Site icon Chitral Today

Women protesters block road against prolonged power cuts

protest جغور میں خواتین نے میونسپل کمیٹی چوک میں کئی گھنٹوں تک چترال پشاور روڈ کو بند کیا ، احتجاجی جلسہ منعقد کیا اور میگا فون پر حکومت ،انتظامیہ چترال کے نمایندگان کو شدید تنقید کا نشانہ بنا یا ۔ احتجاجی خواتین نے ایک مرحلے میں پٹرول لے کر دنین واپڈا آفس کو جلانے کی کوشش کی ۔ تاہم ایس ایچ او تھانہ چترال سلطان بیگ کی مصالحتی کوشش کامیاب ہوئی ۔ اور وہ راستے سے واپس آئے ۔ احتجاج کے دوران ہمارے نمائندے سے خصوصی بات چیت کرتی ہوئی اے این پی شعبہ خواتین چترال کی صدر خدیجہ سردار نے کہا ۔ کہ چترال میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔ نمائندگی کا دعوی کرنے والے ایم این اے اور ایم پی ایز چترالی عوام کو بھول چکے ہیں ۔ اس لئے لوگ ، غربت ، بے روزگاری اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب سہنے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ دنیا میں شاید کوئی جگہ ایسا ہو ۔ جہاں آڑتالیس گھنٹوں میں صرف دو گھنٹے بجلی دی جارہی ہو ۔ اور وہ بھی کم وولٹیج کی وجہ سے کسی کام کا نہ ہو ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ لوڈ شیڈنگ کیلئے کوئی طریقہ اور شیڈول ہونا چاہئے ۔ خدیجہ نے کہا ۔ کہ چترال کی خواتین اب حکومت کی طرف سے مزید ظلم و زیادتی برداشت نہیں کریں گی ۔ اور حکومتی جبر کا آ ہنی ہاتھوں سے متحد ہوکر جواب دیا جائے گا ۔ انہوں نے چترال کے مردوں کوشدید تنقید کا نشانہ بنا یا ۔ کہ وہ اپنے حقوق کیلئے حکومت پر دباؤ نہیں ڈالتے ۔ جس کی وجہ سے اُنہیں مجبورا باہر نکلنا پڑا ہے ۔ بعد آزان اسسٹنٹ کمشنر چترال سعید قیصرانی کی شام تک بجلی کی بحالی کی یقین دھانی کے بعد مظاہرین خواتین نے مشروط طور پر روڈ کھول دی ۔ روڈ کی بندش کے دوران چترال پشاور اور اطراف کے علاقوں کو جانے والے مسافروں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ قبل ازین ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کے وکلاء نے پی آئی اے چوک چترال میں احتجاجی جلسہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے تین دن کی ڈیڈ لائین دی ۔ اور اپنے خطاب میں عبد الولی خان ایڈوکیٹ ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ اور ساجد اللہ ایڈوکیٹ نے ناروا لوڈ شیڈنگ کو مرکزی و صوبائی حکومت ،چترال کے نمایندگان اور انتظامیہ کی نا اہلی قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ تین دن کے اندر اس کیلئے مناسب طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے ۔<a انہوں نے کہا ۔ کہ گھروں سے لے کر بازاروں تک بجلی کی وجہ سے عوام انتہائی پریشان ہیں۔ لیکن متعلقہ اداروں کی کانوں تک جوں نہیں رینگتی ۔اُس کے بعد وکلاء برادری ریلی کی صورت میں ڈی سی آفس گئے وہاں وفد کی صورت میں ڈی سی سے ملاقات کیں اور تین دن کے اندر اندر بجلی کا مسئلہ حل کرانے پر زور دیا گیا۔پاؤر کمیٹی چترال کے وفد نے بھی ڈی سی چترال سے بجلی کی سنگین صورت حال سے نمٹنے کے لئے ڈی سی چترال سے ملاقات کیں ۔جسمیں چترال ٹاون کو چترال پاؤر ہاؤس سے بجلی کی فراہمی اور ڈیزل جنریٹر چالو کرکے رمضان المبارک میں کم وولٹیج اورلوڈ شیڈنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا۔ درین اثنا دروش کے عوام نے بھی لوڈ شیڈنگ کے سلسلے میں شدید احتجاج کرتے ہوئے چترال پشاور روڈ بند کردی ۔ جس کی وجہ سے مسافروں کو بری طرح مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایک مسافر وقار احمد نے فون پر بتایا ۔ کہ چترال پشاور مین روڈ عوام نے احتجاج کرکے جبکہ متبادل پرانا روڈ چترال سکاؤٹس نے بند کردیا ہے ۔ جس کی وجہ سے بچے بوڑھے ، بیمار اور خواتین مسافرایک مصیبت سے دوچار ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ لوگوں پر جومشکلات ڈھائے جارہے ہیں ۔ اُس سے مایوسی اور احساس محرومی میں پل پل اضافہ ہورہا ہے ۔ اور لوگوں کا قوت برداشت اور غم و غصہ اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے ۔ کیا تبدیلی اسے کہا جاتا ہے؟]]>

Exit mobile version