سوشل میڈیا کے چمپیٔنز کی خدمتِ اقدس میں۔۔۔

noor گزشتہ دو دنون کو زندگی کے کڑوے ترین دن گردانوں توغلط نہیں ہوگا۔ افات سماوی و ارضی آپ پر پڑیں تو تکلیف یقیناً ہوتا ہے لیکن ان مشکل حالات میں اپنوں سے رابطہ نہ ہونا زندگی کی تلخیوں میں مزید اضافہ کردیتا ہے۔ شکریہ فیس بک اور چترال ٹو ڈے کا جووقتاً فوقتاً حالات سے آگاہ کرتے رہے۔ زندگی تھوڑی سنبھلی تو فیس بک کے چند لونڈے مذہب وسایٔنس کے نام نہاد ٹھیکدار بن کر جلتی پر تیل ڈالتے رہے۔ آج کی یہ تحریر اس ڈپریشن، پریشانی، ذہنی کوفت اور ٹارچر کا نتیجہ ہے جو سوشل میڈیا کے بیوقوف لکھاریوں اور عقل سے عاری تجزیہ کاروں نے زلزلے کے تھوڑی دیر بعد پہنچانا شروع کردیا۔ پہلے آیٔے حقیقت کیطرف: یوں تو ہر چترالی ہمارا اپنا ہے لیکن جو روزانہ اپ کی انکھوں کے سامنے ہو جن کے ساتھ اپ نے زندگی کے تلخ وشرین لمحات گزارے ہو ان کے ساتھ آپنایٔت کچھ ذیادہ ہی ہو جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ اس زلزلے میں میرے اس نوعیت کے دو اپنے بھی کھو گیٔے۔ املاک کا نقصان اس کے علاوہ۔۔۔ گھر سے آپ دور۔۔۔ موبایٔل سروس معطل۔۔۔ انسان کی کیا حالت ہوگی ہر کویٔی اگر انسان ہے تو انداذہ لگا سکتا ہے۔ ان حالات میں سوشل میڈیا کے جرنلزم کی اے بی سی سے نابلد صحافیوں اور عقل و سایٔنس سے محروم مفتیوں کے ریمارکس۔۔۔ ایسے ایسے ریمارکس کہ رونگھٹے کھرے ہوگیۓ اور زبان پر دعا ہی رہی کہ۔۔۔۔۔ یا اللہ اِن کو عقل عطافرما۔۔۔ یا اللہ اِن کو ہدایت دے۔۔۔ پھربھی زلزلے سے بچ جانے والے معصوم و مجبور لوگوں پر اِن کے کمنٹ زہریلے نشتر بن کر لگتے رہے۔۔۔۔۔۔ کچھ ریمارکس آپ بھی ملاحظہ فرمایۓ۔۔۔۔ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ یہ عذاب ہے اپنے اعمال سیدھے کرو۔۔۔ دوسرے سرکار لکھتے ہیں۔۔ بے پردگی اور فخاشی کا نتیجہ یہی ہوگا۔۔۔۔ تیسرے صاحب راقم طراز ہے کہ جب تک آذان کی اواز پر گھروں سے دوڑ کر نہیں نکلو گے زلزلے آتے رہیں گے اور آپ وقت بے وقت آذان دیتے رہو گے۔۔۔۔۔ ایک اور محترم یوں گویا ہوۓ کہ۔۔۔۔ اسلامی ثقافت، لباس اور تہذیب کو بھول کر ہیپی برتھ ڈے منانا، جنس پتلوں پہنا اور لڑکوں کا کانوں میں بالیاں پہنا اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا ہے۔۔۔۔۔ ایک حضور نے تو آیٔندہ زلزلہ نہ آنے کا نسخہ بھی بتادیا لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ اپنے لڑکیوں کو ڈوپٹا اوڑھنا سکھاو، بازار آنے نہ دو، مرد اساتذہ سے ان کو نہ پڑھاؤ۔۔۔ آیٔندہ نہ زلزلہ آۓ گا نا سیلاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید زلزے یا سیلاب نے ہمیں ذہنی طور پر اتنا مفلوج نہیں کیا تھا جتنا اس احساح جرم نے کیا ۔ سوشل میڈیا کے ان الزامات نے تو وقت سے پہلے ہمیں ذلیل و رسوا کیا۔ میں سوچتا ہوں کہ اس زلزلے یا سیلاب میں جتنے لوگ مر گۓ ۔۔۔خاکم بدہں۔۔۔ کیا وہ سب مجرم تھے؟؟؟ کیا ان کا گناہ اس حد تک پہنچ چکے تھے کہ اللہ نے ان کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ کیا؟؟؟ یا پھر مرنے والے سب نیک تھے اور نیکوکاروں کا خاتمہ کیا گیا کہ یہ دنیا آپ کے رہنے کی جگہ نہیں۔۔۔ اپکو تو اللہ نے جنت میں رہنے کے لیے پیدا کیا تھا!!!!!!!!!!!!!! حالیہ زلزلے میں، میرے دو عزیز وفات ہوۓ ایک افضل مراد بھایٔ کی والدہ۔۔۔ ایک ایسی خاتوں جو بازار زندگی میں کبھی شایٔد گیٔ ہو۔۔۔ ایک ایسی ماں جسکا کام اپنے گھر کو سنبھالنا ہی رہی ہے۔۔۔ ایک ایسی عورت جس نے نہ جنس پینٹ پہنی ہے نہ نمازسے کاہلی بھرتی ہے۔۔ جو نہ فیس بک سے واقف تھی نہ ٹویٔٹ کیا کرتی تھی۔ بچون کی سلا متی کے لۓ دعا اور مال مویشیوں کی دیکھ بال یہی تھی ان کی زندگی۔۔۔ اب میں سوشل میڈیا سے فتوٰی جاری کرنے والے ان نام نہاد مفتیوں سے انصاف چاہتا ہو کہ اس ماں کا قصور کیا تھا؟؟؟؟ آپ کہ رہے ہو کہ زلزلے ہماری اعمال کا نتیجہ ہے۔۔ تو ننگے سر کالج جانے والے لڑکیوں کے “گناہوں” کی سزا اس موٹی چادر اوڑھنے والی ماں کو کیوں ملی؟؟؟ عید پر شاپنگ جیسی “بد اعمالیاں” تو نوجواں لڑکیاں کریں اور سزا اس ماں کو ملے جس کو عید پر جوڑے بیٹا خرید کر دے اور وہ رنگ، ڈیزایٔن، فیشن اور ڈھیل ڈھال کی پراہ کۓ بعیر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوے وہی کپڑے قبول کرے۔۔۔ کیا یہ انصاف ہے؟؟؟؟؟؟ اب آیۓ دوسرے بندے کیطرف ۔۔۔ یہ 25یا 26 سا لہ نوجوان تھا۔۔ غلام ربانی ملنگ تھا ملنگوں کی طرح دنیا چھوڑ کر چلا گیا۔ ارے سوشل میڈیا کے لونڈو! یہ تو نوجوان تھا۔۔۔عمر کے اس حصے میں تھا جہاں گناہ سرزد ہونا عام سی بات ہے۔۔۔ لیکن جاؤ۔۔۔ پورے گاؤں میں گھومو اور ایک فرد لاو جو کہے کہ اس ملنگ نوجوان سے فلان وقت فلان بندے کو تکلیف پہنچا ہے۔۔۔ ایک گواہ لاو میں آپکا مفروضہ کہ یہ “زلزلے بداعمالیوں کا ردعمل ہے” کو تسلیم کرتا ہوں۔۔۔ ہے کوییٔ ایسا جس کے ظاہر کے بارے میں کوییٔ اتنے وثوق سے کمنٹ کرسکتا ہے جتنا میں اپنے اس ملنگ بھاییٔ کے حوالے سے کررہا ہوں۔ یہ جملہ شاید میں اپنے بارے میں بھی نہ کہ سکوں کہ میں نیکوکارہوں ۔۔ یہ کہ میں حقوق العباد کے ساتھ حقوق اللہ کا خیال بھی رکھا کرتا ہو۔۔۔ لیکن اس ملنگ نوجوان کے حوالے سے پورا گاؤں یہ گواہی دیتی ہے۔۔۔ اس نے تو کوییٔ فخاشی نہیں پھیلاییٔ۔۔۔ یہ تو ٹیکنالوجی کی اے بی سی سے بھی واقف نہ تھا۔۔۔۔ اس نے کھبی بھی جینس پینٹ اور ٹی شرٹ نہیں پہنا۔۔۔اس کے کانوں میں بالیاں بھی نہیں تھیں۔۔۔۔۔ اس نے تو کسی لڑکی کو نہیں پڑھایا۔۔۔۔۔ یہ تو آذان کی ہر آواز پر دوڑھ کر مسجد جایا کرتا تھا۔۔۔۔۔ اس کے ظاہر سے تو سب واقف تھے۔۔۔ ارے اللہ کے گایو۔۔۔ جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہو تو اس بات سے بھی واقف ہونگے۔۔ کہ فخش مواد دیکھنے میں پاکستان کے نوجوانون کا کوییٔ ثانی نہیں۔۔۔ اب یہ کونسا انصاف ہے کہ پرون ویب سایٔٹ اپ دیکھو اور اس فخاشی کے نتیجے میں آنے والے زلزلے سے مرے تو وہ غلام ربّانی جس کےفرشتوں کو بھی پتہ نہں کہ اس طرح کے ویب سایٔٹس ہوتے بھی ہیں!!!! یہ کہاں کا انصاف ہے کہ گناہ میں کروں اور سزا معصوم کو ملے!!! خدارا ہوش کے ناخن لو۔۔۔۔ اپنے سوچ کو دوسروں پر لاگو کرنے کی کوشش نہ کریں۔۔۔۔لوگ ویسے ہی پریشان ہیں اب انھیں مجرم گردانکر ان کو احساس جرم میں مبتلا کرکے انہیں مزید کمزور تو نہ کریں۔۔۔ اور جو لوگ سمجھتے ہو کہ یہ بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے تو چپ چاپ اپنے اعمال سیدھے کریں نہ کہ دوسروں کو احساس جرم کا بیمار بنا ییٔں۔۔۔۔ اور اگرآپ ڈٹے ہیں کہ یہ بد اعمالیوں کا ہی نتیجہ ہیں اور دوسروں کو تبلیع کرتے ہو تو اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ کے اپنے اعمال ٹھیک ہیں کیونکہ دعوت وہی دیتا ہے جو خودسہی ہو۔۔۔۔ساتھ ساتھ آپ یہ بھی یقیں کرتے ہونگے کہ اللہ ہمیشہ انصاف ہی کرتا ہے۔۔۔۔ لہذا ہمارے بداعمالیوں پر اپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اللہ انصاف ہی کرے گا اور مزید زلزے آۓ بھی تو تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا اعمال جو صحیح ہے تمھارے۔۔۔۔۔۔ دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا ان کے پاس عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے ]]>

8 Replies to “سوشل میڈیا کے چمپیٔنز کی خدمتِ اقدس میں۔۔۔”

  1. Dear Muhammad Hakim, first thing first and let me accept that your comments are non-understandable for me as I am little weak with English and your sentences are more complex. Secondly, even if they were understandable I would not have answer them as I neither declare myself as champion of science nor religion. I am a student who is taking help from various sources to broaden my understanding and horizon of knowledge. That is it nothing else. You think in your own way and I am in my own style. Nothing to fight nothing to challenge, nothing to hate, nothing to declare philia or phobia. And lastly there is nothing debate going on and neither there I have gathered any supporters nothing man. You would have already given a walk up call. That is good. It will help us understand things in other way. And yes let me decide the debate before it starts. You win I failed. Just chill!

  2. I had challenged to Mr.Shams Sahab but he still unavailable to debate with me. I am giving here the two kind of reasons which can be caused to reveled of torment in a society. My arguments are not my but these arguments are provided from the holy Quran, Ahadith, and modern science. I ask you to decide that my opinions about last two torments are acceptable or not.
    My humble request to all of readers that what should we do that we be secure from such kind of happens, you all are requested to participate in this debate to clarify to Shams sahab and his supporters through this channel. So my dear readers from here I present before you the real information about earthquake scientific phenomenon, Quranic and Ahadith paak references to clarify all of our misguidance, may Allah fall the rays of hedayat into our heart.
    1. What does science say about earthquakes?
    Earthquakes are caused by the motion of tectonic plates – Individual sections that make up the Earth’s crust like panels on a football. Immense strain accumulates along fault lines where adjacent plates meet. When the rock separating the plates give way, sudden ground shaking movements occur. The Earth’s crust on which we live is made up of 12 individual plates. Below the sea, they can measure 3 to 6 miles thick, and under land this increases to 20–44 miles. Radiation from Earth’s core heats the surface below the crust to temperatures over 5000’c. This makes hot liquid rise displacing cooler liquid which makes the plates we live on move constantly. Of course, they creep along very slowly – roughly the same speed your finger nails grow. Even at this sub snail-pace, the effects can be devastating. The combined annual force of earthquakes is equal to 100,000 times the power of the atomic bomb.
    Oh enough of the science; I know what you are thinking at this moment, but I just wanted to draw your attention towards the scientific cause of an earthquake and what Islam has to say about its causes.
    2. What does Islam say about Earthquakes?
    Islam deems these scientific observations as external views which ultimately lead to the search of the internal causes of how forces and matter actually originated are controlled and the identity of the controller. The search for the internal cause leaves science and man with many answers/theories unproven and many questions unanswered. In the end you have theories, signs and faith. Islam provides the answer where by drawing our attention to His revelation and the Ahadith (Traditions) of the most perfect human created, our Prophet Muhammed .
    They killed the she-camel and defied their Lord’s command and they said, “O Salih! Bring to us that punishment which you promise us if you are from amongst the Messengers”. The earthquake seized them and they became faced down laid in their houses. (Surah 7:77-78)
    The earthquake seized them and they became prostrate on their knees in their homes. Those who rejected Shuayb (alayhis’ salam) seemed as though they never lived in those homes and those who rejected Shuayb (alayhis’ salam) they were the losers. (Surah 7:91-92)
    3.In ahadith it is stated:
    “Anas says, “I went into the presence of Aishah whilst someone else was seated with her. The person asked, ‘O Mother of the believers, relate to us regarding earthquakes (as to their cause)’ She turned her face away. I (Anas) asked her, ‘Relate to us regarding earthquakes, O Mother of the believers!’ She said, “O Anas, if I were to inform you thereof, you will live a sorrowful life and you will die in this state of grief and you will be raised on the Day of Judgement whilst this fear is in your heart.” I said, “O Mother, relate to me.” She then said, “When a woman removes her clothes in a house other than her husbands (an indication towards adultery), she tears the veil between her and Allah. When she applies perfume to please a male other than her husband, this will be a source of fire and a blemish for her. When the people then begin to commit adultery, consume alcohol and use musical instruments, Allah becomes enraged in the heavens and orders the Earth to shake them. If they repent and refrain, then it is good for them, otherwise Allah will cause it to fall upon them.” I asked, “Is this their punishment?” She said, “It is rather a mercy, means of blessings and admonishment for the believers, and a punishment, display of anger and torment for the unbelievers.”
    Isn’t this narration a wake up call for us Muslims? Aren’t the reasons crystal clear in the above narration? Can any Muslim deny that drinking, music and adultery are not common issues in communities today?
    How many times have we heard the unlawfulness of these things, but our ears are gradually turning deaf because our hearts are not prepared to accept Islamic advice.
    Our turning away from Allah simply results in Allah’s anger, and this is why Muslims suffer many calamities. You must remember that Allah warns his people and he gives enough time for his servants to repent, but if they still don’t take heed, then Allah only shows a slight spark of his anger which results into cities and countries left helpless when struck by disasters.

