یاد ماضی – 8

یاد ماضی - 8 آج میں یہ عرض کرنے جارہا ہوں کہ بعض اوقات ماضی اور حال میں قدر مشترک پیدا ہوتی ہے اور جی چاہتا ہے کہ تذکرہ کروں۔ ایسے موقع پر آپ لوگ میرے بچپن میں ہی اٹکے مت رہیےگا۔ آج کی گفتگو میں ایسی ہی چھوٹی گفتگو ہے۔ آج سے تیس چالیس سال پہلے عام لوگوں کے ذہنوں میں چند پیشوں کا تصور بھی نہیں تھا۔ ڈاکٹر بننا، آرمی میں لفٹننٹ بھرتی ہونا، انجنیئر بننا، سول انتظامی افسر بننا خواب سا تھا۔ جن لوگوں کے بچے میڈیکل ، انجنیئرنگ، آرمی یا سول ایڈمنسٹریشن کے متعلقہ امتحانات پاس کرتے تھے ان کو بہت ہی خوش قسمت والدین سمجھا جاتا تھا۔ یہ رجحان آج بھی قائم ہے البتہ یہ پیشے پہلے کی طرح عام آدمی کی دسترس سے دور نہیں ہیں۔ اس دور میں یہ پیشے ذہین بچوں کے گھروں کی لونڈیاں ہیں۔ جن والدین کو اللہ پاک ذہین اور محنتی بچوں سے نوازتا ہے وہ والدین عمر کے آخری حصے میں سکون کی زندگی گزارتے ہیں کیونکہ ان کے بچے کامیاب زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور والدین کی دل کھول کر خدمت کرتے ہیں۔ البتہ عصر حاضر میں یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ بعض نا خلف بچوں کو یہ سعادت نصیب نہیں۔ ان کے بیچارے والدین بڑھاپے میں اپنے بچوں کی خدمت سے نہ صرف محروم ہیں بلکہ ان کی بے رخی کا رونا بھی رو رہے ہوتے ہیں۔ آللہ پاک ایسی اولاد کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنے عمر رسیدہ ماں باپ کی خدمت کا موقع کھو کر عمر بھر پچتاوے کی آگ میں جلنے سے بچ جائیں اور قیامت کے دن اللہ کے حضور میں حاضر ہوکر سوال جواب کی خجالت اور بعد مالک حشر کی سزا سے نجات پاسکیں آمین انسان کی عمر جب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو سب سے زیادہ ضرورت ڈاکٹر کی پڑتی ہے اور جس ‘بڈھے’ کے بچے ڈاکٹر ہو ں وہ واقعی خوشقسمت ہے۔ اس شخص یا اشخاص پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظیم مہربانی ہے۔ کیونکہ یہ عمر گھستے پِستے اعضا کی مسلسل دیکھبال اورمرمت کا تقاضا کرتی ہے۔ جب بھی میں کسی نہ کسی جسمانی عارضے پر طبی معائنے کے لیے کسی ہسپتال کا رُخ کرتا ہوں تو موضع چرُن اویر کے ایک جہاں دیدہ بزرگ جو ‘ امریکن’ کے نام سے مشہور تھے۔ مجھے ضرور یاد آتے ہیں۔ یہ بزرگ فرفر انگریزی اور اردو بولا کرتے تھے۔ اپنی جوانی میں انگریزوں کے نوکر رہ چکے تھے اور بمبئی اور دہلی میں زندگی کا بڑا حصہ گزار چکے تھے۔۔ بڑے ہنس مکھ اور خوش طبیعت آدمی تھے۔ ان سے ملاقات پر جب پوچھا جاتا، ” میکی صحت جم شیرا؟” تو فوراً بول دیتے، ” اے ژان! کھٹارا موٹرو کیہ صحت بوئے۔ ای پرزو مرمت کوریکو ای خراب بویَن ، ایغو کوریکو ہتے ای “۔ ( میری جان! کھٹارا گاڑی کی کیا صحت ہوتی ہے۔ ایک پرزے کی مرمت کرواؤ تو دوسرا خراب ہو جاتا ہے ، دوسرے کو ٹھیک کرواؤ تو ایک اور (خراب ہو جاتا ہے)۔ ہماری جوانی کے دن تھے اس لیے آمریکن میکی کے ان سنہری اقوال کی قدر نہیں تھی۔ جب ہم خود آمریکن بابا بن گئے ہیں تو ان کے یہ جملے رہ رہ کر یاد آجاتے ہیں اور تمثیل کو داد دیے بغیر رہا نہیں جاتا۔ اصل بات ڈاکٹری پیشے کی ہو رہی تھی۔ میں بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہوں جس کی دو دو بچیاں ای بی بی ایس کرچکی ہیں۔ ایک ایف سی پی ایس اور دوسری ایف آر سی ایس کر رہی ہے۔ سب سے چھوٹی ڈی فارمیسی کے چوتھے سال میں ہے۔ ایک ڈیڑھ سال کے اندر وہ بھی ڈاکٹر آف فارمیسی کی ڈگری حاصل کرچکی ہوگی۔ میں اللہ کا شکرادا کرتا ہوں۔ البتہ محمد حسین آزاد صاحب کایہ کہنا کہ’ انسان کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتا’ حرف بحرف سچ ہے۔ پہلے آرزو تھی، تمنا تھی، دعائیں تھیں کہ ایک بچہ بھی ڈاکٹر بن جائے تو اللہ کی بہت مہربانی ہوگی۔ میری تین تین بیٹیاں ڈاکٹر بن گئیں۔ ڈاکٹر بننے کے بعد جب یہ بچیاں ڈاکٹری مشوروں، پرہیزوں، ورزشوں اور وقت پر دوائی لینے کی لا متناہی تبلیغ شروغ کردیے ہیں ۔ ‘بابا! کمر سیدھی رکھیے۔ بابا جھک کر کوئی چیز مت اٹھایےگا۔ ابو جاں! تمباکو نوشی صحت کیلیے مضر ہے ( حالانکہ سگریٹ کی پیکٹ پر یہ وارننگ سنہری حروف میں لکھا ہوتا ہے)، ابا جان! یہ کھایے وہ مت کھایے’۔ تو مجھ جیسےعمر بھر فرشی نشت اور جھک کر کام کرنے کے عادی آدمی کو کرسی پر سیدھا بیٹھنے اور ہر چھوٹی موٹی چیز اٹھانے کے لیے پہلے اکڑوں بیٹھنے کی پابندی لگائی جائے۔اسی طرح عمر بھر بے لگام کھائے پیے آدمی پر پرہیزو اجتناب کا قدعن لگایا جائے تو دل میں سوال اٹھتا ہے کہ ‘ان کو ڈاکٹر بننے میں مدد دے کر میں نے کہیں غلطی تو نہیں کی ہے؟’۔ ( اللہ معافی کرے، ان کی نعمتوں کے ساتھ بڑا ناشکری والا جملہ ہے) اس بے ہودہ سوال کو دل ہی میں دباتے ہوئے اور دبی زبان میں بڑبڑاتے ہوئے “خود کردہ را علاجے نیست” سر تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے اور ان (ماؤں)کی ہدایات پر ایک اچھے بچے کی طرح عمل کرنا پڑتا ہے ۔ میرے بقول ڈاکٹر زوبی سرنگؔ اس معاملے میں ذرا ‘انتہا پسند’ ہے۔ ورزش کی تبلیغ سے کبھی تھکتی ہی نہیں لیکن مجھ پر اسکی تبلیغ کا ہمیشہ دیر سے اثر ہوا ہے۔ ہاں! اس بات کا اعتراف کرتا ہوں اور شکریہ بھی بولتا ہوں کہ میری “سگریٹ چھوڑ مہم” میں یہ بچی پیش پیش رہی ہے۔۔ ڈاکٹر زہرہ میرا زیادہ لحاظ رکھتی ہے۔ محتاط انداز میں اس کا طبی وعظ بھی چلتا رہتا ہے۔ کسی بھی معاملے میں اپنی رائے امپوذ کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ ادویات لینے میں میں کواپریٹیو مریض ہوں لیکن کبھی کبھی بے قاعدگی کا مرتکب ہوتا ہوں۔ البتہ ریگولر واک یا ورزش مجھ سے نہیں ہو پا رہی۔ کبھی کبھی ان کا دل رکھنے کے لیے ان کے ساتھ واک کے لیے نکلتا ہوں۔ کراچی میں ہوتا ہوں تو ڈاکٹر زوبی کے ساتھ یونیورسٹی تک واک کرتا ہوں اور کبھی اپنی چھٹی کے وقت کال کرکے یاد دلاتی ہے کہ بابا میں کلنیک سے نکلنے والی ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں گھر سے نکلوں اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال جاؤں ۔ آج صبح اس سلسلے کی پہلی واک تھی۔ میں نے اس کو جوگنگ کہا لیکن بچی کے نزدیک نارمل واک تھی۔ یونیورسٹی کے عقبی دروازے تک پہنچتے پہنچتے میں ہانپ رہا تھا۔ بچی نے رحم کیا اور مجھ سے کہا، ” ڈیڈی! آپ واپس جایے۔ یہاں سے آگے میں ذرا تیز جاوگی کیونکہ تھوڑی دیر ہوگئی ہے”۔ اندازہ لگایے! اب تک جو چل رہی تھی یہ سست رفتاری تھی کیا؟جس نے مجھے بری طرح تھکا دیا تھا۔ اب اس کی تیز رفتاری کیسی ہوگی؟ اللہ کی پناہ! آغاخان یونیرسٹی کے اندر کام کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کی عام واک ہماری دوڑ کے برابر ہوتی ہے۔ میں نے کسی ڈاکٹر یا نرس کو کبھی نارمل رفتار سے چلتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ جاری ہے]]>

5 Replies to “یاد ماضی – 8”

  1. Exemplary family where everyone is devoted to his or her work…. Solute to such fathers who teach their childs in such a way……. I personally know them fortunately because of my profession……. God bless u

  2. lovely and sweet article by a sweetest and greatest father,educationist,author,poet and a very loving personality.Thanks Allah we are doctors but the credit goes to you and Mom, be Blessed and happy always,love u and proud of u so much.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *