Site icon Chitral Today

نیا سال

آج ہم نے انگریزی سال 2016 کا آغاز کیا۔ ایک دوسرے کو مبارک باد بھیجی۔ خوشیاں منائیں۔ ہلہ گلہ کیا۔ کیا ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ 2015 کا سال جسے اللہ نے اپنے فضل سے ہمیں عنایت فرمایا تھا، ہم نے کیسے گزارا؟ اللہ پاک نے جو لمحے ہمیں بخش دیے تھے ان کو ہم نے کیسے خرچ کیا؟ کتنا وقت ہم نے مثبت سرگرمیوں کیلیے وقف کیا؟ یہ سوالات میں اپنے آپ سے پوچھ رہا ہوں۔ کیونکہ میرے پاس وقت کم پڑتا جا رہا ہے۔جو پورے 365 دن اللہ پاک نے مجھے بونس کے طور پرعنایت فرمائے تھے۔ ان کا مصرف کیسا رہا؟ ان سوالات کے جواب سوچنے کے بعد میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کیونکہ حقوق اللہ میں جتنے رکوع وسجود میں نے کئے تھے ان میں میرا خیال کہیں اور گھوم رہا تھا۔ میں نے ہر کام کے آغاز پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھا لیکن ان کاموں کے انجام دہی کے دوران نہ اللہ کو یاد کیا، نہ اس کی رحمانیت میں سے ایک ذرہ اپنے دل میں پیدا کیا اور نہ اس کی رحیمیت کا عملی اظہا ر کیا۔ میں نے قرآن مجید کی عظیم ترین سورت الفاتحہ کی کتنی بار تلاوت کی، کیا جس میں میں اللہ کی حمد و ثناء کرتے ہوئے دل و دماغ کے ساتھ حاضر تھا؟۔ مالک یوم الدین پڑھتے ہوئے اس روز کی حقیقت پر کتنا ایمان لایا اور اس روز کے مالک کے سامنے حاضری کو کس حد تک یقینی سمجھ پائی؟۔ اگر اس پر یقین تھا تو کیا میں نے جھوٹ، غیبت، بہتان تراشی، چوری، حرام خوری،نا انصافی، حق تلفی، زنا، قتل و فساد سے بھی پرہیز کیا؟ کیا اللہ پاک کے سامنے ‘ میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور تجھ سے ہی مدد چاہتا ہوں’ کہتے وقت میں نے اپنے آپ کو واقعی اللہ کے حضور حاضر دیکھا تھا؟ جب میں عرض کررہا تھا کہ’ اے اللہ! مجھے سیدھی راہ پر چلنے کی ہدایت دے’ تو کیا یہ میرے دل کی آواز تھی؟ کیا اللہ کے انعام یافتہ ہستیوں کے قدم سے قدم ملاکر چلنے کی تمنا دل میں تھی؟ اور کیا اللہ کے مغضوب اور گمراہ انسانوں کے کردار سے بچنے کی پر خلوص آرزو تھی؟ حقوق العباد میں میں نے کیا کردار ادا کیا؟ کیا جو سماجی رفاہی کام میں نے سر انجام دیے اس میں صرف اورصرف اللہ کی خوشنودی مطمح نظر تھی؟ اور جو زاتی مفادات سے پاک تھا ؟۔ جو خیرات میں نے کی ہیں کیا اس میں دکھاوا شامل نہیں تھا؟ کیا میں اللہ کی دی ہوئی دولت سے مستحقین کا حصہ الگ کر کے ادا کیا ہے؟ ان سوالات کا جواب نہ ہاں میں دے سکتا ہوں اور نا میں، کیونکہ مجھے یقین نہیں آتا کہ میں نے جو عبادات ادا کی ہیں وہ واقعی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں جس طرح اللہ اپنے بندوں سے چاہتا ہے۔ میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ آج جو خوشی منا رہا ہوں یہ اس حد تک درست ہے کہ اللہ پاک مجھ پر مہربان ہے کہ ایک سال خیر خیریت کے ساتھ گزرا، رزق اور دوسری نعمتوں کی نوازشات ہوئیں اور عمر میں توسیع کر دی گئی۔ اس لیے ہمیں پٹاخے پھوڑنے۔دعوتیں کرنے اور رنگ ریلیاں منانے کی بجائے سجدہ ریز ہو کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور سابقہ گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے۔ جو کچھ ہم فضولیات پر خرچ رہے ہیں ان کو بنی نوع انسان کی فلاح پر خرچ کریں۔ اللہ ہم سب کے سابقہ گناہ معاف فرماے اور صراط المستقیم پر چلنے کی ہدایت دے، آمین! ]]>

Exit mobile version