Site icon Chitral Today

چھیر موژ

گائے، بھینس بکری وغیرہ کا بھی ہوتا ہے اور ماں جیسی عظیم ہستی کابھی اور دونوں آہم ترین غذا بھی ہیں۔ مگر انسانی سماج میں ان کی قدروقیمت الگ الگ مقرر ہیں۔ جانوروں کا دودھ ہم پیتے ہیں اور توانائی حاصل کرتے ہیں۔ بدلے میں ان جانوروں کو چارہ ڈالتے ہیں، چراتے ہیں، نگہبانی کرتے ہیں اور بیماری کی صورت میں علاج کا بندوبست کرتے ہیں، لیکن ماں کے دودھ کی قیمت دنیا کی ہر چیز سے بھاری ہوتی ہے۔ جس کے لیے عمر بھر ماں کی غلامی کی جائے تب بھی دودھ کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ ماں کا دودھ اتنا بیش بہا ہے کہ دودھ پلانے والی خاتوں کا مقام  بھی سگی ماں جیسا اونچا ہوتا ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم کا اپنی رضاعی ماں حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کا احترام ایک ایسی سنت ہے کہ جس سے روگردانی ممکن نہیں اور جو دنیائے انسانیت کیلیے درخشان نمونہ ہے۔ اس پر مذید بحث کی گنائش نہیں ہے۔ پہلے زمانے میں رضاعی ماں باپ کی بے حد قدر ہوا کرتی تھی۔ اس زمانے میں شاید اس قسم کی قدردانی نہیں رہی ہے جو ہماری اخلاقی تنزل کی نشان دہی کرتی ہے۔ انسانی بدن میں گودا ( مغز استخوان)بھی بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے جو جسم کے لیے خون پیدا کرتا ہے۔ چترال کے قدیم باسیوں کو یہ علم تو نہیں تھا کہ انسانی جسم میں گودے کی اہمیت کیا ہے؟ البتہ اتنا وہ جانتے تھے کہ صحت مند جانور کا گودا بھرا بھرا ہوتا ہے اور کھانے میں انتہائی لذیذ اور طاقتور خوراک ہے۔ اسی تناظر میں صحتمند جوان لوگوں کو بھی دیکھا جاتا تھا کہ ان کے پاس گودے سے بھری ہڈیاں ہوتی ہیں یعنی طاقتور ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی شیخی کرنے والوں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ اس کے باپ نے اسے جنگلی بکرے( آئی بیکس یا مارخور) کا گودا کھلاکر بڑا کیا ہے( یعنی انتہائی نایاب اور قیمتی غذا کھلاکر بڑا کیا ہے)۔ لفظ موژ ایک اور طرح سے بھی کھوار میں مستعمل ہے۔ پوتے پوتیوں اور نواسہ نویسیوں کو “موژو موژ” ( گودے کا گودا) کہہ کر ان سے پیار کی گہرائی ظاہر کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ موژ اولاد کے معنی میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ ” موژار” یا”موژارنِسیرو” اولاد کو کہتے ہیں۔ موژ کسی جگہہ کے وسطی حصے کو بھی کہتے ہیں اور کسی چیز کے اندرونی حصے کو بھی موژ کہا جاتا ہے مثلاً موژو دور ( درمیان والا گھر) موژو دہ ( وسطی گاؤں) ، موژ گرام ( درمیانی گرام) موژہ یا موژایو (مشترکہ) موژغیشٹی ( منجھلہ) وغیرہ ۔ یوں لفظ موژ ہر لحاظ سے ہماری کھو سوسائیٹی میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اب ہم اس مرکب لفظ کی طرف آتے ہیں یعنی “چھیرموژ”جس کا لفظی معنی دودھ گودا بنتا ہے؟ انسانی بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا جسم مکمل نہیں ہوتا۔ اس کی ہڈیاں اور ان کے اندر گودا اپنی ابتدائی تشکیل میں ہوتا ہے۔ ایک عرصے تک بچہ ماں کے دودھ پر پلتا ہے اور اس کے اندرونی اعضا مکمل ہوتے جاتے ہیں ۔ خاص کرکے ہڈیوں اور گودے کی نشونما میں دودھ کا کردار سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ جو بچہ خالص ماں کے دودھ پر پرورش پاتا ہے وہ جسمانی اور دماغی طور پر مضبوط ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق ھڈی کا گودا خون پیدا کرتا ہے۔ ہرمادے کا دودھ اس کے خون سے بنتا ہے۔  اس سے دودھ اور گودے کا رشتہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کھوار زبان میں “چھیر موژ” دو معنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ ایک یہ کہ جب ایک آدمی کے بچے کو دوسرے آدمی کی بیوی دودھ پلاتی ہے تو یہ دو آدمی بلکہ دونوں گھرانے آپس میں”چھیرموژ” یا “چھیر لوی ” کہلاتے ہیں اور یہ رشتہ “چھیر موژی” یا ” چھیر لوئی”کہلاتا ہے۔ ” لوی” شاید ” لیئی/لیئے” کی بگڑی صورت ہے یعنی یہ “چھیر لیئی”( دودھ، خون) ہوسکتا ہے ( یعنی دودھ کے وسیلے سے خونی جیسا رشتہ)۔ کھوار  میں اس مرکب لفظ کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ اس زمانے کے لوگ بھی دودھ سے گودا یا خون بننے کے عمل سے واقف تھے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دودھ کے رشتے سے اولاد بنانے کا تصور ہو۔ جیسا کہ  چھیر نن ( رضاعی ماں) چھیر تت( رضاعی باپ) چھیر برار رضاعی بھائی) وغیرہ۔ تاہم جس معنی کے لحاظ سے بھی یہ نام رکھا گیا ہے یہ اس لفظ کا اصلی ابتدائی استعمال تھا اور یہ لفظ قابل احترام اور رضاعی ماں باپ، بہن بھائیوں اور رضاعت پانے والوں کے  لیے مہرو محبت سے پُرتھا۔ بعد میں ان لوگوں کوبھی چھیرموژ کا نام دیا گیا جو ریاستی نظام میں مراعات یافتہ طبقہ یعنی اتالیق، حاکم، چارویلو اور لال لوگوں کی خدمات پر مامور تھے۔ یہ بھی دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جن کی اپنی زمین نہیں ہوتی تھی۔ جو اپنے ان مالکوں کی دی ہی عارضی ملکیتی زمین کے ٹکڑوں پر گزارہ اوقات کرتے تھے اور دوسری قسم وہ جن کی اپنی زمین ہوتی تھی البتہ ان سے یا تو چھین لی گئی ہوتی تھی یا وہ خود کوریاستی بیگار سے چھڑانے کی خاطر اپنے آپ کوعلاقے کے اتالیق، حاکم، لال وغیرہ  مذکورہ افراد کا چھیرموژ قرار دے ان کے خدمت گار بن کر رہنے میں عافیت  سمجھتے تھے۔ ان کی اس رضاکارانہ خدمت گزاری سے مالکوں نے فائدہ اٹھایا اوران کی زمینوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ اس طرح وہ ایک طرف اپنی ملکیتی زمینوں سے محروم  ہوگئے تو دوسری طرف اپنے ان آقاؤں کی مفت خدمات انجام دینے کا بھاری بوجھ بھی برداشت کرتے رہے۔ کہیں کہیں لوگ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ بعض  لوگوں نے رضاعت کے کے عوض زمین دے کر بعد میں ان لوگوں کو اپنا کاشتکار(چھیر موژ) بنالیا اور رضاعت کے معاوضے سے منکر ہوگئے۔ چترالی سوسائیٹی میں ان غریب لوگوں کی حیثیت غلاموں جیسی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ چھیر موژ کا لفظ قابل نفرت بن گیا اوراس پاک رشتے کو پیچھے چھوڑ گیا اوراس سے ناتا توڑا جو رضاعت کا قابل قدررشتہ تھا۔ آج اس چھیرموژ لفظ سے اتنی بیزاری ہے کہ بالفرض  اگر میں ان میاں بیوی کو چھیرموژ کہوں جنہوں نے میرے بچے کو دودھ پلائے ہوں تو وہ میرا دشمن بن جائیں گے کیونکہ یہ لفظ اپنی قدیم عظمت کھو چکا ہے بلکہ ہم ہی نے اس کی عظمت خاک میں ملاکر رکھدی ہے۔اگرچہ آج اس قسم کی غلامی کا تصور ختم ہوچکا ہے پھر بھی چترال میں لال اور چھیرموژ میں نفرت کا جذبہ اب بھی زندہ ہے ۔ بٹھو صاحب کے دور حکومت میں “لال چھیرموژ” کا تنازعہ کورٹ میں آگیا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں نے صلح و صفائی سے کیس نمٹا دیا اور کچھ لوگوں نے کورٹ سے ڈگری  لے کر “چھیرموژی” سے خلاصی پائی۔ عام غریب لوگ آج اسے بٹھوؔ کی دی ہوئی آزادی سمجھ کر اس کی پارٹی کے ساتھ چمٹے کھڑے ہیں۔ حکمرانان قدیم اور ان کے وزیروں اور مشیروں کی اولاد کو آج بھی ظالم کا نام دیا جاتا ہے۔ موجودہ نسل خواہ مخواہ کی یہ دشمنی پال رکھی ہے حالانکہ وہ دور قصۂ پرینہ بن چکا ہے اور اس ظالمانہ  حکمرانی کا نہ تو لال لوگوں کی اولاد کو قصوروارگردانا جاسکتا ہےاورنہ چھیرموژ کی اولاد مظلوم کہلا سکتی ہے۔ اس لیے چاہیے کہ چھیرموژی کے باعزت ماضی سے تعلق رکھنے والے معنی کوزندہ رکھا جائے۔ یہاں چارویلو صاحب نگین مستوج کے گیت کا ایک دو بند یاد آرہے ہیں۔ جب کٹورحکمران نے تحریک آزدی میں حصہ لینے کی پاداش میں انہیں اورزوندرے قوم کے دوسرے افراد کو پابند سلاسل کرکے کال کوٹھڑی میں قید کردیا حالانکہ صاحب نگین شہزادہ خوشوقت الملک کے رضاعی بھائی بھی تھے تواس نے زندان میں ایک مشہور گیت لکھاجس کا ایک بند ملاحظہ ہو زندانی دونِیَن اسپہ بیروان کھل دوسی    سوت پُشتہ نو کوم کٹورو نسلہ چھیرموژی پچئے مہ ژیبے اوہ  مثالی تہ اچکار    مزہ دار کباب خوشوخت ملکو یہ چھیر برار ہمارے عزیز و اقرب کو پکڑ پکڑ کر قید میں ڈالا جا رہا ہے۔ ( اگر یہ رضاعت کا صلہ ہے تو) میں آئیندہ سات پشتوں میں بھی کٹور خاندان کی رضاعت نہیں کروں گا۔ مجھے پکاکر کھا لو (اے حکمران وقت) خوشوقت الملک کا یہ رضاعی بھائی ایک مزیدار کباب ہے تیرے لیے]]>

Exit mobile version