A breakthrough in archaeology research

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے مختلف مقامات پر ہزاروں سال پرانے آثار قدیمہ کے نوادرات، اجتماعی قبریں دریافت ہونے سے تاریخ کے حوالے سے تحقیق کرنیوالوں کیلئے ایک نیا باب کھل چکا ہے۔

سینگور کے گان کورینی کے مقام پر آرئین قوم کی قبریں کھدائی کے دوران نکل چکی ہیں۔ عبدالحمید جو ہزارہ یونیورسٹی میں آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر ہے کا کہنا ہے کہ یہ آرئین اور انڈین آرئین قوم کی قبریں ہیں، ان کی مذہبی رسومات کے مطابق مرد حضرات کے ساتھ قبر میں ان کی متعلقہ چیزیں بھی رکھ دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرئین قوم پہلے باجوڑ، سوات، مہمند ایجنسی آئے تھے، اس کے بعد چترال آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کھدائی کے بعد تاریخ میں ایک نیا باب کھل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالاش قوم کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سکندر اعظم کی اولاد ہے مگر سائنسی تحقیق اور ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ کالاش سکندر اعظم کے اولاد نہیں ہیں اور وہ بھی آرئین تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں سینگور میں کھدائی شروع کروایا تھا جس میں ہمارے ساتھ بیرونی محققین بھی تھے، اطالوی محققین نے سوات میں جو کھدائی کی تھی اور چترال کے ساتھ ان کی بڑی ربط پایا گیا۔ آرئین لوگ بھی اپنے خواتین کی میت پر ان کی قبر میں ان کی کپڑے ، زیورات دفناتے تھے اور مرد کے ساتھ ان کی روزمرہ استعمال کی چیزیں دفناتے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ ، پروفیسر ڈاکٹر احمد حسن دانش اور دیگر محققین نے بھی اس پر تحقیق کیا۔ 1972 کے بعد اس سلسلے میں کافی کام ہوا اور یہ قبریں بارہ سو سال پہلے کی لگتی ہیں مگر بعض قبریں ہزاروں سال پرانی لگتی ہیں جس میں کئی قسم کی قبریں ہیں۔ سنگل قبریں ، ڈبل قبریں، اجتماعی قبریں بعض قبروں میں ایک مردہ دفنایا گیا ہے بعض میں دو اور بعض میں دو سے زیادہ میتوں کو دفنایا گیا ہے ۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس وقت میت کو ابال کر ان کی ہڈی کو کسی مٹی کے مرتبان میں رکھ کر دفناتے تھے اور یہاں کئی قسم کی ایسی قبریں بھی دریافت ہوئی ہیں تاہم ہزارہ یونیورسٹی کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ اور سٹاف نے ان ہڈیوں کو یہاں سے نکال کر مزید تحقیق کیلئے یونیورسٹی لے گئے ۔ان کھدائی سے یہ بات ثابت ہوئی کہ تاریخ اور آثار قدیمہ کے حوالے سے چترال کی دامن نہایت وسیع اور ذرخیز ہے، یہاں سینگور اور شالی کے مقام پر اب ایسے پہاڑی ہیں جن میں ہزاروں سال پرانی آثار نظر آتے ہیں۔ان اثاثہ جات کو محفوظ کرنے کیلئے چترال میں ایک میوزیم (عجایب گھر) بھی تعمیر کیا گیا ہے جن میں کالاش اور دیگر قوموں کی تاریخی ورثہ کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس بابت مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہاں تاریخ کا یہ چھپا ہوا خزانہ عیاں ہوکر محققین اور تاریخ کے طلباء کیلئے معلومات کا باعث بن سکے۔

]]>