(بانگ سے بلتستان (2

شیرولی خان اسیر

آج سے چودہ برس پہلے میں نے وادئ غذر کو دوسری مرتبہ دیکھا تھا۔اس سے پہلے ۱۹۹۱ میں ایک طوفانی قسم کا دورہ کیا تھا جس کے خدوخال مجھے درست طور پر یاد نہیں رہے۔ آج کا غذر اس وقت کے غذر سے یکسر مختلف ہے۔ اس وقت نہ اتنے گھنے جنگل تھے،نہ دلہن کی طرح سجے یہ مکان تھے اور نہ لوگوں کے لباس کی یہ نفاست تھی جو آج دل کو خوش کر رہی ہے۔

غذر والوں نے کے تصور ترقی کو پالیا ہے اور بہت آگے چکے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہم چترال والے پیچھے رہ گئے ہیں،جب کہ ہم اپنے آپ کو ان سے زیادہ عقلمند سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ر ہے ہیں۔ جب ہم گوپس پہنچے تو مغرب کی اذان ہوگئی۔ ہمارے دوسرے ساتھیوں کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔یہاں موبائل فون سروس تھی مگر وادی کے بالائی حصوں میں نہیں تھی ، اس لیے ہمارا رابطہ نہیں ہو پارہا تھا جو ہماری تشویش کوبڑھارہاتھا۔ ہمار ے پاس آگے بڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا اور ہمیں مزید تین گھنٹے سفر کرنا تھا۔ یہاں سے آگے ہمیں کچھ بھی دکھائی نہیں دیا اور ہم غذرکے نسبتاً زرخیز اور گنجان آباد حصے کے نظاروں سے محروم رہے۔رات ۹ بجے ہماری گاڑی پی ٹی ڈی سی موٹل گلگت کے احاطے میں داخل ہوگئی اور ہم اپنے اپنے مختص کمروں میں جا گھسے۔

میری حالت نا گفتہ بہ تھی۔ پیٹ میں مروڑ اور کمر میں ٹھیسیں تھیں جن کا ذکر کرکے میں اپنے دوستوں کو مزید مشوش کرنا نہیں چاہتا تھا، اس لیے اپنے تک محدود رکھ کرچہرے پر مصنوعی طراوت سجائے ان کا ساتھ دینے کی کوشش کی۔ رات ۱۱ بجے جب ہمارے قافلے کی بخیریت گلگت رسیدگی کی خبر ملی تو جان میں جان آئی اور ہم نے سونے کی ناکام کوشش کی کیونکہ تھکاوٹ نے نیند بھی اڑادی تھی۔ ہم سب تین ساڑھے تین سو کلومیٹر سفر کرچکے تھے، وہ بھی نصف کچی ناہموار سڑک پر سے انجرپنجر سب ڈھیلے ہوتے ہوئے۔ 6 اکتوبر2013ء کی صبح ساڑھے نوبجے گلگت سے سوئے سکردو روانہ ہوئے۔ ۵۰ کلومیٹر شاہراہ قراقرم پر سفر کرنے کے بعد ہم بونجی سے چند کلومیٹر شمال میں دریائے سندھ غبور کرکے مشرق کی طرف مڑ گئے۔ اور وادئ سکردو کی تنگ ترین گھاٹی میں داخل ہوئے جس کے دونوں طرف ابلق عمودی پہاڑی سلسلہ تھا اور بیچوں بیچ دریائے سندھ ضعف حزان کا شکار، پہاڑی زنجیروں سے اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے اپنی بچی کچھی طاقت آزمارہا تھا۔

اس پر نظر پڑتے ہی زیارت خان زیرک کا مشہور زمانہ شعر یاد آیا ؂ شورو دریاہوغونہ موش مہ عمرکم بہچاؤگویان ڈقیو عمر بغئے، زاروئیو غم بہچاؤ گویان ( خزان کے دریا کی طرح میری عمر گھٹتی جارہی ہے،جوانی کی عمر بیت گئی، پڑھاپے کا غم ستارہا دریائے سندھ اپنے بڑھاپے میں بھی ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ ٹھوس چٹانوں کے ساتھ سر ٹکراتے ہوئے اور بھی قہرناک لگ رہاتھا اور منہ سے جھاگ بہ رہا تھا۔ مجھے ہم دونوں میں پوری ہم آہنگی نظر آئی۔خیال وہی جوانی کی اور طاقت کبیرسنی کی۔ چترال کے کڑَک اور کاربتیڑی سے ملتی جلتی تنگئ دامن کی حامل یہ وادی چار پانج گھنٹوں کی مسافت تھی۔

جھاڑیوں اور سبزہ سے خالی یہ وادی بھی اپنے اندر بھلا کا حسن رکھتی ہے،شرط ذوق نظر کی ہے اور آنکھیں مسلسل اونچی رکھنے کی، ورنہ نیچے گہری کھائی اور پرشور اباسین کی خوفناک لہریں مجنون کے دل سے بھی حسن جمال لیلےٰ بھلا دیں گی۔ ہم ڈیڑھ بجے آستک پی ٹی ڈی سی موٹل پہنچ گئے،جہاں دوپہر کا کھانا کھانا تھا۔ یہ ایک چھوٹے سے تکونی میز نما قطعۂ زمین پر قائم خوبصورت ہوٹل ہے۔اردگرد انسانی آبادی کے کوئی آثار دکھائی نہیں پڑے۔ممکن ہے کہیں اس سے بھی تنگ زیلی وادیوں میں روپوش ہوں۔ آستک سے کافی لمبا سفر کے بعد ہراموش کا گاؤں نظر آیا جو عرصے سے جانا پہچانا نام ہے کیونکہ کسی زمانے میں ہمارے پترانگاز کے امیر اکبر خان لال المعروف صدر اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔ شاید اس وقت سکردو روڈ بن رہا ہوگا۔ مزید ۲ گھنٹے سفر کرنے کے بعد وادی کھلتی ہوئی نظر آنے لگی اور جب غروب آفتاب کے قریب ہماری گاڑی سکردو کے احاطے میں داخل ہوئی تویوں لگا جیسے ہم ایک لمبی تاریک ڈیوڑھی سے ایک کھلے وسیع و عریض شاہی صحن میں آگئے ہوں۔

چاروں طرف اونچی پہاڑی دیواریں، انکے اندر کئی کھلتی وادیاں، سرسبزو شاداب شہر سکردو اور نواحی گاؤں، سفید ریت کے لق ودق بیاباں، جس کے بیچوں گزرتا اباسین کسی چھوٹی سی نہر لگ رہا تھا۔سکردو کے وسط میں، اونچے ٹیلے کے پہلو میں’کھرپچوبیندوق‘ کا تاریخی قلعہ اپنی بے قدری کا رونا رو رہا تھا۔ شام ہو چلی تھی اس لیے ہم چند مقامات کو سرسری دیکھ سکے جہاں تک ہماری نگاہیں پہنچ سکتی تھیں۔پی ٹی ڈی سی موٹل سکردو میں ہمیں ایسے کمرے الاٹ ہوئے جہاں سے قلعۂ کھرپچو کا نظارۂ ماتم ہر پل ہوتا رہا۔ یہ وہ بد نصیب قلعہ ہے جسے ۱۹۴۸ میں چترال کے مجاہدین نے بھارت کے قبضے سے چھڑایا تھا اور جس کے آس پاس چترالی شہداء کے خون کے قطرے اب بھی چمک رہے ہوں گے اور شہیدوں کی روحیں فاتحہ کی منتظر پینسٹھ سال گزارچکی ہیں۔ جب ہم نے اس قلعے تک جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو بتایا گیا کہ قلعہ کھنڈر بن چکاہے اور وہاں پر دیکھنے کی کوئی چیز نہیں ملے گی۔ ہمیں بے حد افسوس ہوا۔کہ اس تاریخی قلعے کو کھنڈرات میں کیوں بدلا گیا ہے جو بلتستان کی تاریخ آزادی کا زندہ باب ہے۔ کہیں اس فعل مجرمانہ میں بھی بھارت کی شرارت تو نہیں جو ہماری تاریخ کے سنہری باب کو مٹانے کی کوئی سازش کی ہو۔۱۹۴۸ء میں جب بھارت نے کھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کی پہلی کوشش کی تھی او ر اپنی سب سے زیادہ جنگجو گورکھا فوج یہاں پر اتارکر بلتستان پر غاصبانہ قبضہ جمالیا تھا توچترالی مجاہدین نے شہزادہ غازی الملک کی سرکردگی میں ۷۰۰ کلومیٹرسے زیادہ فاصلہ طے کرکے پہاڑوں اور گھاٹیوں اور ندے نالوں سے گزر کر دشمن کے سر پر پہنچے تھے اور انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھدیا تھا۔

ان مجاہدین نے اپنی جانو ں کا نذرانہ دے کر قلعۂ کھرپچو کو فتح کرکے سکردو کو چھڑایا تھا اور جن کے نام تاریخ چترال میں فاتح سکردو کے نام سے زندہ جاوید ہیں۔ان مجاہدین کے لیے یادگار تختی کیوں نہیں جبکہ سڑک کی تعمیر کے دوران شہید ہونے والوں کے ناموں کی یادگار تختیاں جگہہ جگہہ استادہ ہیں؟۔ ( بلتستان سے واپسی پرمجھے بتایا گیا کہ مواضع بریپ اور استچ یارخون کے دو شہید بھی اسی جگہ مدفون ہیں جسکامجھے پہلے علم نہیں تھا۔میں حیران ہوں کہ فیضی صاحب اس بارے کیسے خاموش رہے۔ کاش ہم پوری خبر رکھتے تو ہر صورت کھرپچو کے ٹیلے پر چڑھ جاتے اور اپنے شہداء کو سلام بھیجتے۔ہماری یہ غیر دانستہ کوتاہی زندگی بھر یاد رہے گی، تا آنکہ میں ان کی مٹی پر حاضری نہ دوں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *