Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

Protesters persuaded to hold talks on compensation

Mirkani جمعہ کے روز ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے میرکھنی جاکر احتجاجیوں سے مذاکرات کئے اور انہیں ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مذاکرات پر امادہ کرلیا جس کے مطابق 2۔مئی کو گیارہ بجے ڈی۔سی کے دفتر میں ضلع ناظم کی موجودگی میں اجلاس ہوگا جس میں احتجاجیوں کے ساتھ مقامی ممبران ضلع وتحصیل کونسل اور تجاریونین کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرعبدالغفار ، ڈی ایس پی دروش ظفر احمد اور دروش سے تبدیل ہونے والے اے۔سی بشارت احمد بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ضلع ناظم نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر دروش اور مضافات کے عوام ملک کو چھوڑکر جانے جیسی انتہائی نوعیت کی باتیں کررہے ہیں تو ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل اور وجہ ضرور ہوگی اور یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ابتدائی دور میں معاوضوں کی ادائیگی میں ضلعی انتظامیہ سے غلطیاں ضرور سرزد ہوئی ہوں گے ۔ protest انہوں نے دھرنا دینے والوں پرز ور دیا کہ وہ مذاکرات کا راستہ اپنائیں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر مسئلے کا حل تلاش کریں اور پھر بھی مسئلہ کا حل نہیں نکل آیا تو وہ ان کے ساتھ کسی بھی قربانی دینے کو تیار ہوں گے۔ بعدازاں ضلع ناظم ، ضلعی انتظامیہ کے افسران، ا ور منتخب ممبران تحصیل و ضلع کونسل کا دھرنا کمیٹی کے رہنماؤں سے مذاکرات کے نتیجے میں ڈی۔ سی کے ساتھ مذکرات کے لئے تاریخ کا تعین کیا گیا۔ دھرنا کمیٹی کے امیر حاجی محترم شاہ، سابق یونین ناظم عبدالباری، قاری نظام الدین، صلاح الدین طوفان اور دوسروں نے اپنے مطالبات کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے پرامن مطالبے کو ضلعی انتظامیہ نے کو اہمیت نہ دے کر ان کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ اس موقع پر تحصیل ناظم مولانا محمد الیاس، ضلع کونسل کے ممبران مفتی محمود الحسن اور مولانا انعام الحق جبکہ تحصیل کونسل کے ارکان عبدالسلام، روئیداد خان، قسور اللہ قریشی موجود تھے جنہوں نے مذاکرات میں ضلع ناظم کی معاونت کی۔ ]]>

You might also like
1 Comment
  1. Shamsher Ghani says

    I would like to give my opinion on comments given by dr khalil on this subject a couple of day ago, according to the constitutions of Pakistan, anybody can live anywhere in Pakistan and can be considered an inhabitant of the area if she/he has taken domicile of that region. It is fact that Chitrali are living in other parts of the country and are considered as a citizen of that area. Like Altaf Hussain, sitting beyond seven oceans, it is easy to made senseless comments and pinpointing others. What Dr Khalil wants to gain through this comment except to cascade the sentiment of the people? If he claims that he is a native of Chitral what he has done for the area in social, political and development aspect. The people of Drosh have love with the soil of Chitral; the people have done nothing which could be harmful for the region. If some of them are street hawkers then what is wrong? Same activity is done by majority of the people of Pakistan including Chitral. This is far-better than theft, prostitution, trading of narcotics etc. The people have been badly affected and have lodged protest seeking help from government; the same tactic is adopted by everyone in Pakistan. I would advise to Dr Khalil to think at least ten times before passing a baseless comment, sentiments of public should be respected. Further it is my sincere advise to him to come back to Chitral, stay here, work with the people and live among them. Hope he will find my advise helpful. apne gar ki suki roti angrezon ke shahed se mithi hoti hai

Leave a comment

error: Content is protected!!