  3. @muhammad hakim: You mean that God is angry only with the poor people of KPK including Chitral for their misguided direction, the writer quoted someone saying put ‘dupata’ on your daughters’ heads and never send them to bazaar if you want a permanent stop to calamities like quake and floods. Do you agree with this kind of thinking, Mr. Hakim? If yes, I guess no woman goes to bazaar area in Chitral. But in cities it is common and in Europe it is a routine. So why the quake hits Chitral and why not any city in Europe such as England?

  4. Noor Shamsu Ddin Shams sahab, i challenge you that why you do not accept that we are rebels, because you have science Philia and Islam phobia…so study Quran and then give arguments.have you heard about the prediction of these two torments which were provided already before these situations.I will tell you in detail what were the causative agents which were sourced to initiate this big gravitational motion over Chitral? I am ready to debate with you on scientific bases and Quranic bases what were the causes of these?Everything indigents to be exist to another thing?Short answer is this can your that poor realities build such kind of home which can be saved from natural huge devastating phenomena……8.1 R…Scale if only few people have passed away it is a lesson and chance to remember the greatness and great power of Allah Because he can destroy everything at this magnitude of earthquake but he granted us again a chance to veer us from our misguided direction otherwise the later will be more severe.

  5. میں سائینس کی ترقی تعلیم سے انکار نھیں کرتا علم علم ہوتاہےبات یہ ہے اگر اسلامی اور خلاقی حدودمیں ہو اسکا مزا ہی دو بارلاہو جاینگا،بات یہ ہے بطور مسلمان اپنے اپنے اسلامی عقیدے کو مضبوط رکھنا چاہئے اس میں کوئی قباحت نھیں ،دوستو میں نے کئی اسیے لوگوں جو پڑھے لکھے بھی تھےکھتے ہوئے سناہےانسان(ساےئینسدان) نے فلان چیز بنایاہے،میں یہ سمجھتاہون اور میرا پختہ یقیں ہے بلکہ ایمان ہےیہ سائنسدان صوفی ہیں انسان کی اوقات نھیں کہ وہ کچھ ایجاد کر سکیں انسان صرف دریافت کرسکتاہے ایٹیم کےاندر توانائی کتنی ہے یہ تو میں سمجھتا ہون یہ تو صوفیا کا کام ہے وہ تو اللہ پاک نے بنائےہیں انسان نے صرف نکال لیا،کشش ثقل نیوٹن نے بنائی نھیں بلکہ دریافت کی قران پاک میں سات سو سے زیادہ ایات تفکر،تدبر،تحصیل کاینات،اور تصویر کاینات وٖغیرہ یہ سب کچھ قران کا حکم ہے اس سے ہم انکار ںھیں کر سکتے،لمبی داستان لکھ کر کسی کےوقت کاضائع نھیں چاہنونگابلکہ اس مباحث ومباحثے سے میری کم علمی میں اضافہ ہوجانیگا اور مجھ میں جو غلط فھمی ہے وہ دور ہوجاییگیاور کچھ نھیں

  6. ہر رائے کے احترام کے ساتھ۔
