Site icon Chitral Today

ضلع کونسل چترال کے کنوئینر مولانا عبد الشکور قانون کے مطابق اس عہدے کے اہل نہیں

DSC04798 ضلع کونسل چترال کے پہلے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے بعد ا یک مقامی ہوٹل میں اپنے اتحادی پارٹیوں کے ممبران اور قائدین کی معیت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے دو وجوہات کی بنا پر اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے ۔ اول لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت اپنی پارٹی سے بغاوت کرکے دوسری پارٹی کے امیدوار کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے کنوینئر کے عہدے کے اہل نہیں ہیں ۔ جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ اجلاس کو انتہائی عجلت میں بغیر کسی سرکلر جاری کرنے اور خط تقسیم کرنے کے منعقد کیا گیا ہے ۔ اس لئے دونوں طریقہ کار غیر قانونی اور ضابطے کے خلاف ہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ مولانا شکور کے خلاف جے یو آئی کی صوبائی قیادت کی طرف سے انکوائری آخری مرحلے میں ہے ۔ اور یہ عنقریب اپنے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی پاداش میں ڈی سیٹ ہو جائے گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مخصوص اقلیتی نشست پرکامیاب قرار دینے والے ممبر کے خلاف الیکشن کمیشن کا فیصلہ آچکا ہے جسمیں پی ٹی ائی کے اقلیتی امیدوار نبیگ ایڈوکیٹ کے حق میں فیصلہ ہوا ہے جس پر جے یوآئی کے اقلیتی ممبر کا اپیل خارج ہوچکا ہے وہ بھی اسمبلی میں موجود تھے جوکہ قانونی خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ منحرف ممبران میں سے مولانا انعام الحق اور اُن کے مد مقابل کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے حوالے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ موجود ہے ۔ اور یہ توقع ہے کہ دوبارہ گنتی کی صورت میں موصوف اپنا سیٹ کھو دے گا ۔ ایسی صورت میں موجودہ ضلع کونسل کی ہیت تبدیل بھی ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے بجٹ منظور کرنے کی کاروائی کو خلاف ضابطہ قرار دیا ۔ اور اس کی پُر زور مذمت کی ۔ پریس کانفرنس سے پاکستان تحریک انصاف کے عبد الطیف ،کنوینئررحمت غازی اور آل پاکستان مسلم لیگ کے ممبر ڈسٹرکٹ کونسل قیوم نے بھی خطاب کیا]]>

Exit mobile version