Site icon Chitral Today

جب خدا کا سامنا ہوگا تو دیکھا جائے گا

دیوانوں کی باتیں شمس الحق قمرؔ بونی ، حال گلگت shamsا س سے پہلے بیٹھے بیٹھے ایک خیال آیا تھا کہ آخر موت کیا ہے ۔ میں نے غالبؔ کے شعر کے ایک سر مصرع کو موضوع بنایا کہ ’’ موت کا ایک دن معئین ہے ‘‘ ۔ پھر جیسے جیسے خیالات کا بہاؤ ہوا تو میں نے قلم کی نوک سے اُن منتشر خیالات کو اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں قید کرنے کی سعی کی جس پر بہت سارے کرم فرماؤں نے اپنے اپنے انداز اور ذہنی استطاعت و استعداد کے مطابق تنقید کی ۔ سب باتیں اچھی لگیں کیوں کہ یہ تنقید کرنے والوں کے الگ الگ رنگ اور اُن کے خیالات اور نظر کی خوبیاں تھیں ۔ کچھ نقاد دوستوں نے میرے اس خیال کو بلا واسطہ مذہبِ اسلام اور مسلمانوں کے عقائد سے پیوست کیا ۔ کچھ نے مجھے تنبیہ کی کہ ایسے موضوعات پر مجھے قلم اُٹھانے کا قطعی طور پر حق نہیں پہنچتا ۔ کچھ نے شاباش دی اور کچھ نے مجھے دل کھول کر لعن طعن کا نشانہ بنایا۔ میں مشکور ہوں سب کا ۔ میں نے یہ سارا کام سوچ سمجھ کے کیا تھا ۔ مجھے معلوم تھا کہ لوگ اس پر غور کریں گے اور اپنے اپنے انداز سے گل پاشی بھی کریں گے ۔ کسی بھی موضوع پر بحث و تمحیص ضروری ہے اور تنقید شرکائے محل کا حق ہے کیوں کہ ہم حیوان ناطق ہیں ہم بول سکتے ہیں اور ہمیں بولنا بھی چاہیے ۔ تاہم مجھے ایک بات پر بے حد حیرت ہوئی کہ آخر لوگ موت کا نام سنتے ہی کیوں گھبرا جاتے ہیں ؟۔ موت پر اپنے خیالات کا اظہار اور پھر لوگوں کی رائے دیکھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے میں نے کچھ حضرات پر ذاتی حملہ کیا ہویا اُن کے ذاتی اور شخصی معاملات میں مخل ہونے کی کوشش کی ہو یا یہ کہ موت صرف اُن ہی کی قریبی رشتہ دار ہو اور میں نے عمداً اُسے زک پہنچایا ہو۔ اچھنبے کی بات یہ ہے کہ موت جیسی حقیقت کو ہمارے کچھ دوستوں نے کسی ایک مکتبہ فکر سے جوڑکر موت سے اپنے شدید خوف کے اظہار کی وضاحت کی ہے۔ کوئی بات نہیں موت سے ڈرنااچھی بات ہے ۔آپ کی رائے اپنی جگہ درست اور قابل تکریم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مخلوق خدا کو موت کا ذائقہ ایک دن چکھنا نہیں ہے ؟ اگر ہے تو ہمیں اُس تجربے کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔آخر موت جیسے عظیم سفر یا تبدیلی پر بات کرنا کونسا ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر لوگ سیخ پا ہوں ۔ میری نظر میں موت کسی عقیدے کا نام نہیں اور نہ اس کا تعلق کسی خاص علاقے ، مسلک یا قو میت سے ہے بلکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے یہ ہر ایک ذی روح کو آتی ہے ۔ یہ میٹھی حقیقت بھی ہے کیوں کہ دنیا میں امارت اور غربت کے فرق کو یہی ایک چیز ملیا میٹ کرتی ہے دونوں کو ایک ہی رنگ کے سفید کپڑے میں لپیٹ کر لحد کے حوالہ کرتی ہے ۔ امیر اور غریب کو برابر کرتی ہے ’’محترمہ موت صاحبہ تیرا بہت بہت شکریہ کہ تو اس دنیا میں واحد دوست ہے جو سب پر مہربان ہوتی ہے اور تمام دکھ درد کی آخری دوا بھی تو ہی ہے تیرے مقابلے میں زندگی کی کوئی وقعت نہیں یہ وقتی اور تو دائمی ‘‘ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ذہن اور خیال میں ہر وہ چیز آتی ہے جو فانی ہو ہم کسی غیر فانی چیز کے حوالے سے سوچ بھی نہیں سکتے اور سوچنا بے کار بھی ہے ۔ کیوں کہ غیر فانی چیزوں کا تعلق زمان و مکان سے نہیں ہے۔ زمان و مکان لالچ ، بعض ، کینہ اور بے ایمانی کا دوسرا بہترین نام ہے ۔ جس کسی چیز کا تعلق زمان و مکان سے نہ ہو وہ چیز یا وہ ذات بہت بڑی اور بہت خاص ہے ۔ ( بخدا آپ کہیں یہ نہ سمجھیں کہ میں ان تمام باتوں پر جو، میں لکھتا ہوں، اپنے آپ کواتھارٹی سمجھتا ہوں بلکہ میرا منشا یہ ہے کہ میں اپنے ناقص خیالات پر دوستوں کی رائے اور فیڈ بیک حاصل کر سکوں ) تو میں بات کر رہا تھا اُس ذات کی جو غیر فانی ہے اور اُس ذات کی جو فانی اور بے ثبات ہے ۔ہمیں اُس غیر فانی چیز یا ذات تک رسائی کے لئے اَسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے بھی تیز سفر کر کے وقت اور مکان کی قید سے باہر نکلنا ہوگا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اِس وقت ہم میں سے کوئی ہے جو روشنی کی رفتار سے تیز سفر کرسکے ؟ اگر کوئی ہے تو اُسے موت اور موت کے بعد زندگی کا یقینی طور پر ادراک ہے اور ہمیں اُس ہستی کی طاقت کو ماننا پڑے گا اور اگر کوئی نہیں ہے تو موت اور پھر موت کے بعد زندگی کی رفتار پر ہم زمان و مکان کے حدود و قیود میں رہتے ہوئے محدود پیمانے پر صرف سوچ ہی سکتے ہیں اور بس۔۔ ۔ جو خدائی صفت اللہ تعالی نے ہمیں ودیعت فرمائی ہے جو کہ ہماری کھوپڑی کے اندر انتہائی محفوظ جگہے میں نصب ہے اُسے ہم دماغ کہتے ہیں اس کے علاوہ بھی اس کے کئی ایک نام ہیں مثال کے طور پر دانش، فہم ، ادراک اور عقل وغیرہ ۔ پروردگار نے جو نعمت دماغ کی صورت میں ہمیں عطا کی ہے اس کا کام سوچنا ، پرکھنا اور تولنا ہے ۔ یہی وہ ترازو ہے جو ہمیں دوسرے تمام جانوروں سے ممتاز کرتا ہے۔ اگر ہم اِس عضو سے وہ کام نہیں لیں گے جس کام کے لئے اسے بنایا گیا ہے تو گویا ہم اُس عظیم طاقت جسے ہم خدا کہتے ہیں کی نعمتوں کو سراسر جھٹلا نے والوں میں سے ہوں گے ۔ اِسی عظیم طاقت نے اپنی طرف سے ودیعت کردہ نعمتوں کا ذکر سورہ رحمان میں واضح انداز سے فرمایا ہے ۔ ہر نعمت پر سوچنے کی دعوت بھی دی گئی ہے ۔ پانی کا بہنا ، ہوا کا چلانا، چاند، تاروں اور سورج کا طلوع ہونا ، پہاڑوں کا استادہ ہونااور اس کے علاوہ بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جن کا شکر ہم اُس وقت ادا کر سکتے ہیں جب ہم اُن نعمتوں کا درست خطوط پر استعمال کرنا سیکھیں ۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں اللہ تعالی ٰ کی ہر نعمت کی شکر گزاری کے لئے اپنے دماغ سے خوب سوچنا چاہیے ۔ میری نظر میں اگر میں نے موت پر سوچنے کی کوشش کی ہے تو میں نے بہت بڑی عبادت کی ہے جس پر مجھے فخر ہے ۔جس معاشرے میں انسانی دماغ کے سوچنے پر پابندی لگادی جائے یا سوچنے کے عمل پر ہر بازاری مفتی فتویٰ دینا شروع کردے تو وہاں اپنے خالق سے دوری اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کا سلسلہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ میرے مطابق سوچنا چاہئے کہ یہ سب کچھ آخر کیا ہو رہا ہے ۔ انسان اور باقی تمام مخلوق کیا ہیں ۔ان سب کی حقیقت کیا ہے ۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ شیر کی خالہ نے شیر کو سب کچھ سکھایا لیکن درخت پر چڑھنا کبھی نہیں سکھایا ۔ یہی وہ فلسفہ ہے جس کی وجہ سے ہم سب اپنے اپنے انداز سے چڑھائی کرتے ہیں ۔ ہزار جتن کے بعد سامنے وہی وقت کی حدود اور وہی مکان کے حصار ہیں ۔ ایک اور عجیب سوچ دامن گیر ہے یارو ! فرض کیجئے کہ ہم اچھے انسان نہیں ہیں ۔ ہم دوسروں کا حق کھاتے ہیں ۔ ہم دوسروں کو نا راض کرتے ہیں اور اس کے علاوہ ہزار قسم کی برائیوں کا مرتکب ہوتے ہیں تو ہم دوذخ میں جائیں گے اور یقینی طور پر جائیں گے اس ضمن میں جو تھوڑا سا شک باقی ہے وہ یہ کہ ہم جتنے بھی گناہ گار روزخی ہیں کیا انہی گوشت پوست کے جسموں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے یا روحانی طور پر جائیں گے ۔ لیکن برے لوگوں کے لئے طے شدہ بات یہی ہے کہ انہیں ہر حال میں دوذخ میں جانا ہے اور دوزح ایک ایسی بھڑکتی ہوئی آگ کا نام ہے کہ جس کی مثال اس دنیا میں نہیں ہے ۔ تو جناب عالی میں یہ سوچ سوچ کر پاگل ہوا جا رہا ہوں کہ آخر ہم بے چارے لوگ اُس دوزخ کی آگ میں کب تک جلتے رہیں گے اور کس کھاتے میں ۔ اس کی کوئی حد بھی تو ہوگی نایا کہ نہیں ؟ مسلۂ دوزخ میں جلنا ہی نہیں بلکہ میرے لئے اس سے بھی بڑا مسلۂ یہ ہے کہ اگر خدا نا خواستہ جنت میں بھی جگہ مل گئی، اللہ نے گناہگار پر کرم فرمایا تو آخر کب تک جنت میں رہنا ہوگا ۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے بہت بوریت اور اکتا ہٹ ہوگی ، آپ کی مرضی ہے۔ دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ اسی جنت کے حصول کے لئے ہم اپنے سینوں سے بم باندھ کر دوسروں کو بھی بزور بازوساتھ لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چچا غالبؔ نے اسی پر خوب خیال ابھارا ہے ۔ ؂ طاعت میں تا رہے نہ مئے انگبیں کی لاگ دوزخ میں ڈال دے کوئی لیکر بہشت کو ۔۔ یعنی ہم لالچ کی بنا پر اپنے خالق سے محبت کرتے ہیں نہ کہ اُن سے محبت برائے محبت کرتے ہیں ۔ جنت کے بارے میں ہمیں جو بتایا جاتا ہے وہ یہ کہ وہاں انسان اپنی مرضی سے رہ سکتا ہے جو دماغ میں آجائے وہ کر سکتے ہیں ۔یہ سب کچھ کیا ہے ؟ کیا آپ دوستو ں نے اس پر سوچا ہے ؟ کیا یہاں لالچ کا کوکئی تانہ بانہ نہیں ہے ؟ سنجیدگی سے اس بات پر سوچنے کی ضرورت ہے ۔ یہ تو خیر مرنے کے بعد کی زندگی کی بات ہو گئی اب اسی حالیہ زندگی کو بڑھا دیا جائے اور ہر ایک انسان کی عمر بیس ہزار ل ، کروڑں سال ، اربوں یا پھر کھربوں سال بھی ہو تو اُس کے بعد کا انجام کیا ہوگا ۔کیا ہم میں سے کوئی وثوق سے بتا سکتا ہے کہ جب ہم نہیں تھے تو کہاں تھے۔ کیا ہم سکی اور صورت اور انداز میں موجود تھے، جسم کثیف سے پہلے کیا ہم کسی جسم لطیف میں زندہ تھے؟ ۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر اس زندگی سے پہلے ہمار ا کوئی جود نہیں تھا تو اس زندگی کے خاتمے کے بعد کیوں ہے؟ ۔اس سے بھی بڑھ کر تھکا دینے ولا سوال یہ ہے کہ ہمارے بعد کی زندگی کی ضرورت کس لئے ہے ؟ عجیب معمہ ہے ۔ اس پر بات کرو تو لوگ کفر کا فتویٰ دیتے ہیں نہ کرو تو انسان اندر سے ٹوت پھوٹ کا شکار ہوجات ہے ۔یہ جو ہمارے ہونے کا تصور ہے یہ انسان کوپریشان کرتا ہے ۔ اگر ہم اس ہونے اور نہ ہونے پرسوچنا آج سے بند کریں گے تو دوسرے تمام جانوروں کی طرح بہت ہی پر سکوں تو رہیں گے لیکن انسان نہیں رہیں گے ۔چچا نے خوب کہا ہے ؂ نہ تھا تو کچھ خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبو یا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا تو میں کیا ہوتا ۔ گلگت کے ایک مشہور شاعر خالق تاجؔ صاحب نے اسے یوں بیان کیا ہے ؂ یہ دنیا ہے دوستو کوئی آئے گا کوئی جائے گا کوئی کچھ فرمائے گا اور کوئی کچھ فرمائے گا آخری دم تک رہے کی تاجؔ اپنی یہ روِش جب خدا کا سامنا ہوگا تو دیکھا جائے گا ۔]]>

Exit mobile version