مہنگائی کاہائیڈروجن بم

faizi ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ خبریں گردش میں ہیں بلکہ مصدقہ اطلاعات آرہی ہیں کہ بجٹ کی منظوری پر تالیاں بجاتے ہی حکومت نے گیس کے نرخوں میں اضافہ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے اس فیصلے کا اعلان یکم جولائی سے پہلے کسی بھی منحوس اور سبز قدم ساعت کو کیا جائے گا خبر کی تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمتوں میں صرف 1 5 فیصد اضافہ ہوگا سی این جی گاڑیوں کے لئے گیس کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافہ ہوگا کارخانوں کے لئے گیس کی قیمتیں53 فیصد مہنگی ہوجائینگی گویا ٹرانسپورٹ اور صنعتی صارفین کے لئے گیس جتنا مہنگا ہوگا وہ بھی بم بن کرگھریلو صارفین پر گریگا اب ٹرانسپورٹ والے یا کارخانے والے مہنگائی کو صارفین تک فوراً منتقل کرینگے اس طرح معمولی حساب کے مطابق گھریلو صارفین مزدور ، کسان ،غریب ،بے روزگار ،معذور ،بیمار اور خواتین کو 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا ہر بجٹ میں ،بجٹ سے پہلے یا بجٹ کے بعد عوام کے خلاف مہنگائی کا بم گرایا جاتا ہے اس بم کو کسی نہ کسی مناسبت سے جواز بھی فراہم کیا جاتاہے اور نام بھی دیا جاتا ہے مثلاً میاں نواز شریف کی پہلی حکومت میں وزارت خزانہ کا قلمدان موجودہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے پاس تھا انہوں نے بجلی کو مہنگا کرنے کا بہانے بتاتے ہوئے کہا کہ فی یونٹ خرچہ قیمت فروخت سے بڑھ گیا ہے اس لئے بجلی پر اضافی سرچارج لگایا جارہا ہے انہوں نے عوام پر مہنگائی کا جو بم گرایا اس کو سرچارج کا نام دیا جواب میں عوام اور میڈیا نے سرتاج عزیز کا نام سر چارج عزیز رکھ لیا اپنی دوسری حکومت میں میاں نواز شریف نے تیل کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ کیا تو اس کا یہ جواز پیش کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوگیا ہے اگر 1999 ء میں پرویز مشرف اقتدار میں نہ آتے تو اب تک تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہوتیں موجودہ سال گیس کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں تھا نہ عالمی مارکیٹ کا کوئی بہانہ مل سکتا تھا نہ ملکی پیدوار میں کمی کا جواز بن سکتا تھا اس لئے کسی جواز کے بغیر غریب آدمی کے لئے گیس جیسی نعمت کو 90 فیصد سے 93 فیصد تک مہنگا کردیا میڈیا نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی خبر کو ’’ہا ئیڈروجن بم ‘‘ کا نام دیا ہے ایک ممتاز کا رٹونسٹ نے میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار کو ریموٹ بٹن پر ہاتھ رکھ ڈرون جہاز اڑاتے ہوئے دکھایا ہے دوسری طرف غریب عوام کا ہجوم ہے ڈرون جہاز ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑنے کے بعد اس ہجوم کا رُخ کرتا ہے اور ہجوم پر ہائیڈروجن بم گراتاہے میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار اس پر تالیاں بجاتے ہیں اور v کا نشان بناکر اپنی وکٹری دکھاتے ہیں اگرچہ مہنگائی لانے کی اس کوشش کا کوئی جواز نہیں بتا یا گیا تاہم عوام کو معلوم ہے کہ اس کا جواز موجود ہے اور جواز یہ ہے کہ نئے مالی سال کے اندر حکو مت کو اپنی شاہ خرچیوں کے لیے نیا قرض مانگنے کی غرض سے انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ یعنی ائی ایم ایف کے پا س جانا ہے آئی ایم ایف کو اپنی کارکردگی دکھانی اور نیا قرضہ لینا ہے آئی ایم ایف والے غریب عوام کے دشمن ہیں عالمی ساہوکار 1970 ء میں پاکستان کے اندر 22 خاندانوں کی سرپرستی کرتے تھے 45 سال بعد 2015 ء میں آئی ایم ایف نے 200 خاندانوں کو اپنی گود لیا ہوا ہے 19 کروڑ پاکستانی عوام کا خون چوس کر 200 خاندانوں کی دولت میں اضافہ کیا جارہا ہے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں متوسط طبقہ ختم ہورہا ہے غربت میں اضافہ کیاجارہا ہے امیر کو امیر بنایا جارہا ہے آئی ایم ایف والے چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عوام کو جمہوریت سے مایوس کر دیا جائے مارشل لاء کو اُمید کی واحد کرن کے طور پر پیش کر دیا جائے مثلاً آپ اخبارات کی پرانی فائلیں نکال کر دیکھیں اکتوبر 1999 ء میں ملک دیوالیہ ہونے کی قریب تھا ورلڈ بینک ،پیرس کلب اور آئی ایم ایف کے قرضوں پر سود کی قسط ادا کر نے کے پیسے نہیں تھے سود کی شرح میں اضافہ کر کے قرضوں کو ری شیڈول کیا گیا تھا اکتوبر 1999 ء میں فوجی حکومت آگئی اگست 2001 ء میں حکومت کے دوسال بھی پورے نہیں ہوئے تھے فوجی حکومت نے ورلڈ بینک پیرس کلب اور آئی ایم ایف کے پروگرام سے باہر نکلنے کا اعلان کیا اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ دوسالوں کے اندر ملکی معیشت مستحکم ہوچکی ہے ہم پرانے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے قابل ہوگئے نیا قرضہ لینے کی ضرورت نہیں عالمی ساہوکار کو الوداع ، آئی ایم ایف کو بائے بائے ،ٹاٹا اس کے مقابلے میں جمہوری حکومت کے دو سال پورا ہونے کے بعد آئی ایم ایف کو خوش کر کے مزید قرض لینے کے لئے عوام پر مہنگائی کا ہایڈروجن بم گرایا جاراہے ۔مرزا غالب نے کیا بات کہی ہے یار ب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھینگے مری بات دے اور دل اُن کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور]]>

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *