Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

غصہ

چترال کے اساتذہ اور محکمہ کے انتظامی افسران میں ہمارے مرحوم استاد محترم وقار احمد صاحب اور یہ خاکسار غصیلے مشہور تھے۔ مرحوم استاد سے اس بارے پوچھنے کا موقع نہ ملا اور وہ ہمیں چھوڑ گئے۔ میں تو اپنے گھر والوں کے نزدیک بھی ناک چڑھی مشہورہوں حالانکہ مجھ سے کہیں زیادہ ںاک چڑھانے والے اور بھی بہت ہیں۔ وہ اپنا گناہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ لیکن میں خود سے پوچھتا رہتا تھا اور ہوں کہ آیا یہ الزام درست ہے یا کہ مبالغہ ہے؟ پھر دل پر پتھر رکھ کر اقرار بھی کرتا تھا اورکرتا ہوں کہ واقع میں تیز مزاج تھا اور ہوں، البتہ اپنے اس گناہ کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش ضرور کرتا تھا اور کرتا ہوں کہ بھئی ہم غیر ضروری غصہ نہیں کرتے۔ اُس بندے کی کوئی نہ کوئی غلطی ہوگی جس پر ہم نے غصہ کیا ہوگا۔ درحقیقت یہ جواز بھی معقول نہیں ہے۔ سوائے انبیاعلیہم سلام، اوصیا اور اولیا رضوان اللہ اجمعین کےانسان کی فطرت ہی کچھ ایسی بنی ہے کہ وہ غصے کو گناہ نہیں مانتا اور دوسروں کی غلطی نظر انداز کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔۔ اپنے گناہ کو جائز قرار دینے کی روش ہمارے خمیر میں ہے۔ ہم اپنے ضمیر کی آواز بالکل نہیں سنتے ورنہ ہر انسان کا ضمیر اسے خبردار کرنے کے لیے ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اس کی آواز پر ہم اندھے بہرے ہوجاتے ہیں اور وقت ٹال دیتے ہیں۔ جب ایک بندہ غلطی پر غلطی کرتا رہتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس کا ضمیر مردہ ہوگیا ہے۔ یہ بات غلط ہے۔ ضمیر نہیں مرتا بلکہ ہمارے وجود میں برائی کی قوت اتنی طاقتورہو جاتی ہے کہ وہ ہر وقت ضمیر پر حاوی رہتی ہے اور ضمیر بے بس ہوکر رہ جاتا ہے۔ لیکن انسان کی زندگی میں کھبی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ اس کا ضمیرجاگ اٹھتا ہے اور پوری قوت کے ساتھ بدی پر ٹوٹ پڑتا ہے اور اسے شکست دے دیتا ہے۔ ایسے انسان خوشقسمت ہوتے ہیں کہ مرنے سے پہلے ان کو گناہوں سے توبہ کرنےکا موقع مل جاتا ہے۔ ایک دفعہ اپنے گناہوں کو پوری طرح محسوس کرکے اپنے اللہ کے حضور توبہ کے لیے شرمساری کے ساتھ حاضر ہوتا ہے تو اللہ پاک اپنے وعدوں کے مطابق اس انسان کی توبہ کو شرف قبولیت بخشتا ہے۔ ہم انسان اس عظیم الشان خدا کے بندے ہونے کے دعویدارہیں تو ہمیں بھی دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا چاہیے اگر وہ ندامت اور افسوس کا اظہار کریں۔ تاہم یہاں ایک آہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہم اپنے دنیاوی فرائیض کی ادائیگی میں بھی ماتحتوں کی غلطیاں معاف کرنے کی روش اپنائیں؟ ہم حضرت رسول عربی ﷺ اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے قدموں کے نقوش پر چلنے سے تو رہے جو اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کیا کرتے تھے۔ تاہم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس عمل کی پیروی کرنے کی کوشش کرنی ہے جب انہوں نے ایک واجب القتل دشمن کو اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ اس نے آپ کے روئے مبارک پر تھوکا تھا اور آپ کو اس بات پہ غصہ آیا تھا ورنہ اپنے فرض کی آدائیگی میں اسے قتل کرنا فرض ہو گیا تھا۔ ہمیں بھی اس دنیا میں اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ذمے داریاں سونپی گئی ہیں ان کی ادائیگی ہم پرفرض ہے۔ اس لیے ہم اپنے فرائیض کی انجام دہی کے دوران کسی ماتحت یا طالب العلم یا زیر تربیت بندے پر برہم ہوتے ہیں یا سزا دیتے ہیں تو یہ فرض کی ادائیگی ہے۔ ہاں اگر وہ غلطی کا احساس کرے اور نہ دھرانے کا وعدہ کرے تو معافی نیک عمل ہے۔ اگرچہ حدیث نبوی ﷺ کی رو سے جھوٹ سب گناہوں کی جڑ ہے اور قرآن پاک اس پر اللہ کی لغنت بھیجتا ہے۔ غصہ بھی اس جھوٹ کےگناہ سےکچھ کم نہیں ہوتا۔ غصہ ایک ایسا گناہ ہے جو جس پر اتارا جائے اس انسان کا دل بلاواسطہ دکھاتا ہے۔ ایک انسان کا دل دکھانا بھی اتنا بڑا گناہ ہے جتنا اسے خوش کرنا بہت بڑا ثواب ہے۔ بقول بزرگے ؎ دل بدست آور کہ حج اکبر است از ہزاراں کعبہ یک دل بہتراست غصہ ایک ایسا گناہ ہے جو انسان سے قتل کرواتا ہے۔ غیبت اور بہتان تراشی کرواتا ہے۔ دشمنی، بغض و کینہ کا بیج بوتا ہے۔ ہم اپنے بچوں ، شاگردوں اور ماتحتوں پر غصہ ان کی اصلاح اور بھلائی کے لیے کرتے ہیں۔ اگر وہ اسے اپنی بے عزتی اور سبکی تصور کریں گے تو یقیناً ان کے دلوں میں نفرت کا ایک گرہ پڑ جائے گا اور اپنی عمر کے کسی حصے میں وہ یہ گرہ کھولنے کا سو چ سکتے ہیں۔ یہی سوچ ہی بڑا گناہ ہے۔ اگر خدا ناخواستہ اس سوچ کو عملی جامہ پہنایا گیا تو گناہ کبیرہ سرزد ہوسکتا ہے اور وہ انسان مردود و مطغون ٹھہر سکتا ہے ۔ ملازمت کے دوران جب ایک دفتریا سکول سے میرا تبادلہ ہوتا تھا تو دستور کے مطابق رخصتی سے پہلے سٹاف کے لوگ الوداعی تقریب کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ اس میں وہ میری تعریف کرتے اور اچھائیاں گنواتے تھکتے نہیں تھے۔ اس قسم کا تجربہ ہر ملازم کو ہوتا رہتا ہے۔ عموماً رخصت ہونے والا صاحب بھی جوابی تقریرمیں اپنے سٹاف اور شاگردوں کی اچھائیوں کا پل باندھتا ہے اور اپنی غلطیوں کی معافی مانگنا نہیں بھولتا۔ میرا طریقہ واردات ذرا مختلف ہوتا تھا۔ میں کہتا تھا کہ بھائیو! میں نے دو قسم کے لوگوں کو کبھی برا نہیں دیکھا ہے۔ ایک وہ جواس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے دوسرا وہ جس کا کسی دفتر یا ادارے سے تبادلہ ہوتا ہے۔ ان دونوں کی رخصتی تقریب میں ان کی اچھائیاں ہی گنوائے جاتے ہیں۔ ایک بھی برائی نہیں ہوتی۔ اگر میں نے اپنے فرض کی ادائیگی میں مجبور ہوکر یا تمہاری اپنی بھلائی کے لیے تمہیں ڈانٹا ہےیا سزا دی ہے تو ان باتوں کے لیے معافی نہیں مانگتا۔ اگر میں نے بلاوجہ آپ پر غصہ اتارا ہے اور آپ کا دل دکھایا ہے تو مجھے معاف کریں۔ آج بھی میں اپنے ان شاگردوں، ماتحتوں اور ہمکاروں سے یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میں نے بلا وجہ یا اپنی انا کی تسکین کے لیے تمہارا دل دکھایا ہے تو خدا را میرے مرنے سے پہلے مجھے معاف کریں۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ہمیں کسی کی غلطی یاد کرتے ہوئے تھوڑا غیر جانب دارہوکراپنے اندر بھی جھانکنا ہوگا کہ کہیں گناہ اپنا تو نہیں تھا؟ یہاں میں ایک چھوٹے سے واقعے کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ملازمت کے دوران میں نے ایک سرکاری ملازم کو سزا دی تھی۔ وہ صاحب سرکاری ملازم کم سیاسی اور مذہبی لیڈر اور ٹھیکے دار زیادہ تھا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی جماعت کو استعمال کرکے میرے خلاف سیاسی پلیٹ فارم سے قراداد بھی پاس کروایا تھا کہ اس آدمی کو چترال سے تبدیل کیا جائے۔ اس وقت کی مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ یہ قرارداد افغانستان کی طالبان حکومت کے صوبہ کنڑ کے گورنر کی صدارت میں چترال کے ایک معروف ہوٹل میں پاس ہوئی تھی۔ اس کے کوئی سترہ اٹھارہ سال بعد وہ شخص راستے میں کچھ اس طرح ملا کہ ہم دونوں الگ الگ گاڑیوں میں سوار اور ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو کھڑے تھے کیونکہ آگے چیکنگ ہو رہی تھی۔ میں نے اس بندے کو سلام کیا اس خیال سے کہ شاید اس نے اپنے گناہوں سے توبہ کیا ہو۔ لیکن اس نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا کیونکہ اس کے دل میں کینہ ابھی تک موجود تھا۔ میں اپنے سلام کی بے قدری پر دل مسوس کر رہ گیا کیونکہ وہ ابھی تک سلامتی کا حقدار نہیں بنا تھا۔]]>

You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!