایو بندگان   اللہ چستیو کوستے کہ آدم زادہ گان (آدمیوں کی کوئی ذات پات نہیں ہوتی، سب خدا کے بندے ہیں۔ (البتہ) اللہ جس کو اچھی صورت  عطا کرے وہ آدمذادوں  میں سے ہے) یہ تو عاشق اور شاعر کی بات ہوگئی۔ چترالی میں کسی عشق کا ایک اور مقولہ بھی ہے، ‘مسلمان مہ کیہ حاجت، چست بتی کافر مہ تے بائے’ ( مجھے مسلمان کی کیہ ضرورت ہے۔ مجھے خوبصورت (بیوی) چاہیے، چاہےوہ کافر کی کیوں نہ ہو) در حقیقت آدمزادہ اور بدذات ہونے کا تعلق کسی اونچی یا پست قوم  میں سے ہونے سے  نہیں ہوتا۔ انسانوں کی طبقات میں تقسیم حاکمیت اور محکومت والی طرز حکومت کے لیے ضروری تھی۔  ایک نسلی گروہ کل حکمران تھا تو آج  وہ محکوم ہے اور محکوم کے ساتھ کوئی بھی نا شائستہ سلوک روا رکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح عام رعایا میں سے لوگوں کا  اقتتار حاصل کرنے کی ماضی میں ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ ہندوستان میں غلاموں کی حکومت جو سلطنت غلامان کے نام سے مشہور ہے برصعیر پاک و ہند میں اس کی زندہ مثال ہے۔ کیا ہم یہ کہیں جو اقتتدار میں تھا تو آدمزادہ تھا اور جب معزول ہوا تو بدذات بن گیا؟ یا جو محکوم تھا تو بدذات تھا اور جب اقتتدار پایا تو آدمزادہ بن گیا؟ یہ بات تو قرآن مجید میں ثابت ہے کہ اللہ نے انسانوں کو قبائیل اور قومیتوں میں تقسیم کیا ہے اور یہ تقسیم ایکداسرے کی پہچان تک محدود ہے۔ اس میں اونچی یا نیچی ذات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ چترالی معاشرے میں در حقیقت جو انسان شائستہ، مہذب، قدردان، مہمان نواز، خوش گفتار ، نیک کردار اور قوت برداشت رکھتا ہو اور کسی کی تلخ زبان کا میٹھی زبان میں جواب دے تو ایسی شخصیت کا حامل انسان آدم زادہ کہلاتا ہے اور جو غیر مہذب، قدردانی کی صفت سے عاری، بدگو، بدکردار ہو اور قوت برداشت سے محروم ہو وہ ‘بدذات’ کہلاتا ہے۔ خوش اخلاق اور خوش زبان لو گوں کو آدمزدہ ژیری یعنی آدم زادے کی اولاد کہہ کر ان کو تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بزرگوں کا احترام نہ کرنے والا، کسی کے احسان کو فراموش کرنے والا، بد اخلاق ، بدزبان جھگڑالو شخص کو شُم ژیری  یا بدذات کہا جاتا ہے۔  بذات ہر نسل میں  ہوسکتا ہے اور آدم زدہ بھی ہر قوم میں  ہوسکتا ہے۔ کسی پسماندہ قوم کا فرد ہونا گناہ نہیں بلکہ تہذیب و شرافت سے محروم ہونا گناہ ہے۔ شیخ سعدی ؒ نے جو کہا ہے ؎ سعدیا شیرازیا! پندی مدہ کم ذات را   کم ذات اگر عاقل شود گرد زند استاد را۔ ( اے سعدی شیرازی کم ذات آدمی کو دانائی مت سکھا۔ جب کم ذات آدمی دانا بن جاتا ہے تو اپنے استاد کی گردن مار دیتا ہے) بعض جگہہ کم ذات کی جگہہ بذات اور عاقل کی جگہہ ملا یا قاضی لکھا ہوا ہے۔ اسے سند بنانے والے بھی غلطی پر ہیں کہ سعدی صاحب نے انسانوں کی طبقاتی تقسیم کے غریب طبقے کو کم ذات کہا ہے۔ ایسا نہیں۔ ہاں جس کا باپ بدذات کی اوصاف کا حامل ہو۔ اس کی ماں میں یہ بری صفتیں ہوں تو یہ ان کی اولاد میں بھی آسکتی ہیں جو سائنسی تحقیق سے بھی  ثابت ہے۔ ایسے لوگ ہر قومیت کے اندر موجود ہوتے ہیں۔  سعدیؒ صاحب نے ایسے کمینہ خصلت ادمی کے بارے میں کہا ہے کہ اس کو تعلیم دی جائے تو وہ اپنے استاد کی گردن بھی اڑا سکتا ہے۔ سعدی صاحب کا شعر ی زبان میں ایک اور  مقولہ ہے۔ کہتے ہیں، ؎ ‘عاقبت گرگ زادہ گرگ شود  ولے با آدمی   بزرگ شود’ یعنی بھیڑیے کا بچہ بھیڑیا ہی رہتا ہے گرچہ  وہ انسانوں کے بیچ پل کر بڑا کیوں نہ ہوجائے۔ یہ کہاوت بھی بد خصلت لوگوں کے بارے میں ہے کہ وہ اچھی تربیت سے بھی اچھی خصلت کا حامل نہیں ہو سکتے۔ میں نے اپنی اڑتالیس سالہ تدریسی زندگی میں اس کا اچھا خاصا تجربہ کیا ہے۔ چترال کی جن قومیتوں کو اپنی عزت مند ہونے کا گھمنڈ ہے ان مین سینکڑوں بدذات میں نے دیکھے ہیں اور جن کو بدذات یا غلامُس کہا جاتا ہے ان میں بھی سینکڑوں آدمزادے مجھے ملے ہیں۔ لہذا کوئی اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ وہ زوندرے، سید، کٹورے، رضا وغیرہ ہے تو وہ آدمزادہ کہلائے گا۔ ہرگز نہیں۔ اپنے اخلاق اور عملی کردار کے ذریعے ہر کوئی آدمزدہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح اپنی غلیظ زبان اور بداخلاق کی وجہ سے بدذات کا لقب پاسکتا ہے۔ میں اس بندے کو بدذات کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا جس میں کھو تہذیب وثقافت کے زرین نقوش ناپید ہوں۔]]>

4 Replies to “آدم زادہ”

  1. Dear Aseer sahab ,, i tried to endorse your openion , but most of the chitralies are still under the thread of so called royal family and the shadow of their ancestors ..
    sorry that was not published … i don’t think Chitralies could ever come out of the slavery mentality ..

  2. I pay salute to Sher Wali Khan Aseer sahib, a great teacher, a great thinker, a great poet, a great human and a towering identity of Chitral. There is no doubt that our ethics, our behavior, our character, our dealings, our level of tolerance, respect for all, sacrificing and caring for others, generosity, civilized and parliamentarian use of our tongue, humility,calling someone with respect in their absence, abstaining back biting forgetting and forgiving errors of others etc make us Ademzada and vice versa.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *