Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

(شہرناپرسان کی کہانی اپنوں کی زبانی (قسط نمبر2

فرمان عجب چترال

دوسری توجہ طلب بات یہ ہے کہ کسی بھی ادارے میں ان کی ملازمین کی کلی تنخواہ پر سالانہ اضافے میں سے ایک خاص تناسب کے حساب سے کچھ حصہ ان کی بنیادی تنخواہ/ بیسک پے میں ضم کرنا مسلمہ طور پر رائج ہے۔ جو کہ نہ صرف پاکستان میں گورنمنٹ ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے وقت ان کو ماہوار پنشن مقرر کرنے اور خطیر رقم کموٹیشن کی صور ت میں حصولی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے بلکہ پرائیوٹ اداروں کی پرووڈنٹ فنڈز اور گریجویٹی میں بھی سالانہ اضافہ ان ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے وقت خطیر رقم کی یکمشت وصولی کا باعث بنتی ہے۔

اس لحاظ سے ہر ادارے میں بنیادی تنخواہ/ بیسک پے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بنیادی تنخواہ/ بیسک پے کسی بھی ادارے میں ملازمین کی سکیلز کو ملحوظ خاطر میں رکھ کر مروجہ فارمولے کے تحت ہر سکیل کے حامل ملازمین کے لئے مقررہ تناسب کےحساب سے کسی تعطل کے بغیر ہر ملازم کو ملتی رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک ہی ادارے میں مختلف کام کے انجام دہی کے لئے مختلف ملازمین در کار ہو تے ہیں۔ ان ملازمین کی اہلیت اور استعداد کار کے پیش نظر ان کو مختلف سکیلز تفویض کی جاتی ہیں۔ ان سکیلز کی بدولت ان کی تنخواہ، بنیادی تنخواہ، سالانہ اضافہ اور دیگر مراعات بطریق احسن مرتب کیے جاتے ہیں۔ سکیلز کے لحاظ سے ایک ہی ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ ، بنیادی تنخواہ، سالانہ اضافہ اور دیگر مراعات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ پست سکیلز کے حامل ملازمین کی تنخواہ، بنیادی تنخواہ، سالانہ اضافہ اور دیگر مراعات ہائر سکیلز کے ملازمین سے کم ہوتی ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ مساوی سروس، مساوی کوالیفکیشن اور مساوی سکیلز کے حامل ملازمین کی تنخواہ، بنیادی تنخواہ، سالانہ اضافہ اور دیگر مراعات یکسان ہوتی ہیں۔ تاہم آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان (اے۔کے۔ای۔ایس ۔پی) کی منجمنٹ نہ پہلے اور نہ دوسرے رولز پر عمل پیرا ہیں بلکہ جنگل کا قانون والی بات اے۔کے ۔ای۔ایس ۔پی منجمنٹ کی کردار پر صادق آتا ہے۔ اگر بنیادی تنخواہ/ بیسک پے کی تناظر سے اے۔کے۔ای۔ایس۔پی منجمنٹ کی کردار کو دیکھا جائے تو ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کی طرح ان کی بنیادی تنخواہ میں اضافہ بھی اے۔کے۔ای۔ایس۔پی منجمنٹ کی ظلم و استبداد، ناعاقبت اندیشی، نا اہلی ، پسند اور ناپسند کی کی عکاسی کر تی ہے۔ جس کی بنا پر اس ادارے میں کام کرنے والے جونیئر، کم کوالیفکیشن اور پست سکیلز کے حامل ملازمین کی بنیادی تنخواہ / بیسک پے سنیئر ، ہائیر کوالیفکیشن اور سکیلز کے حامل ملازمین سے زیادہ ہے۔

اس نکتے کی وضاحت اور ثبوت کی خاطر چند استاتذہ کی2013 کی پیکچ سے پہلے اور پیکچ کے بعد کی پوزیشن کا تقابلی جائزہ دستیاب دستاویزات کی روشنی میں پیش کی جاتی ہے۔2013 کی پیکچ سے پہلے کی پوزیشن یہ ہے : ٹیچر (سی) تعلیمی قابلیت بی۔ایس۔سی، بی ایڈ سکیلII مدت ملازمت گیارہ مہینے، بنیادی تنخواہ 3717/- روپے ، ٹیچر (ڈی) تعلیمی قابلیت بی۔ ایس۔سی، بی ۔ایڈ سکیل IV مدت ملازمت ڈیڑھ سال ، بنیادی تنخواہ 5298/- روپے، ٹیچر (ای) تعلیمی قابلیت بی۔ایس۔سی، ایم ایڈ مدت ملازمت ڈیڑھ سال سکیل V بنیادی تنخواہ 8078/- روپے، ٹیچر (ایف) تعلیمی قابلیت ایم ۔اے، ایم ایڈ سکیل V مدت ملازمت پندرہ سال بنیادی تنخواہ8324/- روپے، ٹیچر (ج) تعلیمی قابلیت بی۔ایس۔سی ، بی۔ایڈ سکیل V مدت ملازمت بارہ سال بنیادی تنخواہ 6760/- روپے، ٹیچر (کے) تعلیمی قابلیت ایم۔اے ، بی۔ایڈ سکیل VII مدت ملازمت چوبیس سال بنیادی تنخواہ14968/- روپے۔2013 کی پیکچ کے بعد کی پوزیشن کچھ یوں ہے: ٹیچر (سی) کی بنیادی تنخواہ3717/- روپے سے 7856/- روپے یعنی اضافہ 111% جبکہ ٹیچر (ڈی) کی بنیادی تنخواہ 5298/- روپے سے 7745/- روپے یعنی اضافہ 46% ہے۔ اسی طرح ٹیچر (ای) کی بنیادی تنخواہ 8078/- روپے سے11483/-روپے کر دی گئی ہے یعنی اضافہ42% ہے جبکہ ٹیچر (ایف) کی بنیادی تنخواہ 8324/- روپے سے 11031/- روپے کردی گئی ہے اور یہ اضافہ 32% ہے۔ ٹیچر (ج) کی بنیادی تنخواہ6760/-روپے سے 22200/- روپے کردی گئی ہے ۔ اس پر اضافہ 228% ہے۔جبکہ ٹیچر (کے) کی بنیادی تنخواہ14968/- سے 19774/- روپے یعنی اضافہ32% کر دی گئی ہے۔

مذکورہ بالا حقائق نہ صرف اے۔کے۔ای۔ ایس ۔پی منجمنٹ کی نااہلی کو ظاہر کر تے ہیں بلکہ اس عظیم ادارے کے ساتھ ان کی عدم دلچسپی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی بھی عکاس ہیں۔ اے۔کے۔ای۔ایس ۔پی منجمنٹ اپنے ملازمین کی بنیادی تنخواہ/ بیسک پے نہ سکیلز نہ کوالیفکیشن نہ سروس اور نہ موجودہ نیادی تنخواہ/ بیسک پے کو خاطر میں لا کر مقرر کر تی ہے بلکہ اپنی مرضی سے جس کو جس طرح سے بھی نوازنا چاہیے نواز تے رہتے ہیں۔ ان کا یہ فعل ہر لحاظ سے قابل مواخذہ ہے۔ بنیادی تنخواہ سے جڑی ہوئی ایک اور قابل اعتراض نکتہ یہ بھی ہے کہ اے۔کے ۔ای۔ ایس ۔پی منجمنٹ نے 2013 کے پیکچ کے اجراء کے دوران تمام تدریسی عملے کے لئے دو قسم کے الاونسز یعنی لیول بیسڈ الاؤنس اور پروفیشنل کوالیفکیشن الاؤنس متعارف کرائے۔ لیول بیسڈ الاؤنس بی ۔اے، بی ۔ایس۔سی والوں کے لئے 1500/- روپے جبکہ ایم ۔اے، ایم ۔ایس ۔سی والوں کے لئے اس الاؤنس کی حد 2000/- روپے مقرر ہے۔ پروفیشنل کوالیفکیشن الاؤنس پی۔ٹی۔سی ، سی ۔ٹی اور پرائیوٹ کے لئے 1000/- روپے ، ریگولر بی۔ایڈ والوں کے لئے یہ الاؤنس 1250/- روپے مقرر کی گئی ہے۔ پاکستان کے کسی بھی یونیورسٹی ماسوائے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کی گئی ایم ۔ایڈ ڈگری کے لئے الاؤنس 2500/- روپے مقرر ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے لی گئی ایم۔ایڈ کی ڈگری کے لئے صرف 1500/- روپے پروفیشنل کوالیفکیشن الاؤنس مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ آغا خان یونیورسٹی اور این۔ڈی ۔آئی سے لی گئی ایم۔ایڈ کی ڈگری کے لئے یہ الاؤنس 5000/- روپے مقرر ہے۔ اے۔کے۔ای۔ایس۔پی منجمنٹ نہ صرف علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے لی گئی ایم ۔ایڈ کی ڈگری کے لئے 1500/- روپے بطور پروفیشنل کوالیفکیشن الاؤنس مقرر کی ہیں بلکہ اے۔کے۔ای۔ایس ۔پی منجمنٹ خود اختیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے لی گئی ایم ۔ایڈ اور دیگر ڈگریوں کو پرائیوٹ قرار دے کر ہمارے پیارے ملک پاکستان کی عظیم اور بین الاقوامی طور پر شہریت یافتہ یونیورسٹی کی تذلیل کی ہیں۔ اور ان کا یہ فعل آئین پاکستان کی منافی ہے۔ کیونکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد پارلیمنٹ ایکٹ 1974 کی روے قائم شدہ یونیور سٹی ہے اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن برائے پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ ہونے کے ناطے اس کی تمام پروگرامز ایچ۔ ای۔سی سے منظوری کے بعد پیش کی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں ایک لیٹر محررہ17 اگست2016 منجانب ایڈیشنل رجسٹرار صاحب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد اے ۔کے۔ای۔ایس۔پی منجمنٹ کو بھیجا گیا ہے اور اس میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے لی گئی ڈگریز کو پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے ڈگریز کے مساوی تسلیم کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس پر اب تک اے۔کے۔ای۔ایس۔پی منجمنٹ کی جانب سے کوئی عمل در آمد نہیں ہوا ہے۔ لہذا سپریم کورٹ آف پاکستان اور گورنمنٹ آف پاکستان دونوں کو اے۔کے۔ایس ۔پی منجمنٹ کی اس خود اختیاری کا نوٹس لینا چاہیے۔ تاکہ آیندہ کے لئے کسی این۔جی ۔او کی منجمنٹ اس قسم کی قبیح حرکت نہ کر سکے۔ ایک طرف اے۔کے۔ای۔ایس ۔پی منجمنٹ آئین پاکستان سے غداری کا مرتکب ہوئے ہیں تو دوسری طرف پسند اور نا پسند کی وطیرے کی ایک بار پھر اعادہ کر تے ہوئے مذکورہ بالا لیول بیسڈ اور پروفیشنل کوالیفکیشن الاؤنسز اپنے منظور نظر اساتذہ کی بنیادی تنخواہ/بیسک پے میں ضم کر کے ان کو ریٹائرمنٹ کے وقت زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی سر توڑ کوشش امتیازی بر تاؤ اور نا انصافی کی واضح مثال ہے۔ یہ الاؤنسز اب بھی اکثر اساتذہ کی بنیادی تنخواہ میں ضم نہیں کیے گئے ہیں۔ مذکورہ بالا الاؤنسز کی کسی ایک ٹیچر کی بنیادی تنخواہ / بیسک پے میں انضمام اور دوسرے ٹیچر کی بنیادی تنخواہ/ بیسک پے میں ضم نہ ہونا کہا ں کا انصاف ہے۔ بنیادی تنخواہ سے متعلق ایک اور حیرت انگیز انکشاف یہ بھی ہے کہ 2013 کے پیکچ سے پہلے اے۔کے۔ای ۔ایس ۔پی چترال کے منجمنٹ کی جانب سے چند ہیڈ ٹیچرز اور سائنس ٹیچرز کو اودرز الاؤنس کے نام سے منسوب ایک ایکسٹرا الاؤنس دیا جاتا ہے۔ 2013 کی پیکچ کے بعد یہ الاؤنس کچھ منظور نظر ہیڈ ٹیچرز کی بنیادی تنخواہ/ بیسک پے میں ضم کی گئی جبکہ بعض ہیڈ ٹیچرز اور تمام سائنس ٹیچرز کی بنیادی تنخواہ میں مذکورہ الاؤنس کو ضم نہیں کیا گیا ہے۔ ایک ہیڈ ٹیچر کی اودرز الاؤنس کی مد میں مبلغ دس ہزار روپے کا اس کی بنیادی تنخواہ میں انضمام اور دوسرے ہیڈ ٹیچر کی سات ہزار روپے یا تمام سائنس ٹیچر ز کی ایک ایک ہزار روپے کے اودرز الاؤنس کا ان کیبنیادی تنخواہ میں ضم نہ ہونے کی منطق سمجھ سے با ہر ہے۔ ان تمام نا انصافیوں اور بے قاعدگیوں کی تجزیے کے بعد سسٹم سے باہر شاید عمومی رائے یہ ہو سکتی ہے کہ اے۔کے۔ای۔ایس۔پی میں نظام کی خرابی کا وجہ شاید مناسب اڈٹ نظام کا نہ ہونا ہو۔اسی تناظر میں آپ سب کی اطلاع کے لئے یہ ضروری ہے کہ آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے انتظامی امور کی جانچ پڑتال کے لئے دو قسم کے اڈٹ نظام موجود ہیں۔ ایک آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کا اپنا اڈٹ نظام جو کہ انٹر نل اڈٹ کے نام سے سارا سال اے۔کے۔ای۔ایس۔پی کے ہیڈ افس اور کور افس چترال میں اڈٹ کے معاملات میں مصروف عمل ہے۔ چترال کی کور افس میں براجمان انٹر نل اڈیٹر سارا سال سکولوں اور افس والوں کا اڈٹ کر تا رہتا ہے البتہ موصوف نے اب تک کسی کی تنخواہ یں کمی یا مسائل کے بارے میں کوئی اعتراض یا پیرا نہیں لیا اور نہ ہی سننے میں آیا ہے۔ا نٹرنل اڈیٹر کاجب بھی جی چاہے سکول کا اڈٹ کرکے انچارچ یا ہیڈ ٹیچر کے خلاف کاروائی کی سفارش کرے تو منجمنٹ فوراً حرکت میں آجاتی ہے۔ اس کی اڈٹ سارا سال جاری رہتی ہے۔ تاہم موصوف کے اڈٹ سے کسی ایک بھی ملازم کی غصب شدہ حقوق کی ازالے کے لئے نہ کوئی کاروائی عمل میں آتی ہے نہ اب تک کسی ایک ملازم کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ اے۔کے۔ای۔ایس۔پی میں اڈٹ کا دوسرا نظام ایکسٹرنل اڈٹ کا ہے جو آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان سے الگ ڈیپارٹمنٹ بسائے ہوئے ہیں۔ان کو جی۔آر ۔بی یعنی گرانٹ ریویو بورڈ فار پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جی۔آر۔بی ہرسال موسم گر ما میں آغا خان سکولز چترال اور افس والوں کی اڈٹ کی غرض سے چترال کا رخ کرتے ہیں۔ ان کی اڈٹ بھی انٹرنل اڈٹ سے مختلف نہیں۔ ان دونوں اداروں کے عملوں پر کروڑوں روپے کی لاگت آتی ہے۔ ان دونوں کی اڈٹ سے کسی ملازم کو فائدہ نہیں ہوا ہے۔ جی۔آر۔بی والے کبھی کبھار انوکھا اعتراض اٹھاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک گزشتہ سال 2016 میں اٹھائی گئی اعتراض یہ تھی کہ استاتذہ سکولوں میں طلبہ کی حاضری رجسٹر میں طلبہ کی ناموں کے ساتھ ان کے فرقوں کا اندراج کیوں نہیں کرتے ہیں؟۔ زبانی طور پر یہ پیغام تما م سکولوں کو پہنچائی گئی کہ آیندہ کے لئے طلبہ کے حاضری رجسٹر ز کے کیفیت کے خانے میں ہر طالب علم / طالبہ کے فرقے کا نام درج کیا جائے۔ میری ناقص رائے میں سکولوں میں طلبہ کی حاضری رجسٹر یا دیگر دستاویزات میں طلبہ کے ناموں کے ساتھ ان کے فرقوں کے ناموں کی اندراج کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور اس قسم کا اقدام سکول کاز کے خلاف ہے۔ جس سے جی۔آر۔بی اور سکول والوں دونوں کو اجتناب کر نا چاہیے۔ جی۔آر۔بی والوں کو میرا مشور ہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی بجائے اے۔کے ۔ای۔ایس۔پی ملازمین کے غصب شدہ حقوق کی نشاندہی اور ان کی ازالے کے لئے اقدامات کی جائیں تو بہتر ہوگا۔ تاہم اے۔کے۔ای۔ایس ۔پی منجمنٹ نہ اس قسم کے روایات کے قائل ہیں اور نہ اسی روایت کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ البتہ گورنمنٹ سیکٹر میں اس قسم کے کاموں کی بے شمار نظیر موجود ہیں کہ اگر کسی ایک ملازم کی ایک پائی بھی غلطی سے رہ گئی ہو تو صدی گزرنے کے بعد بھی اس ملازم کی یہ امانت اسے یا اس کے اہل غیال کو حوالہ کیا جاتا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے۔کے۔ای۔ایس۔پی میںدرست احتساب پر مبنی نظام قائم فر مائے جو ہر ایک کو انصاف کی فراہمی یقینی بناسکے۔ نوٹ : قارعین کے استفسار پر میں اپنا مختصر تعارف پیش کرتاہوں: میرا نام فرمان عجب ہے میں نے ستائس (27) سال ایک مہینے اور بیس دن اے۔کے۔ای۔ایس۔پی میں مختلف عہدوں پر کام کیا ہے ۔ میں دوران ملازمت بھی اے۔کے۔ای۔ایس۔پی منجمنٹ کے نا انصافیوں کے خلاف مختلف فورمز میں آواز بلند کر کرتا آیا ہوں۔ 30 جون 2016کو میں نے اے۔کے۔ای۔ایس۔پی منجمنٹ کے ظلم اور نا انصافیوں کے خلاف احتجاجاً ملازمت چھوڑ دی۔ مزید بر آں مورخہ22.12.2016 کو میرے آرٹکیکل ہذا کے پہلی قسط شائع ہونے کے بعد مورخہ27.12.2016 کو اکرام نام کے جعلی نام سے میری اس آرٹکیکل کی مذمت کی گئی تھی۔ موصوف اپنے آپ کو اے۔کے۔ای۔ایس۔پی کا سابق ٹیچر ظاہر کر رہا تھا تاہم ابھی تک اکرام نام کا کوئی ٹیچر اے۔کے۔ای۔ایس۔پی میں رہا ہے اور نہ ہی ریکارڈ میں اس کا کوئی نام و نشان موجود ہے۔ لہذا مجھے یہ اے۔کے ای۔ایس ۔منجمنٹ کا شاخسانہ لگتاہے۔ اگر اے۔کے۔ای۔ایس ۔پی منجمنٹ میں ہمت ہے تو خود کھلی کچہری میں ان کو مناظرے کی چیلنچ کر رہا ہوں

You might also like
2 Comments
  1. Farman Ajab's old friend says

    Based on a few isolated and fabricated examples, we cannot generalize things. From his own examples, it is clear that all the teachers received raise in salary regardless of these discrepancies. I think he is sill unable to understand that the salary revision was based on qualification rather than merely experience. This benefited the qualified teachers of AKES,P and except this man (Farman Ajab) and few of his followers all the teachers well received the salary revision. Eventually, his own close friends left him alone and he had no option except resigning from his job for face saving. He could not face the innocent teachers who lost their job following his ideas. Also for the information of the readers – he was in the court with these illogical arguments, but the case was terminated from the court. Eventually, he withdrew the case requesting AKES,P management to forgive him. All the benefits were released to to him on his request.
    He submitted resignation which was approved as AKES,P management wanted to get rid of him and he is suffering badly now. As per the reliable sources, he was drawing 70,000/= salary per month while resigning from his job. I will request AKES,P management to sue him in the court for his allegations in the media.

    1. Salman Ajab says

      It was just a demo of AKES,P Management cruelty and bad administration ..Shame on u ppl. U have disappointed each and everyone in chitral due to ur favoritism and mismanagement. we challenge openly to u that come up with ur proofs and debate with us in a civil, session, high or even in supreme court …Read the last paragraph carefully, u ll understand what we are saying, we also want that take this issue serious. And for ur kind information Farman Ajab Principal is not suffering more. he suffered when he was a part of such type of bad administration..he was and is a voice of voiceless and helpless ….. I know u very well, u r born to be spoon of People on high posts.

Leave a comment

error: Content is protected!!