یاد ماضی – 9

sher مجھے یاد نہیں آتا کہ میری زندگی کے یہ بدترین دن کتنے تھے جن میں میں صبح سے شام اور رات گئے تک یہ سوچتا رہتا تھا کہ ڈھائی روپے کیسے حاصل کروں تاکہ اس ڈراونی صورت دوکاندار کا قرض اتار سکوں؟ اور یہ کہ مطلوبہ روپے حاصل ہونے تک اس بندے سے کیسے چھپتا رہوں؟ دونوں کام میرے لیے مشکل ترین تھے۔ بہت زیادہ غور حوض کے بعد ایک فیصلے پر پہنچا جو کسی بھی صورت مجھے پسند نہیں تھا۔ بار بار اس فیصلے کو سوچا اور مسترد کیا کیونکہ یہ فیصلہ بونیغ قلندر کے لعاب دہن سے آلودہ گڑ کھانے سے زیادہ مشکل تھا۔ البتہ ‘مقروضِ نادہندہ’ رہنے اور ایک بار پھر دوکاندار کا سامنا کرنے یا اس بات کا ڈھنڈورا ہونے کے مقابلے میں آسان لگا تھا۔ البتہ اس پر عملدرآمد کرنا بچوں والا کام ہر گز نہیں تھا۔ اس کے لیے بڑے محتاط انداز میں عرق ریزی کے ساتھ منصوبہ بندی کی ضرورت تھی اور پھر موقع دیکھ کر کمانڈو سپاہی کی سی احتیاط کے ساتھ اس کو انجام دینا تھا۔ یہ میری زندگی کا پہلا غلط کام تھا جو میں کرنے جا رہا تھا۔ مجھے اب بھی اس حرکت کا بے حد افسوس ہے اور آج بھی اس معصومانہ گناہ پر شدید شرمندہ ہوں۔ یہی احساس گناہ تھا کہ میں اپنے استاد اور اس دوکاندار سے نفرت کرنے لگا تھا۔ ان دو افراد نے مجھے اس مصیبت میں ڈالا تھا۔ اس زمانے میں ایک دوسری چیز کا آزادانہ کاروبار ہوتا تھا جو آجکل ممنوع ہے۔ میرے بابا بھی اس کا کاروبار کرتا تھا۔ میں نے وہی چیز چرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ میرے لیے آسان اس لیے تھا کہ اس کا سٹاک گھر کے سٹور روم میں ہوا کرتا جس کا دروازہ کھلا ہوتا تھا۔ ایک دن موقع پاکر میں سٹور میں گھس گیا اور وہی چیز بے حساب ایک رومال میں باندھ لیا اور پیِٹیوں کے پیچھے چھپا دیا۔ منصوبے کا پہلا حصہ پورا ہوگیا تھا۔ دوسرا حصہ انتہائی خطرناک تھا جس میں میں پکڑا بھی جا سکتا تھا۔ اس گٹھڑی کو باہر سمگل کرنے کے لیے ایک ہی نازک وقت تھا، یعنی صبح سکول کے لیے روانگی کا وقت۔ اس ٹائم پر امی جان ناشتہ پکا رہی ہوتیں اور ابو اٹھ چکے ہوتے اور باہر کسی کام میں مصروف ہوتے۔ بعض اوقات وہ اس وقت سوتے بھی رہتے۔ اگر انہوں نے رات کو کھیتوں کو پانی دیتے ہوئے رات گئے سو جاتے تو صبح سویرے اٹھ نہیں پاتے۔ بہر حال مجھے امی اور ابو کی نظروں سے بچتے ہوئے اس شئے سمیت باہر نکلنا تھا۔۔ اس سوچ میں ساری رات نہ سو سکا تھا۔ ہاں رات سونے سے پہلے میں نے اس گٹھڑی کو اپنے بستے کے اندر منتقل کیا تھا اور اس نے بستے کو پوری طرح پھلا کر قابل اعتراض بنا دیا تھا۔ کمزور ویژن والا بندہ بھی دور سے اندازہ لگا سکتا تھا کہ میرے بستے کے اندر کتابوں کے علاوہ کوئی موٹی سی چیز ہے۔ اس لیے صرف اپنے ماں باپ کی آنکھوں سے پوشیدہ رکھنا ہی کافی نہ تھا بلکہ دوکاندار کے گھر پہنچانے تک لوگوں کی نظروں سے بچائے رکھنا تھا۔ اس خاص صبح میں بہت ہی سویرے اٹھا تھا۔ ماں کو رات ہی بتا دیا تھا کہ کل صبح مجھے سویرے اسکول جانا ہے کیونکہ میری صفائی کی باری ہے۔ اس زمانے میں ہم بچے باری باری اپنے کلاس روم اور صحن کی صفائی کیا کرتے تھے۔ یہ اچھا بہانہ تھا اور میرا پہلا جھوٹ بھی جو میں نے امی جان کے سامنے بول دیا تھا۔ امی جاں نے پہلی پکی روٹی توے سے اتار کر مجھےناشتہ کرایا اور میں نے جلدی جلدی اسے معدے میں اتر لیا۔ اس دوران بابا بستر سے اٹھ کر ضروریات اور ہاتھ منہ دھونے کے یے باہر نکل گئے۔ یہ میرے لیے زرین موقع تھا۔ میں گونج میں داخل ہوا، بستہ کندھے سے لٹکایا اور باہر نکل آیا۔ کھوار ختان سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ گھر میں کھانا پکانے والی خاتوں انگیٹھی کے بائن طرف بیٹھ کر پکاتی ہے اور “دورو گونج” کا دروازہ بھی عموماً لفٹ کی طرف ہی ہوتا ہے۔ میں نے ‘متاثرہ’ بستہ اپنے دائن طرف کرکے ماں کی پشت کی جانب سے گزرا اور آگے دروازے کی طرف جاتے ہوئے اسے ذرا اپنے سامنے کیا اور باہر جھانک کر دیکھا تو بابا جان صحن میں نظر نہیں آئے اور میں ایک ہی جست میں صحن غبور کرکے دروازے سے نکل کر کھلی فضا میں آگیا۔ میرا دل زور زور سے دھک دھک کر رہا تھا۔ پیشانی پر پسینے کے موٹے موٹےقطرے آنکھوں پر آرہے تھے۔ سمگلنگ کامیاب رہا تھا۔ اب میں نے بستے کو سامنے رکھا تھا کہ کہیں پیچھے سے بابا دیکھ نہ لے۔ یہاں سے آگے اتنا مسلہ نہ تھا۔ بستے کی بد وضع صورت کا کوئی بھی بہانہ یعنی جھوٹ گڑھنا مشکل نہ تھا۔ وقت بھی کافی سویرا تھا،۔ اس وقت لوگوں کی آمدورفت کم ہی ہوتی تھی۔ ویسے بھی اس زمانے کے گاوں کی پگڈنڈیوں میں اتنی گہما گہمی نہیں ہوتی تھی۔ آبادی کم تھی اور سارے گاؤں والے یا تو گڈریا تھے یا کاشتکار جو اپنے اپنے کاموں میں گم رہتے تھے۔ ہماری وادی میں مارچ اور اپریل خاص کرکے زیادہ محنت طلب مہینے ہوتے تھے جس میں انسانوں اور جانوروں دونوں کی خوراک تقریباً ختم ہو جایا کرتی۔ اس لیے نفسا نفسی کی سی حالت ہوا کرتی۔ سڑکوں پر گھومنے والا کوئی نہیں تھا سوائے ہم چند ‘اسکولی’ بچوں کےجو صبح آتے اور دوپہر کو واپس جاتے ۔ میں جب دوکاندار کے گھر پہنچا تو اس کو گھر کے باہر ہی پایا۔ شاید آج بھی میری ناکہ بندی کا ان کو خیال تھا۔ اس نے اپنی چھوٹی سی دوکان کھولی جو اس گھر کے پہلو میں تھا۔ مجھے دیکھ کر بھی اس کے چہرے پر روشنی کی رمق پیدا نہیں ہوئی۔میں نے وہ چیز اس کی طرف پھینک دی۔ اس نے تول کر بتایا تھا کہ قرض اتر گیا حالانکہ اس چیز کی قیمت کم ازکم دس روپے تھی۔ دوکاندار کو چاہیے تھا کہ قرض کی وصولی کے بعد پانج چھہ نہ سہی دو تین روپے مجھے دیتے۔ تقاضا کرنا دور کی بات میں پھر موڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ اس کے بعد زندگی بھر اس آدمی سے دور رہنے کی کوشش کی۔ اللہ ان کو بھی بخشدے اور مجھے بھی۔ جار ہے ]]>

One Reply to “یاد ماضی – 9”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *