Teachers occupy female students' hostel in Booni

pc4 پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مستوج، یارخون، لاسپور، بروغل، موڑکھواور تورکھو کے سینکڑوں طالبات نے اس سال گورنمنٹ گرلز کالج بونی کے سال اول اور سال سوم داخلہ لے کر اپنے غریب والدین کی جمع پونجی سے ہزاروں روپے داخلہ فیس جمع کیا تھا لیکن کالج انتظامیہ نے ان کو ہاسٹل کی سہولت فراہم نہ کرسکی جس کی وجہ سے وہ کالج کے کلاسوں میں حاضر نہ ہوسکے اور اپنے گھروں میں اپنی قیمتی وقت کی ضیاع کا اپنی آنکھوں سے نظارا کررہے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کالج کے ایک ہاسٹل کی عمارت میں لیکچررز رہائش پذیر ہیں جبکہ دوسرے ہاسٹل کی عمارت تو مکمل ہے لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر اس عمارت کا چارج سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ سے نہیں لیا جارہاہے اور حکومت کے خزانے سے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود علاقے کے طالبات کو اس کا فائدہ نہیں پہنچا۔ مستوج سب ڈویژن کے عمائدین نے کہاکہ علاقے میں غر بت عام ہونے کی وجہ سے والدین کی 95فیصد سے ذیادہ تعداد اپنے بچیوں کے لئے پرائیویٹ کالجوں کے فیس برداشت نہیں کرسکتے جس کے نتیجے میں انہیں میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد تعلیم کاسلسلہ منقطع کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت ایجوکیشن اور ہیلتھ کے سیکٹروں میں انقلابی اقدامات کا دعویٰ تو کررہی ہے لیکن بونی کے دوردراز علاقے میں بچیوں کوکالج کی تعلیم سے محروم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ علاقے کی پسماندگی اور دورافتادگی کے ساتھ ساتھ کالج کے محل وقوع کے مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے کالج کے لیکچررز کیلئے بیچلر ہاسٹل بھی فوری طور پر تعمیر کیا جائے جہاں رہائش پذیر ہوکر وہ دلجمعی کے ساتھ ہمارے بیٹیوں کو پڑہاسکیں۔ انہوں نے علاقے منتخب نمائندو ں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اس نازک مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے جسے بار بار ان کی نوٹس میں لایا جاتا رہا۔ ]]>

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *