ہوٹل والوں کو مزید پریشان کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔شہزادہ سراج الملک

ایک مقامی ہوٹل میں کماٹ کے صدر شہزادہ سراج الملک کی زیر صدارت تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ذمہ داروں کی مو جودگی میں منعقدہ ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنیئر نائب صدر چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ستراج احمد خان نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ چترال میں زلزلہ ، سیلاب اور آگ لگنے سے کروڑوں مالیت کے کاروباری ادارے تباہ ہوئے ، خصوصا تاجروں اور ہوٹل مالکان کو شدید نقصان پہنچا مگر حکومت ،ضلعی انتظامیہ اور این ڈی ایم اے کی طرف سے اُن کی اسسمنٹ کی گئی اور نہ کسی کی مدد کرکے سہارا دیا گیا بلکہ آسان اقساط پر قرضے فراہم کرنے میں مدد دینے کی بجائے انتظامیہ ہوٹل کا کاروبار کرنے والوں پر مختلف اضافی بوجھ ڈال رہا ہے اور اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار و ہراسان کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بمبوریت میں انتالیس ہوٹلوں میں سے صرف تیرہ سیلاب برد ہونے سے بچ گئے ہیں جبکہ وہ بھی خطرے سے دوچار ہیں ۔سال میں دو مہینے بھی کاروبار نہیں ہوتا جبکہ انتظامیہ سی سی ٹی وی لگانے ، بائیو میٹرک سسٹم اور گارڈ رکھنے پر مجبور کر رہا ہے جس کے نوے فیصد ہوٹل متحمل نہیں ہیں کیونکہ ان ہوٹلوں کی روزانہ آمدنی ایک ہزار سے بھی کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس علاقے میں بجلی کی سہولت میسر نہ ہووہاں سی سی سی ٹی وی اور بایومیٹرک سسٹم کو کیسے فعال رکھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زلزلہ سے متاثرہ تمام دکانات اور کاروباری اداروں کی اسسمنٹ کی جائے اور ورلڈ بینک یا دیگر مالیتی اداروں کے ذریعے آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے ۔ نیز ہوٹلوں کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدامات اُٹھانے سے پہلے چترال چیمبر آف کامرس کو اعتماد میں لیا جائے ۔ اس موقع پر شہزادہ سراج الملک نے کہا چترال کے اندر ٹورزم ختم ہو چکی ہے رہی سہی کسر سیلاب اور زلزلے نے پوری کر دی ہے ۔ اسکے باوجود ہوٹل کے کاروبار کو زندہ رکھنا قابل تعریف ہے مگر ایسے نامساعد حالات میں آفیسران کی طرف سے مزید پریشانی پیدا کر نا ناقابل فہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چترال ہوٹل ایسو سی ایشن ، چترال ایسو سی ایشن فار مونٹین ائریا ٹورزم ( کماٹ ) چترال چیمبر آف کامرس کے انڈر رہ کر کام کریں گے تاکہ مشترکہ طور پر جدو جہد بار آور ثابت ہوں ۔ شہزادہ سراج نے کہا کہ انتظامیہ کے آفیسران کُھلی غلطی کر رہے ہیں ۔ ہوٹل والوں کے خلاف ایف آئی آر چاک کرنا کسی طرح بھی دانشمندی نہیںْ اور ہم اس کی پُر زور مذمت کرتے ہیں ۔ اس موقع پر موجود تمام ہوٹل ایسو سی ایشن نے اس بات پر اتفاق کیا ۔ کہ انتظامیہ کی طرف سے مزید مسائل پیدا ہونے کی صورت میں احتجاج کیا جائے گا ۔ جبکہ شہزادہ سراج الملک نے کہا ۔ کہ وہ انتظامیہ کے نامناسب رویے کے خلاف سولہ دسمبر سے احتجاجا اپنا ہوٹل بند کریں گے ۔ اجلاس میں چترال شہر ، بمبوریت ،دروش اور اپر چترال کے ہوٹل سے وابستہ افراد نے شرکت کی ۔

6 Replies to “ہوٹل والوں کو مزید پریشان کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔شہزادہ سراج الملک”

  1. agar chitral ma 100 log hotel business karte ha too chitral ki 800000 awam jo zilzela sa mutasir ha wo log wahan ka khana katha hai too ap 100 hotel owners k lya hum 8 lac ki avam q mutasir ho..
    I strongly support what the new DCO has done in chitral and appreciate his efforts.. best of luck sir we are always with you and strongly support you against these mafias .

  2. Shahzada sahib, khud goron ko saf sutri khalata hai or local hotels walon se bolta hai. go ahead whatever you serve. wah g wah shahzada sahib

  3. Hamay to ye pata hay k sabiq DC Rehmat Wazir k zamanay my Chitral k Hotelo may kia hota rehta tha, Shareef log apni family ko lay kisi b Hotel may nai rehnay ki soch b nai sakta thay, DC Rehmat wazir personal involve tha in hotelon ko ganda per danday ma

  4. Shahzada Sirajul Mulk sb meherbani ker k Chitral may kisi b hotel may ek dafa ka Lunch, Dinner ker k phir bolay may inka sath deta hon tab bat hay, ye Mafia awam ko lootay hay, voh zamana gaya jab Khalo Khalil Mian fakhta uraya kerta thay, awam or hakumat kisi ki b dons dhamki say peechi nai hategi.

  5. Since Chitral is disaster hit therefore allow us to continue playing with the lives of the people, this is the conclusion of all these lame protests against the district admin. These hotel & business mafias are trying to cover up their illegal businesses & vested interests in flood & earthquake, which is disgraceful & shameful.
    We appreciate DC’s efforts to curb unhealthy eateries & encroachments & we support him in taking stern actions against anyone involved for selling substandard items irrespective of any pressure.

  6. If hotel owners are not following rules and providing foods to people which are sub-standard and against the nutritional standard they must be banned and fined. Whatever District Administration and food control authority are doing against the hotels which are not up to the standard then District food control authority should be appreciated and Hotel owners should maintain their standard rather than criticizing District Administration. People of Chitral support each and every step of DC Chitral Which he takes for public interest. So far all his steps are in public interest and we citizen support him and appreciate him with the core of our hearts.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *