Chitral floods: monetary relief for families of deceased announced

sardar بدھ کے روز چترال پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال میں ایک ہزار سے بھی ذیادہ خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جن کی محفوظ مقامات پر آبادکاری کے لئے صوبائی حکومت نے کا غ لشٹ سمیت مختلف مقامات پرسرکاری زمین الاٹ کردی ہے جہاں پر سرکاری خرچ پر ان کے لئے گھر تعمیر کئے جائیں گے۔ ایم پی اے سب ڈویژن مستوج نے سیلاب زدگان کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے سلسلے میں اپنی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ چترال میں سیلاب سے جان بحق ہونے والوں کی لواحقین کے لئے تین لاکھ روپے فی کس ان کی کوششوں سے منظور ہوگئے ہیں جن کی تقسیم کا کام جاری ہے۔ انہوں نے ریسکیو کے کام میں پاک فوج کی کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ آرمی کی مدد سے انتہائی مشکل اور نازک وقت میں لوگ محفوظ مقاما ت پر منتقل ہوگئے تھے جبکہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے ایکسین اور چیف انجینئر کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے بہت ہی کم وقت میں ضلعے کی سیلاب برد سڑکوں کو ہنگامی بنیادو ں پر موٹر گاڑیوں کی ٹریفک کے قابل بنایاجبکہ دس دن کے اندر اندر موڑکھو سائڈ پر بھی موژگول پل کی تعمیر کے بعد ٹریفک بحال ہوگی۔ سید سردار حسین نے کہاکہ سرحد رورل سپورٹ پروگرام بھی شیلٹر کی تعمیر میں کام کررہا ہے جو کہ متاثرین کو زمین کی الاٹمنٹ کے بعد کام میں تیز ی لائیں گے۔ انہوں نے اس بحران کے دوران محکمہ خوراک کے گوداموں میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے پر محکمے کی تعریف کی اور کہاکہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے سولہ ہزار سیلاب زدہ گھرانوں کو تین ماہ تک مکمل فوڈ پیکج دینے کا پروگرام تشکیل دیا ہے ۔ سید سردار حسین شاہ نے کہاکہ اپر چترال کے اکثر علاقوں میں کاشت کار سبزی ، پھل اور آلو سمیت دالیں فروخت کرکے گزارہ اوقات کرتے تھے جنہیں اس سال سیلاب نے تباہ وبرباد کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں سرکاری گودام میں نصف قیمت پر گندم مہیا کیا جائے ورنہ قحط پڑنے کا امکان ہے۔ انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد عباسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے صوبے کے اندر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء وطالبات کی فیس معافی کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی زیر تعلیم چترالی طالب علموں کو اس قسم کی رعایت دینے کا اہتمام کرائیں۔ ایم پی اے سردار حسین نے ریشن بجلی گھر کو جلد از جلد چالو کرنے کے لئے بھی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اگر موسم سرما کے آمد پر بجلی بحال نہیں ہوئی تو عوام کو سخت مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا کیونکہ علاقے میں ایندھن کا اور کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ سب ڈویژن مستوج میں سیلاب کی تباہ کاری کی وجہ سے پولیو مہم کے متاثر ہونے اور بجلی کے نہ ہونے کی وجہ سے پولیو ڈراپ کو محفوظ رکھنا مشکل ہوگیا ہے جس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر پروگرام ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس مہلک بیماری سے اس علاقے کی نئی نسل محفوظ رہ سکے۔ انہوں نے محکمہ زراعت سے بھی مطالبہ کیاکہ زراعت کی بحالی اور سیلاب زدہ زمینوں کو دوبارہ قابل کاشت بنانے کے لئے رعایتی نرخوں پر سرکاری مشینری فراہم کیا جائے۔ سید سردار حسین شاہ نے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چترال کو سیلاب زدہ علاقہ قرار دیاجائے تاکہ بیرونی ممالک چترال کی تعمیر نو میں بھر پور کردار ادا کرسکیں۔ ]]>