Chitral Today
Latest Updates and Breaking News. Editor: Zar Alam Khan.

یاد ماضی -7

sher یہ اپریل 1958 ہے۔ میں سکول جا رہا ہوں لیکن میرے دل و دماغ پر ایک ایسا غم سوار ہے کہ جس کا کوئی علاج نظر نہیں آرہا ۔ سوچ رہا ہوں کہ کس طرح دوکاندار میکی کی نظروں سے بچ جاوں۔ آج وہ ضرور کہیں سڑک کے کنارے میرا انتظار کر رہا ہوگا۔ میں نے وعدہ خلافی کی تھی۔ دوکاندار میکی بھی ایسے معاملات میں سخت تھا۔ استاد کے لیے وہ چیزخریدتے وقت میں نے وعدہ کیا تھا کہ میکی جان! میں کل آپ کا قرض چکا دوں گا۔ان سے دو مرتبہ وعدہ خلافی ہو گئی تھی ۔ اس سے ایک دو روز پہلے میکی نے دھمکی دی تھی کہ ” مہ نویس! چھوچی دی پیسان کہ نو الاؤ اوا تہ بستو سُم کتابن گانِم جیما ” ان سے ادھار تو اس دن لیا تھا جب استاد نے میری کامیابی کی خوشخبری سناتے ہوئے شرینی لا نے کو کہا تھا۔ میں نے دوکاندار سے وہی استاد صاحب کی مطلوبہ چیز ایک تولہ ادھار پر لے کر استاد کی خدمت میں پیش کی تھی جس کی قیمت ڈھائی روپے تھی۔ آجکل اس کی قیمت ایک ہزار بتائی جاتی ہے۔ اس دن میں نے استاد کی شرینی کا بندوبست کیا تھا۔ پھر گھر جاکر اپنے پاس ہونے کی خوشخبری سنا کر ابا جان سے مبلع ڈھائی روپے قرض کی ادائیگی کے لیے بھی لیے تھے۔ دوسرے دن سکول جاتے ہوئے تھوڑی دیر ہوگئی تھی اس لیے میں نے سکول سے واپسی پر دوکاندار کا قرض ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وقت پر سکول پہنچنا میری عادت بن گئی تھی۔ اس لیے دوکاندار کا قرض چکانے کو چھٹی تک کیلیے موخر کیا۔ جب میں سکول پہنچا تو اپنے استاد کو انتظار کرتے ہوئے پایا۔ میں نے سلام کیا۔ استاد نے سلام کا جواب دیا یا نہیں مجھے یاد نہیں آرہا، البتہ اس نے مجھ سے پوچھا، ‘ اے لالو جاؤ! روپیہ الاوا؟ ‘ میں نے کہا، ‘جی استاد’۔ استاد نے کہا، ‘لاو مجھے دیدو۔، میں دوکاندارو کو دیدوں گا، مجھے اس کے اور پیسے بھی دینے ہیں’۔ میں نے خوشی خوشی وہ ڈھائی روپے استاد کے حوالے کر کے گویا ایک بوجھ سے چھٹکارا پایا تھا۔ اس کام سے تو جان چھوٹ گئی۔ ایک تو دوکاندار کی صورت بھی کوئی قابل دید جیز نہیں تھی دوسرا اس کا گھر بھی سڑک سے کم ازکم چھہ سات سو گز اوپر ڈھلان پر تھا۔ سکول سے چھٹی کے وقت ویسے بھی بھوک سے برا حال ہوتا تھا۔ اس حالت میں اگر آدمی سات سو گز چڑھائی چڑھے تو اس کا کیا حال ہوگا؟ دو دن بعد جب میں سکول آتے ہوئے مقام ڈوک پہنچا تو دیکھا کہ دوکاندار سڑک کے کنارے ایک بڑے سے پتھر کے اوپر برانجمان ہے۔ یہ پتھر اب بھی موجود ہے اور جب بھی اس سڑک سے گزرتے ہوئے میری نظر اس پر پڑتی ہے تو یہ کہانی شعور کے پردے پر جلوہ گر ہوجاتی ہے۔ مجھ پر ان کی نظر پڑتے ہی وہ پتھر سے نیچے اتر آیا اور میرے سامنے آکر یوں کھڑا ہوگیا جیسا کہ کسی مفرور کی گھات میں بیٹھا ہوا سپاہی اچانک اس کی راہ کاٹ کر سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ معاملہ کچھ خراب ہے۔ میں نے سلام کیا۔ اس نے جواب دینے کی بجائے مجھ سے کہا، ‘ مہ نویس! مہ روپیان الاوا؟’ ( ‘ نویس’ کو لمبا کھینچ کر، بھتیجے! میرے پیسے لائے ہو؟) میں نے کہا، ‘میکی! روپیان استادوتے دِتی اسم” ( میں نے کہا، چچا! میں نے پیسے استاد کو دیےہیں) میرے اس جملے نے انکے تن بد ن میں گویا آگ لگا دی۔ اس کے بے کشش چہرے کا رنگ ڈراونا ہوگیا۔ چھوٹی چھوٹی سرخ آنکھوں سے انگارے برسنے لگے۔ چہرے کی انگنت جھریاں مزید گہری ہو گئیں اور سرما خوردہ چہرہ مزید کالا ہوگیا۔ اس حالت میں اس نے جو کہا، ‘ اے موووش! تہ ہتے استادو سورا مہ تروئے بِشیر روپیہ وم شینی۔ چھوچی دی پیسان کہ نو الاو،اوا تہ بستو سو کتابن گانیم، جیما!’ اس دہمکی سے میں تھر تھر کانپنے لگا تھا۔ غیرت بیگ استاد کا مجھے نا لائق کہنا آج کے واقعے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ اللہ کا کرم ہوا کہ میں اس دن اتفاق سے اکیلا تھا ورنہ میرے ساتھ ایک دو کلاس یا سکول فیلو ہوا کرتے تھے۔ اگر کوئی ساتھی اس واقعے کا چشم دید گواہ ہوتا تو پھر میری اس سر راہ بے عزتی کا ڈھنڈورا پٹ جاتا اور میرا جینا دوبھر ہو جاتا۔آج میں باقاعدہ نادہندہ مقروض اعلان ہوا تھا۔ میں ایک ایسی مصیبت میں پھنس چکا تھا جس کا علاج نہ سردیوں میں پاور آنے جانے سے ہوسکتا تھا اور نہ راتوں کو بیٹھ کر اردو کی کتاب کی ورق گردانی یا حیلہ سازی سے ممکن تھا۔ شاید بونیغ قلمدار کی دعا کام آتی لیکن وہ تو پھر اگلےسرما میں یارخون کا دورہ کرنے والے تھے۔ اس وقت تک یہ دوکاندار مجھے کھا چکا ہوگا۔ آج اسی بدشگون لمحے کے بعد میرے دل و دماغ میں اس سوال نے ڈھیرہ جما لیا کہ دوکاندار کا قرض کس طرح اتارا جائے؟ اس وقت دو روپے پچاس پیسے کی بات کرنا مضحکہ خیز تو لگے گا۔ تاہم پاکستانی روپیہ کی قدر کے متعلق ذرا سوچا جائے تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس زمانے میں ڈھائی روپے لے کر لوگ چترال سودہ لینے آیا کرتے تھے۔ جس طرح اس سے پہلے کہیں بتا چکا ہوں کہ اس چیز کی موجودہ قیمت ایک ہزار روپے تولہ ہے۔ پھر بھی میرے والد محترم کے لیے ڈھائی روپے کوئی بات ہی نہیں تھی۔ لیکن میری مشکل یہ تھی کہ میں بابا کویہ کہانی سنا نہیں سکتا تھا۔ میں کیسے کہ سکتا کہ ‘بابا! مجھے ڈھائی روپے مزید دیجیئے۔ پہلے والے پیسے استاد لے چکا ہے اور دوکاندار کا قرض جوں کا توں قائم ہے’۔ یہ میری غیر ذمے داری کا ثبوت تھا کہ میں اپنا ادھار خود ادا کرنے کی بجائے استاد کے ذریعے ادا کرنے کی احمقانہ حرکت کی تھی۔ بہت ممکن تھا کہ بابا استاد سے اس بات پر الجھ جاتے اور استاد مجھ سے خفا ہوجاتے۔ میرا دوسرا مسلہ یہ تھا کہ میں استاد سے جاکر یہ نہیں کہ پا رہا تھا کہ’ استاد جی! دوکاندار کا قرض اتار دیجیے ورنہ وہ میری کتابیں چھین لے گا’۔ نو دس سال کا بچہ ایک سخت مزاج اور بد صورت دوکاندار کا مقروض ہوجائے اور اس پر طرہ یہ کہ قرض خواہ کسی وقت بھی سڑک کے کنارے منتظر ہوسکتا ہو تو وہ جائے کہاں جائے؟ اس کی ذہنی حالت کیا ہو سکتی ہے اور اس کا دل کس حد تک معموم ہو سکتا ہے؟ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ آپ یقین کریں کہ ان دنوں میری کھانے کی اشتہا مکمل مر گئی تھی۔ میری ہنسی غیب تھی۔ میں سکول میں کیا پڑھتا، کیا لکھتا تھا اس کا مجھے بالکل علم نہیں تھا۔ دوکاندار سے بچتے بچاتے سکول بھی جانا تھا اور واپس گھر بھی آنا تھا۔ اکثر سویرے سکول کیلیے نکل پڑتا اور بعض دنوں دیر سے جاتا۔ اس سے ایک تو ساتھیوں سے الگ رہتا تھا۔ دوسرا یہ کہ دوکاندار کوڈاج دینے میں کامیاب ہوجاتا تھا۔ لیکن کب تک؟ بکری کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ ایک نہ ایک دان دوکاندار مجھے پکڑ ہی لینا تھا۔ میرے گھر پہنچ کر سارا ماجرا میرے بابا کے سامنے بیان کرنا بھی اس کے لیے کوئی مسلہ نہ تھا۔ اس لیے مجھے کسی نہ کسی طرح یہ قرض جلد از جلد اتارنا تھا مگر کیسے؟ میں نے اپنے اس غم میں اپنی سب سے زیادہ ہمدرد اور دوست امی جان کو بھی شریک کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ پتہ نہیں کیوں؟ جاری ہے ]]>

You might also like
4 Comments
  1. Raisa Khan Aseer says

    A beautiful mixture of humor and emotions, every scene i can picturise in my mind.

  2. Sultan Wazir says

    BO MAZADAR.AKERA PAT SAF LUWAN KHYO NO KHOSHTAI KI DIKO BETAW BO MAZA KOI

  3. shamsu l Haq says

    sir boghdu lamhatan zinda kori pesh kosan … umeed sher ki haya jm kitab sawz boi

    1. Sher Wali Khan Aseer says

      بیٹا بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو بھولتے نہیں۔ انکو تحریر میں لانے کی کوشش کرتاہوں ۔ان میں غور کرنے والوں کے لیے اسباق موجود ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected!!