مجھے مسلم لیگ کے جھنڈے میں لپیٹ کر دفنایا جاۓ – علی دوست خان

dost1سوال: مختصرا پنے بارے میں بتانا پسند فرمایٔں گے کہ سیاست کے ساتھ آپ کی وابستگی کب شروع ہویٔی؟ جواب: میری پیدایٔش قیام پاکستان سے تین سال پہلے ہویٔی ۔ یہ ان دنون کی بات ہے جب قایٔد اعظم کی سربراہی میں گوروں سے اذادی حاصل کرنے کے لۓ برصعیر کے مسلمانون کی جیدوجہد اپنے منطقی انجام کو پینچنے والی تھی۔ پیدایٔش کے بعد ہی بڑے بزرگوں کی زبانی تحریک پاکستان کے حالت سے واقف ہوتا گیا کیونکہ ان دنون روکھی سوکھی پر گزارا کرنے والے لوگ بھی اپنی روزی روٹی سے زیادہ مسلم لیگ اور قایٔد اعظم کے عظیم مقصد کے بارے میں متفکر تھے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مسلم لیگ کے ساتھ میری وابستگی ان دنوں شروع ہویٔی جب میری عمر کے بچے ننگے پاؤں دنیا ومافیہا سے بے خبر اپنے دن رات کاٹتے تھے۔ گھر کے اندر سیاسی گفتگو رفتہ رفتہ میری سوچ اور طرز زندگی پر اثرانداز ہوتا گیا اور یوں میں “بچے عیر سیاسی ہوتے ہیں” جیسے مفروضوں کو رد کرتے ہوۓ لڑکپن میں ہی سیاسی بن گیا۔ سوال۔ سیاست کے میداں میں عملی قدم کب رکھا اور کیا فرق تھا اس زمانے اورآج کے سیاست میں؟ جواب۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ سیاست کے ساتھ میری ذہنی وابستگی بچپن سے ہی تھی تاہم عملی سیاست کا اعاز میں سنہ ۱۹۶۵ کی صدارتی انتخابات کے دوراں کنویٔنشن مسلم لیگ کے کارکن کے طورپر کیا۔ ان صدارتی انتخابات کے دوراں ڈھاکہ اور کراچی گتھ جوڑ کے مرکزبن چکے تھے اور میں ان دنون کراچی میں رہایٔش پذیر تھا لھذا کام ذیادہ اور وقت کم ہونے کی وجہ سے ہمیں دن رات محنت کرنا پڑا۔ میں یہاں یہ ذکر بھی کرتا چلوں کہ وہ انتخابات بنیادی جمبہورتوں کے اصول کے تحت کرواۓ جارہے تھے اسوجہ سے اپنے علاقے کے ہر ممبر تک پہنچنا اور وہ بھی کمبایٔنڈ اپوزیشن کے خلاف۔۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ لیکں جہان نیت صاف ہو وہاں منزل آسان ہو ہی جاتی ہے۔ اللہ تعٰالٰی نے ہمیں سروخرو کیا اور محمد ایوب خان ۶۴فیصد ووٹ لیکر انتخابات جیت گیٔے۔ سوال: یعنی گتھ جوڑ کا یہ گر آپ نے کراچی سے سیکھا ہے۔ جواب۔ (مسکراتے ہوۓ) گتھ جوڑ سیاست کا ایک عنصر ہے جسے آپ انکار نہیں کرستکے۔ سوال۔ سنہ ۱۹۶۵ کے صدارتی انتخابات میں آپ کے مخالف امیدوار قایٔد اعظم کے ہمشیرہ تھے۔ جناح صاحب کو سیاسی گرو مان کر اس کی بہن کے خلاف انتخانی مہم کا حصہ بننا کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ جواب۔ اس سوال کے جواب کے لیٔے اس پس منظر کو سمجھنا ہوگا جن حالات میں یہ انتخابات ہوۓ تھے۔ یاد رہے کہ جنّاح کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرتے ہوۓ مملکت پاکستان کو صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن ایوب خان نے کیا تھا۔ اس وقت یہ سونی دھرتی حقیقی معنوں میں سونا اگل رہی تھی اور کساں خوشحال ہوچکا تھا۔ زرعی اصلاحات، صنعتی ترقی، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات، سیاسی استحکام یہ وہ عوامل تھے جو دوسروں کی انکھوں میں کھٹکتے تھے۔ اور ہاں یہ بھی یاد رہے کہ فاطمہ جناح کو ۵ سیاسی جماعتیں باہمی اختلافات کی وجہ سے مجبوراً اپنا امیدوار بنا چکے تھے کیونکہ بہت ذیادہ کوشیشوں کے باوجود وہ اپنے میں سے کسی امیدوار پر متفق نہیں ہوسکے اور اخیری بات یہ کہ میرے سیاسی گرو محمد علی جناح کا تصور جمبہوریت ہی ایسا تھا جہان اپ کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کے ساتھ وابستگی اپنے ذاتی سوچ کی بنا پر رکھ سکھتے ہو۔ لہذٰا ایوب خان کی سپورٹ ایک سیاسی فیصلہ تھا جس کو قایٔد اعظم یا اس کی ہمشیرہ سے بعض و عناد کے طور پر نہ لینا چا ہیے مادرِ ملّت اس وقت بھی ہمارے لۓ قابل اخترام تھے اور آج بھی ہیں۔ وہ صرف ایک سیاسی سوچ تھی اور میں نے وہی کیا جو میں صحح سمجھ رہا تھا۔ سوال۔ ایوب خان کے خلاف بھٹو کی تحریک اور پیپلز پارٹی کے عروج کے دنوں میں آپ کی سیاسی وابستگی کس کے ساتھ رہی؟ جواب۔ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ مسلم لیگ کے ساتھ میری وابستگی کویٔی شعوری فیصلہ نہیں تھا بلکہ تحریک پاکستان کے لیٔے لازوال خدمت نے مجھ میں اس سیاسی پارٹی کے ساتھ وابستگی کے راہ ہموار کیٔے تھے لھذٰا اچھے اور برے تمام حالات میں مسلم لیگ ہی میرا اوڑھنا بچھونا رہ چکی ہے۔ ایوب خان کے خلاف تحریک کے دوران ہمیں کیٔی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور خصوصا ۱۹۷۰ کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے جیالوں نے ہم پر زمیں تنگ کردی ۔ مجھے اب تک وہ دن یاد ہے جب انتخابات کے نتایٔج ہمارے خلاف آۓ۔ میں دل میں ہار کا بوجھ اور کندھے پر قایٔم خان کا بیج لگاۓ اپنے کمرے کیطرف آرہا تھا جب جیالوں نے مجھے پر اوازیں کسیں۔ میں بھلا کیوں خاموش رہتا میں نے ایک دو نعرے لگاۓ نتیجتاً مجھے ذدوکوب کیا گیا اور میرے دانت توڑدیے گیٔے۔ سوال۔ بھٹو صاحب کی حکومت کے دوران اپ کے سیاسی مصروفیات کیا تھے کیونکہ یہ وہ دور تھا جہاں ہر طرف پیپلز پارٹی کا طوطی بولتا تھا۔ جواب۔ واقعی بھٹو صاحب کا دور جہاں پیپلز پارٹی کے جھندے گاڑھتا گیا وہیں دوسرے سیاسی جماعتوں کے جنازے نکلتے گۓ آپ سہی معنوں میں ایک زیرک اور موقع شناس سیاسی لیڈر تھے۔ پیپلز پارٹی کی یہی مقبولیت تھی جس نے مجھ جیسے سیاسی کارکنوں کو دور ستر میں دھکیل دیا۔ لیکں افسوس بھٹو صاحب کی سیاسی جانشین ان سے سیاسی تربیت نہیں لے سکے اور آج پارٹی کی پوزیشن آپ کے سامنے ہے۔ بحرحال میں ان حالات سے دلبرداشتہ ہوکر لیبیا چلا گیا لیکں وہاں پر پاکستانی سیاست کے اونچ نیچ سے بے خبر نہیں رہا۔ سوال۔ آپ لیبیا سے واپس کب آۓ؟ جواب. بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد ضیایٔی مارشل لا کے دوران میں نے لیبیا سے واپس آنے کا فیصلہ کرلیا لیکن اس بار کراچی کے بجاۓ میں نے اپنے چترال میں رہنے کا تہیہ کیا۔ یوں کراچی سے کاروبار سمیٹ کر میں اپنے آبایٔی مسکن کی طرف روانہ ہوگیا۔ سوال۔ یہاں آنے کے بعد چترال کے حالات کو کیسے پا یا ؟ جواب۔ جن مشکل حالات کی وجہ سے میں کراچی چھوڑ کر لیبیا اور پھر چترال آگیا یہاں آکر پتہ چلا کہ حالات مذید خراب ہیں ۔ چترال ان دنوں پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا ۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور مشکل حالات میں بھی اپنے سیاسی نظریات کی کھلم کھلا تبلیع کرتا رہا۔ حالات اسوقت پلٹہ کھاۓ جب چترالی سیاست کے مایہ ناز کھلاڑی شھزادہ محی الدّین نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کردی۔ تب سے پرویز مشرف کے دوراقتدار تک چترال میں مسلم لیگ کو مستحکم کرنے کا سہرہ آپکے سر جاتا ہے۔ آپ نے مسلم لیگ میں نیٔی روح پھونک دی اور نہ صرف پیپلز پارٹی کو ہرادیا بلکہ مذہبی سیاسی جماعتوں کو بھی شکست دیدی۔ سوال۔ مشرف حکومت میں آنے کے بعد مسلم لیگ میں ایک اور گروپ بیدا ہوا یا یوں کہیے کہ مشرف نے اپنے پیشروں کی طرح ایک بار پھر اس سیاسی جماعت کا سہارا لیا ۔ مسلم لیگ کی اس تقسیم درتقسیم پر آپ کیا تبصرہ کریں گے۔ جواب۔ آپ مسلم لیگ کی تاریخ پر غور کریں تو یہ تبدیلیوں اور مشکلات سے بھری پڑی ہے۔ اس جماعت کی سب سے بڑی خوبی ہی یہی ہے کہ اس نے وقت اور حالات کی نزاکت کا پہشگی اندازہ لگا کر ہمیشہ سے پا کستان کی بقا اور سلامتی کی تگ دو کرتی رہی ہے۔ مشرف صاحب جب حکومت میں آۓ تو حالات انتہایٔی ناگفتہ بہ تھے آپ نے پاکستان کو بچانا چاہا اور جہاں پاکستان کی سلامتی کا سوال ہو وہاں مسلم لیگ کیسے پیچھے ہٹ سکتی ہے ۔ چونکہ مشرف کا مسلم لیگ قایٔداعظم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنےکا بیڑہ اٹھا چکی تھی جو کہ مسلم لیگ کے بننےکا سبب تھا لہذٰا میں نے آل پاکستان مسلم لیگ میں اپنے سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ سوال۔ آپ فلحا ل کس مسلم لیگ کے ساتھ ہیں نوں یا آل پاکستان مسلم لیگ؟ جواب۔ آل پاکستاں مسلم لیگ میری نظر میں واحد جماعت ہے جو پاکستان کا خیرخواہ ہے۔ پرویز مشرف کی قیادت پر مجھے پھرپور اعتماد ہے کہ ایک نہ ایک دن ہم دوبارہ حکومت میں آکر وہ پا کستان دوبارہ آپ کو دیکھایٔں گے جو اندرونی اور بیرونی دشمنون کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر ہو سوال کا جواب لیا کرتا تھا۔ آپ کو دوبارہ سے وہ چترال ملے گا جہاں ترقیاتی کاموں کے جال بچھے ہوۓتھے۔ سوال۔ صرف ایک ایم این اے اور جس کے بارے میں بھی نون لیگ میں شمولیت کے بارے میں بھی چہ مگویاں ہورہی ہے آپ کسطرح کہ رہے ہیں کہ چترال میں ترقیاتی کام مشرف کی سربراہی میں کرینگے۔ جواب۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اس خبر بلکہ افواہ کو رد کررہا ہوں کہ افتخار نون لیگ میں شمولیت اختیار کررہا ہے۔ یہ بات من گھڑت اور سراسر مخالفیں کے ذہیں کی پیداوار ہے۔ نواز شریف ملک کے وزیراعظم ہے اور افتخارصاحب بطور ایم این اے آپ سے ملاقات کا حق رکھتے ہیں لھذٰا ان ملاقاتون کو اس تناظرمیں نہ دیکھا جاۓ۔ دوسری بات یہ کہ مشرف ایک فرد کا نام نہیں ہے یہ چترال کی ترقی، پا کستان کی استحکام ، امن وآماں کی بحالی اور معاشی ترقی کا نام ہے۔ ہماری یادداشت اتنی بھی کمزور نہیں ہونی چاہیے کہ ہم ان حالات کو بھول جایٔیں جب مشرف نے اس قوم کو نام دیا تھا۔ آج کے حالات تو پھر بھی نارمل ہیں ۔ یادرہے اگلا دور مشرف کا ہی ہوگا۔ سوال۔ مشرف کے ساتھ اسقدر جذباتی اٹیچمینٹ کی وجہ یقیناً لواری ٹنل کا منصبہ ہی ہوگا اگر ایسا ہے تو پھر اس ٹنل کے بانی بھٹو کو سپورٹ کیوں نہیں کیا؟ جواب۔ نہیں یہ بلکل غلط ہے۔ مشرف مجھے لواری ٹنل منصوبے کی وجہ سے عزیز نہیں ہیں۔ میں اتفاق کرتا ہوں اس ٹنل کو شروع کرنے کا سہرہ بھٹو کو جاتا ہے اور جس کے لیٔے چترالی عوام کسی بھی سیاسی یا عیر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر بھٹو کے مشکور ہیں۔ نہ صرف بھٹو بلکہ اس ٹنل منصوبے کو اس حد تک پہنچانے میں جس کسی کا جتنا بھی رول ہے تمام چترالی عوام اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ رہی بات مشرف کی تو مجھے آپ سے انس شندور میں ایک خصوصی میٹنگ کے بعداہلیان چترال کے حوالے سے آپ کے تاثرات سن کر ہوا۔ یہی نہیں یہ وہ مشرف ہے جس نے چترالی تشخّص کو پاکستان سے باہر مختلف پلیٹ فارم میں اجاگر کیا۔ ترقیاتی کام تو ہر کویٔی کرتا ہے لیکن جس نے مجھے شناخت دی میں اس کا احسان مند کیوں نہ رہوں۔ سوال۔ آل پاکستان مسلم لیگ چترال کے صدر صاحب کو بدعنوانی کے کیس میں ملوث پایا گیا ہے آپ کیا کہیں گے؟ سوال۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ سیاسی انتقام لینے کی روایت سے بھری پڑی ہے اور یہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور دوسری بات یہ کہ کچھ معاملات نجی حثیت کے ہوتے ہیں جنھیں پارٹی معاملات اور سیاست سے الگ کرکے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سوال۔ چترال خصوصاً ریشن میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد عوام کو مختلف مسایٔل کا سامنا ہے جس میں سے ایک بجلی کا مسٔلہ بھی ہے۔ کیا آپ نے اس حوالے سے ایم این اے صاحب سے بات کی ہے اور ریشن بجلی گھر کو کب تک بحال کیا جاۓگا؟ جواب۔ جی بلکل میں افتخار سے مسلسل رابطے میں ہوں ۔ فلحال پورے چترال میں چھوٹے درجے اور کم لاگت کے نو بجلی گھروں کی منظوری ملی ہے ان کے بعد ریشن پاور ہاوس پر بھی کام شروع کیا جاۓ گا۔ چونکہ یہاں نقصان بہت ذیادہ ہے اس لیٔے اس منصوبے کے تکنیکی پیچیدگیوں پر غور کیا جارہا ہے عنقریب اس پر بھی کام شروع ہوگا انشا اللہ ۔ سوال۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آپ کا فرمایٔں گے؟ جواب۔ یہ ایک سیاسی عمل تھا جو کہ بخیروخوبی گزرگیا۔ اس سے ذیادہ کیا کہا جاسکتا ہے۔ سوال۔ اس حلقے سے پہلی بار پی ٹی آ جیت گیٔ آپ کا رول دوران الیکشن کیا رہا؟ جواب۔ جہان تک آپ کے سوال کے پہلے حصے کا تعلق ہے تومیں یہ کہونگا کہ سیاست میں عوام کا فیصلہ ہی آخیری فیصلہ ہوتا ہے جسے چاروناچار تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اور آپ کے سوال کے دوسرے حصے پر میں کویٔی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا۔ سوال۔ بلدیاتی انتخابات جہاں عوام کو بااختیار بناتے ہیں وہاں اپنوں میں اختلافات کا باعث بھی بنتے ہیں آپ اتفاق کرینگے؟ جواب۔ میں ایسا ہر گز نہیں سمجھتا۔ ہمیں انتخابات کو ایک سیاسی عمل کے طور پر لینا چاہیے اور ہار جیت کو بھلا کر علاقے کی ترقی کے لیۓ ملکر کام کرنا چاہیے۔ سوال۔ کیا آپ پی ٹی آ کے موجودہ صوبایٔی حکومت سے مطمیٔن ہے۔ جواب۔ دیکھے کچھ ایریاز ہیں جہان تحریک انصاف عملاً اچھی پرفارمنس دے رہی ہے جن کو نہ سراہنا بددیانتی ہوگی جیساکہ تعلیم، صحت اور پولیس کا نظام ۔ دوسرے ایریاز پر کام کرنے کی بہت ذیادہ ضرورت ہے۔ سوال۔ کویٔی پیعام دینگے۔ جواب۔ میں نے مسلم لیگ کےلۓ بے لوث کام کیا اور کرتا رہونگا۔ تمام سیاسی ورکرز سے ایک ہی گذارش ہوگی کہ جہاں پاکستان اور چترال کی سلامتی اور ترقی کی بات ہووہاں ہمیں باہمی اختلافات اور سیاسی وابستگی کو پس پشت ڈال کر ملکر کام کرنا ہوگا۔ اور اخیری یہ کہ میرے اہل عیال سے گذارش ہے کہ اگر میں فوت ہوگیا تو مجھے مسلم لیگ کے جھنڈے میں لپیٹ کر دفنایا جاۓ۔ شکریہ ]]>

2 Replies to “مجھے مسلم لیگ کے جھنڈے میں لپیٹ کر دفنایا جاۓ – علی دوست خان”

  1. The poor soul seems to be paralysed by politics as are most Chitralis. We should give less importance to politics as it brings more and more misery to us. Instead we should become hardworking and honest and politics (whichever party) will reform and take care of itself. No need to drape your coffin in any flag except the flag of your good deeds (aamaal), that will help you.

  2. Finally baba said it all. He could not hold it back any longer. And said that it is All Pakistan Muslim League (APML) which is true Muslim League. But giving credit to Bhutto for the Lowari tunnel is not fair as successive governments of his party failed to fulfill the long standing demand of Chitralis. The credit for opening the Lowri tunnel goes to Pervez Musharraf only. He also seems naive about the activities of the MNA. He is the man who failed to even stage a small rally in Chitral when Musharraf was being attacked the by noora goons. The MNA instead kept dancing to the tune of Nawaz Sharif, which is betraying the votes of Chitralis. The people who claim to Muslim Leagueres must do accountability of the MNA is not going to join PML-N rather he has almost joined N-League.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *