Large-scale operation needed to evacuate stranded people

چترال کے محتلف وادیوں کے راستے بند فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے محصور لوگوں کو ریسکیو کیا جاتا ہے۔
چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے بیشتر وادیوں کے راستے تا حال بند ہیں جہاں تک رسائی ناممکن ہے اور ان وادیوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو یا تو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نکالا جاتا ہے یا یہ لوگ حطرہ مول لیکر پہاڑوں پر پیدل سفر کر تے ہوئے چترال پہنچ جاتے ہیں۔
flood سب ڈویژن مستوج کے پہلے گاؤں گرین لشٹ میں سیلاب کی وجہ سے پچیس مکانات تباہ جبکہ ایک خاتون جاں بحق ہوئی۔ ریشن نالہ میں سیلاب کی وجہ سے بچی سمیت دو افراد جاں بحق ہوئے۔ ریچ کے مقام پر سیلاب کی و جہ سے پن چکی میں کام کرنے والے دو افراد مزید جاں بحق ہوئے جبکہ کئی پن چکیاں بھی سیلاب کی نذر ہوئی وہاں کے لوگ گندم پھیسنے کیلئے صرف ان پن چکیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
سولہ جولائی کو آنے والے سیلاب نے چترال کے گرم چشمہ، کوراغ، کریم آباد، سو سوم، برشگرام، گرین لشٹ، ریشن ، رمبور، بمبوریت وغیرہ کے تمام راستے مکمل طور پر بند کئے ہیں جن کا زمینی رابطہ منقطع ہے اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو ان راستوں کو بحال کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ ا ن سڑکوں اور پُلوں کو دوبارہ تعمیرکرکے ٹریفک بحال کرنے کا کام فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن کو حوالہ کیا گیا ہے جنہوں نے بہت تیزی سے کام شروع کیا ہے۔
اب بھی بالائی علاقوں سے کئی لوگ قافلے کی شکل میں بارہ سے چودہ گھنٹے سفر کرکے چترال پہنچ جاتے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک فوجی ہیلی کاپٹروں میں دو سے سے زائد لوگو ں کو ریسکیو کرایا گیا۔ جبکہ محتلف وادیوں میں حیمے پہنچائے گئے۔ تاہم گرین لشٹ کے متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ تاحال کسی بھی ادارے نے کوئی امداد نہیں کی ہے ان متاثرہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کاگھر بار سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو ا ہے اور انہوں نے ایک سرکاری سکول میں پناہ لی ہوئی ہے مگر حکومتی اداروں کی طرف سے کوئی امداد نہ ہونے کے باعث علاقے کے لوگ رضاکارانہ طور پر ان کو مفت خوراک فراہم کرتے ہیں۔

]]>

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *