Site icon Chitral Today

Kalash spring festival overshadowed by elder's death

چترال ( بشیر حسین آزاد) کالاش مذہب کے معروف ترین پیشوا خوش نواز گذشتہ روز 87سال کی عمر میں اپنے گھر واقع رمبور میں انجہانی ہو گئے ۔ اُن کی موت پر کالاش قبیلے نے سات دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے ۔ اس مذہبی پیشوا کی موت پر کالاش قبیلے کا تہوار چلم جوشٹ ( جوشی ) کی تیاریاں بھی ماند پڑ گئی ہیں

خوش آواز کالاش قبیلے کیلئے ایک اثاثہ کی حیثیت رکھتے تھے ۔ اُن کو کالاش تاریخ ، ثقافت اور مذہب پر عبور حاصل تھا ۔ اور اُن کی ہر بات سند کی حیثیت رکھتی تھی ۔ کالاش قبیلے کے نوجوان وزیر زادہ کے مطابق خوش نواز کی موت سے قبیلے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ کیو نکہ اُن کے پاس جو علم تھا ۔ وہ برادری میں کسی کے پاس نہیں ہے ۔ اُن کے مطابق انجہانی کی پیشنگوئیاں ہمیشہ سچ ثابت ہوئیں ۔ اور اُن کا براہ راست رابطہ دیوتاؤں کے ساتھ تھا ۔ جو کسی مصیبت کے آنے اور کسی اچھی خبر کے بارے میں قبیلے کو پیشگی معلومات دیتے تھے ۔ جس پر برادری اُن کے کہنے پر عمل کرتے ۔ اور بڑے حا دثات سے بچتے رہے ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ 2010کے سیلاب سے پہلے اُس نے پیشنگوئی کرتے ہوئے قبیلے کے لوگوں کو ایک مصیبت کے آنے کی اطلاع دی ۔ اور اُس سے نجات حاصل کرنے کیلئے دیوتا پاڑی مہین (PARI MAHIN)کے حضور بکروں کی قربانی دینے کا حکم دیا ۔ لیکن قبیلے کے بعض لوگوں نے اس بنا پر اُن کی بات پر کان نہیں دھرا ۔ کہ اُس وقت بارش کے اثار تھے اور نہ سیلاب کے امکانات نظر آرہے تھے ۔ لیکن اُس کے چند دن بعد بارشوں کے نتیجے میں جو سیلاب آیا وہ تباہ کُن تھا ۔ آج بھی کالاش ویلی کے لوگ اپنے اُس غلطی کا واشگاف الفاظ میں اقرار کر رہے ہیں ۔ خوش نواز نے گذشتہ چالیس سال سے کالاش قاضی کے طور پر مذہبی خدمات انجام دیں ۔ خوش نواز کا لاش مذہب ، تاریخ اور ثقافت پر تحقیق کرنے والوں کیلئے بھی انتہائی اہمیت کے حامل رہے ۔

درجنوں ملکی اور غیر ملکی مصنفین نے ااُن کی معلومات سے استفادہ کیا ، اور صاحب کتاب ہو گئے ۔ وہ رسومات کی ادائیگی کی وجوہات اور مقاصد کے بارے میں مکمل معلومات کا خزانہ تھے ۔ اُن کو کالاش قبیلے میں غمی اور خوشی کے موقع پر آباواجداد کی تعریف اور اُن کے کارناموں کے بیان کا ملکہ حاصل تھا ۔ جو کہ کالاش مذہب کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اُن کو ایسے مواقع پر تینوں کالاش ویلز میں خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا ۔ جہاں وہ اپنے مخصوص انداز میں اپنے معلومات کے مطابق وہ قدیم تاریخی کارنامے بیان کرتے ۔ جنہیں برادری کے مردو خواتین انتہائی انہماک اور توجہ سے سُن کر دل میں اُتار دیتے ۔ اُن کو مذہبی تہوار چوموس ( چتر مس ) اور جوشی ( چلم جوشٹ ) نیز دوسرے مو اقع پر گائے جانے والے لوک گیتوں پر بھی عبور حاصل تھا ۔ اور وہ وقت اور موقع کی مناسبت سے یہ گیت گانے کا حکم کرتے ۔ اور برادری کے مردو خواتین یہ گیت گاتیں ۔ خوش نواز کی موت سے کالاش تاریخ کا ایک اہم باب بند ہو گیا ہے ۔ اور تینوں وادیوں میں کالاش قبیلے کے لوگ انتہائی افسردہ ہیں ۔

]]>
Exit mobile version