    میرے خیال سے ہر چیز کو سپرد خدا کرکے ہم خود کو ذمہ داریوں سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ ڈیم میں اتنا سارا پانی کا بوجھ کنٹرول کیا جاتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی سڑکیں، عمارتیں اور دیگر چیزیں بنائی جاسکتی ہیں جو زلزلہ سے متاثر نہ ہوں، جاپان میں آتش فشانوں کی وجہ سے سب سے زیادہ اور خطرناک زلزلے آتے ہیں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اب ہماری سڑکوں کی طرف دیکھیں پارش کا پانی انہیں بہا لے جاتاہے، گھر ہمارے عام بارش میں گرتے ہیں، آندھی سے چھتیں اڑ جاتی ہیں۔۔۔ امریکہ میں بگولوں سے بچنے کی حکمت عملی بناتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں اور پھر مسائل کا حل نکالتے ہیں۔ ہم ایسا کچھ نہیں کرتے۔ آج بھی مرگی کا علاج ہم جوتا سونگھاتے ہوئے کرتے ہیں۔ آج بھی دانت کے درد کو دم سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی دیانتدارانہ کوششوں کے بعد اللہ سے مدد مانگی جائے تو شائد کوئی نتیجہ نکل آئے۔ اب فرشتے آکر ہمارے گھروں کی بنیادوں میں سریا تو نہیں ڈالیں گے۔ہم نہیں کہتے یہ سب کرکے ہم موت سے بچ جائینگے بلکہ یہ عرض ہے کہ موت آنے تک خوف سے بچیں گے۔

  7. میرے دوست شمس صاحب نے لوگون کو کنفیوز کرنے کی ناکام کو شیشین کی ہے ،مین اعتدال پسند گناہگار انسان ہوں میں نے کبھی یہ نھیں کھا کہ کاللج جانے والی بھنون کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہرگز نھین میرا خاندان سے سکول کالج جاتی ہیں ،اور دوسری بات یہ ہے دوسرون کو جاہل کھنا کھاں انصاف ہے،اگر ہمکو اپ جاھل کھین ہم جاھل ہی سھی ہمارا ایمان اور عقیدہ یہ ہے جو قران اور حدیث میں ہے حضرت عائیشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا گیا کہ زلزلے کیوں اتے ہیں تو حضرت رضی اللہ تعالی عنھا نے فرمایا جب موسیقی کی محفلیں سجائی جاتی ہیں جب گانا بجانا عام ہوتاہے اور شراب کھلے عام پی جاتی ہےاور زنا بے غیرتی کیساتھ کیا جاتاہےتو اللہ تعالی زمیں کو ہلا دیاتہےاور اسے کھسکا دیتا ہے۔ اور دوسری حدیث یہ ہے ،جب حکمران قومی خزانہ لوٹ لینگےجب لوگ امانت کھا جائنگے جب مالدار لوگ زکوات نھیں دینگےجب علما بھی دین کے زریعے سے دنیا کمانےلگ جائنگے اور لوگ بیویو ن کے فرمانبردار ہونگے اور ماون کے نافرمان ہونگے دوست کو قریب کرینگے اور باپ کو دکھا دینگےاور شراب پی جائےگی اورریشم پھنا چائنگا اور مسجدون میں نفرت کی فضا قائیم ہو جاےگی اور فرقہ واریت کی اگ بھڑک اٹھے گی اور ناچنے والیان گانے والیان عام ہوجا ئنگی (مغزز ہوجائنگی)جب یہ سارے کام ہونگے تو میرا اللہ اپنے غذاب کے دروازے کھول دے گا جب تک توبہ نھیں کرینگے اللہ کے دروازے نھیں کھلین گے۔

    1. عزیزم میں نے کب کہا کہ اپ نے یہ فتوٰی دیا ہے۔۔۔ میں تو چیمپینز کی بات کر رہا ہوں۔۔۔۔اور وہی لکھا جو میں نے دیکھا ہے۔۔۔ کیوں خواہ مخواہ اپنے سر لے رہو ہو میرے بھاییٔ۔۔۔ ہاں اگر مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جاۓ تواپ کی اطلاع کے لیۓ عرض کرتا چلوں کہ اسمانی افات غذاب کے طور پر یقیناّ استعمال ہوتے رہے ہیں لیکں ایک خاص وقت کے اندر اور پھر یہ سلسلہ تا قیامت بند کیا گیا ہے۔ وجہ انسانون کے لیۓ رحمت بناکر بیجھے گیۓ عظیم ہستی کی دعا تھی۔۔۔۔ لھذا آج ارضی سماوی افات عذاب نہیں ہوسکتے البتہ قدرت کے انتظام و انحرام میں بےجادخل انداذی ایک بنیادی وجہ ہوسکتی ہے۔۔۔شکریہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *