sher wali khn aseer

یاد ماضی – سیدو

شیرولی خان اسیر

آج فیس بک کھولا تو برخوردارم یحیٰ علی جان کی طرف سے اپ لوڈ اس تصویر پر نظر پڑی۔ یہ تصویر اس کے بقول 1888کی ہے۔ تصویر میں قلعہ مستوج نظر آرہا ہے۔ تصویر کا رخ تقریباً شرقاً غرباً ہے۔ مستوج قلعہ کے ارد گرد اور سامنے کوئی مکان یا جنگل (سوائے ایک مکان نما کوئی چیز مع پست چار دیوراری کے جو نوغور کے سامنے نظر آرہی ہے) وغیرہ نظر نہیں آرہا ہے بلکہ بنجر اور دلدلی زمین ہے۔ سامنے دریائے یارخون کے اس پار پہاڑ اور شوہچیلی لشٹ کا دو تہائی حصہ نظر آرہا ہے جو اس وقت ایک سرسبزو شاداب گاؤں بن چکا ہے۔ جب قدیم غورو سیلاب میں تباہ ہوا تو دودوئے شاہ نے شوہچیلی لشٹ کیلے دریائے

یارخون سے نہر نکالی اور یہ آباد ہوگیا۔ اس تصویر سے یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ اس زمانے (1888) میں گاؤں چنار کا زیرین حصہ جو آج کل توق کے نام جانا جاتا ہے آباد نہیں تھا بلکہ یہ بنجر (شوتار) اور دلدلی علاقہ تھا۔ دریا ئے یارخون کی گزرگاہ بھی تبدیل ہوچکی تھی جو اس سے پہلے مستوج قلعہ کے بالکل قریب تھی۔اس تصویر میں دریا کی گزرگاہ شوتار کے بیچوں بیچ دکھائی دیتی ہے۔ ممکن ہے دودشئے اور چنار کا بالائی حصہ یعنی گورنمنٹ ہائی سکول کی موجودہ عمارت سے آگے آباد ہو۔ اس تصویر کو دیکھنے اور پڑھنے کے بعد مجھ پر اس کہانی کے خدوخال پوری طرح واضح ہوگئے جس کا تعلق اس قلعہ اور دریا کے اس پار رہنے والا ایک سید سے ہے جس کا پورا نام تو معلوم نہیں البتہ اسکی بہن سے منسوب مرثیہ میں “سیدو!” کہہ کر اسے مخاطب کیا گیا ہے۔ یہ کہانی میں نے چترال کے نامور استاد ستارنواز مرحوم افسرخان المعروف بزرگؔ سے سنی تھی۔

ان کے بقول کہانی کا زمانہ رئیس دور کا تھا۔ ممکن ہے غورو کےسید خاندان کے کسی فرد کے علم میں ہو کہ یہ زمانہ کونسا تھا اور سید کا پورا نام کیا تھا؟ تاہم “سیدوغ” ایک مشہور کلاسیکی دھن کے طور پر آج بھی بجائی جاتی ہے۔ میں نے “چھترار نامہ” میں دو دلدوز کہانیوں کی تلمیح یوں ہیش کی ہے ؎ شابوک شاخینیا ای منظر غیچی گوی لۓ براغُس شابوکن ای دختر غیچی گوی غورو سیدؔ اُسنانہ اکثر غیچی گوی تھویکو کوٹھوا گنی ای مہتر غیچی گوی سیدو اشپیرو ارقو لۓ نویی اف بیر خوہر سیدؔ ھ پراشو لۓ کیڑی اف بیر کہتے ہیں کہ قلعہ مستوج میں مقیم کسی حکمران کی بیگم اور پرکوسپ غورو کے سید خاندان کےایک جوان کا آپس میں عشق ہوگیا۔ وہ جوان جو شاید سید نام بھی رکھتا تھا انتہائی حسین تھا۔اس کا جسم چاند جیسا سفید تھا۔ وہ ایک مشہور پیراک بھی تھا۔ دریا ئے یارخون میں پیراکی کیا کرتا جو اس زمانے کا اہم ترین ہنر مانی جاتی تھی۔

یہ پیراکی وہ چاندنی راتوں میں کیا کرتا تھا۔ شاہگُل ندی (پریماڑی اور موژودیہ کے بیچ گزرنے والی ندی) کے دھانے پر وہ دریا میں اترتا اور تیرتا ہوا قلعہ مستوج کے سامنے سے گزرجایا کرتا۔ دریائے لاسپور اور دریائے یارخون کے اتصال کے مقام پر یعنی کروئے دیری پر جاکر باہر نکلا کرتا اور واپس اپنے گاؤں جایا کرتا۔ ایک دفعہ چاندنی رات میں قلعہ مستوج کے مکین کی بیوی دریا کا نظارہ کررہی تھی ان کی نظر اس سید پر پڑی جس کی پیٹھ چاندنی میں بلور کی طرح چمک رہی تھی۔ یہ خاتون اس پر فریفتہ ہوگئی اور کسی طرح سے اس سید سے دوستی کرلی۔ ایک روایت کے مطابق ان میں دوستی نہیں تھی بلکہ وہ عورت یک طرفہ عاشق تھی اور چاندنی راتوں میں قلعے کے مینار پر چڑ کراپنے محبوب کا تیرتے ہوئے نظارہ کیا کرتی تھی۔ ایک دن اس کے شوہرنے اپنی بیوی کی یہ حرکت دیکھ لی اور شک پڑگیا کہ اس کی بیوی اور اس پیراک سیدؔ میں ناجائز تعلق قائم ہے۔ اسی شک کی بنیاد پر اس نے اگلی چاندنی رات کو بندوق لے کر سیدؔ کے تاک میں بیٹھ گیا۔ جب سیدؔ تیرتا ہوا سامنے آگیا تو اسے گولی کا نشانہ بنالیا۔ یوں وہ حسین وجمیل جوان بے موت مر گیا۔ اس کی بہن نے مرثیہ کہا جو “سیدو یا سیدوغ” کے نام سے مشہور ہوا۔ مرثیہ کے بول مجھے یاد نہیں البتہ سیدو کی دھن یاد ہے۔      

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *